حضرت مولانا محمد قمر الزماں ندوی صاحب
موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ یوپی
ہندوستان اور افغانستان کے تعلقات، معیشت، امن، اور مستقبل کے امکانات و اندیشے کے حوالے سے ذیل کی تحریر ہم پیش کر رہے ہیں، اس حقیقت کے اظہار کے ساتھ کے جب کسی معاملہ کے کئی پہلو اور جہتیں ہوں تو اس میں جو اہم پہلو اور بنیادی جہت ہو گفتگو اس پر ہونی چاہیے نہ کہ ضمنی اور غیر اہم موضوع سے متعلق ۔
ہندوستان اور افغانستان تاریخی، ثقافتی، تہذیبی، تجارتی اور سماجی رشتوں میں صدیوں سے بندھے ہوئے ہیں، دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات بہت قدیم ہیں۔ اگرچہ وقت کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں نشیب و فراز اور اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں عالمی، علاقائی، اور داخلی حالات نے اس تعلق کو نئے تناظر میں لا کھڑا کیا ہے۔ آج، جب دنیا بین الاقوامی تعاون، اقتصادی روابط، اور خطے میں استحکام پر زور دے رہی ہے، تو ہندوستان اور افغانستان کے مابین مثبت تعلقات نہ صرف دونوں ممالک کے لیے بلکہ پورے جنوبی ایشیاء کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ ہندوستان اور افغانستان کے تعلقات کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے۔ قندھارا تہذیب سے لے کر مغل دور تک، دونوں خطے علمی، تجارتی، اور ثقافتی و معاشرتی تبادلوں میں منسلک رہے۔ برطانوی استعمار کے دور میں بھی افغانستان کو ہندوستان کے "دروازے” کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔
1947ء کے بعد آزاد ہندوستان نے افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھنے کی پالیسی اپنائی۔ 1950ء کی دہائی میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی معاہدے اور ثقافتی تبادلے ہوئے، تاہم 1979ء میں سوویت یونین کے افغانستان پر قبضے اور اس کے بعد کے داخلی انتشار و خلفشار نے تعلقات کو متاثر کیا۔
نئی صدی کے آغاز سے لے کر طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے (اگست 2021) تک، ہندوستان نے افغانستان میں تعمیر نو کے عمل میں سرگرم کردار ادا کیا۔ سڑکیں، اسپتال، اسکول، ڈیمز اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے منصوبے ہندوستانی تعاون سے مکمل ہوئے۔ بھارت نے افغانستان کو دو ملین ڈالر سے زائد کی امداد فراہم کی، جو خطے میں اس کی مثبت شبیہ کو مستحکم کرتا ہے۔
تاہم، طالبان حکومت کے دوبارہ قیام کے بعد ہندوستانی سفارتی موجودگی محدود ہو گئی ، تعلقات و روابط پہلے سے کمزور ہوئے، اس کے باوجود، ہندوستان نے انسانی بنیادوں پر امداد، گندم، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی جاری رکھی، جو اس کے غیر مشروط تعاون کے جذبے کو ظاہر کرتا ہے۔
اگر افغانستان میں امن و استحکام بحال ہوتا ہے، بلکہ اب تو ہر طرح سے امن و امان بحال ہو چکا ہے اور افغانستان ہر میدان میں ترقی کی راہ پر گامزن ہے، تو ہندوستان کے لیے کئی معاشی مواقع جنم لیں گے، جس کو ہم نمبر وار شمار کراتے ہیں:
- وسائل تک رسائی: افغانستان معدنیات اور قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے، جن میں لیتیھیم، تانبا، لوہا اور دیگر قیمتی دھاتیں شامل ہیں۔ ہندوستان ان وسائل کو حاصل کر کے اپنی صنعتی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔
- منڈی کی وسعت: افغانستان ایک ابھرتی ہوئی مارکیٹ ہے جہاں بھارتی مصنوعات کو کھپت مل سکتی ہے، خاص کر دوائیں، کپڑا، زرعی مصنوعات، اور تعلیمی خدمات وغیرہ۔
- علاقائی تجارت: اگر افغانی بندرگاہ اور ایران کے ذریعے وسطی ایشیا تک رسائی ممکن ہو، تو افغانستان ایک اہم تجارتی راہداری بن سکتا ہے، جس سے بھارت کے لیے نئی منڈیاں کھل سکتی ہیں۔
- ترسیلات زر اور روزگار: افغانستان میں بھارتی کمپنیاں کام کر سکتی ہیں، جس سے دونوں طرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
5/ امن و سلامتی پر اثرات
ہندوستان اور افغانستان کے مستحکم تعلقات کا براہِ راست اثر جنوبی ایشیاء کے امن و امان پر پڑتا ہے۔
ساتھ ہی دونوں ممالک کو چونکہ بعض موقع شدت پسندی کا سامنا کرنا پڑتا ہے،۔ مشترکہ تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ، اور سرحدی سیکیورٹی کے شعبے میں اشتراک سے دہشت گرد عناصر کی سرگرمیاں محدود ہو سکتی ہیں۔
پاکستان کے ساتھ خارجہ تعلق میں توازن، افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات بھارت کو علاقائی سیاست میں ایک متوازن حیثیت دے سکتے ہیں، جہاں وہ نہ صرف پاکستان بلکہ چین کے ساتھ بھی ایک مؤثر سفارتی کردار ادا کر سکتا ہے۔
ثقافتی روابط کے ذریعے نرمی: تعلیمی وظائف، ثقافتی پروگرام، اور عوامی سطح پر رابطے دونوں ممالک میں اعتماد سازی کو فروغ دے سکتے ہیں۔
خارجہ پالیسی: ماضی، حال اور مستقبل کے حوالے سے اگر ہم گفتگو کریں تو
ہندوستان نے ہمیشہ افغانستان کو ایک خودمختار ملک کے طور پر تسلیم کیا اور اس کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی اپنائی۔ یہ ایک مستحکم اور خودکفیل افغانستان کا خواہاں رہا ہے۔
طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ہندوستان نے محتاط رویہ اختیار کیا، مگر مکمل سفارتی تعلقات ختم نہیں کیے۔ کابل میں محدود سفارتی موجودگی، اور انسانی امداد کے ذریعے تعلقات برقرار رکھے جا رہے ہیں۔
اگر طالبان حکومت اسی طرح اعتدال پسندی کی طرف بڑھتی ہے، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کا احترام کرتی ہے اور بین الاقوامی معیارات کو تسلیم کرتی ہے، تو بھارت مکمل سفارتی بحالی کی طرف قدم بڑھا سکتا ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسی افغانستان کے استحکام، خودمختاری، اور ترقی کے اصولوں پر مبنی رہے گی۔
ہندوستان اور افغانستان کے تعلقات کی بہتری نہ صرف دونوں ملکوں کی معیشت کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے بلکہ یہ خطے میں امن و سلامتی کا سنگ میل بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک حقیقت پسند، دور اندیش اور انسانی بنیادوں پر مبنی خارجہ پالیسی، باہمی عزت اور تعاون کے اصولوں پر استوار ہو کر جنوبی ایشیا میں استحکام اور خوشحالی لا سکتی ہے۔
ہندوستان کو چاہیے کہ وہ افغانستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے، سفارتی تعلقات مضبوط کرے، خواہ وہ انسانی ہمدردی کے تحت ہو یا تعلیمی و اقتصادی میدان میں، کیونکہ ایک مستحکم افغانستان پورے خطے کی ترقی کی ضمانت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امیر خان متقی کا ہندوستان کا حالیہ دورہ امکانات و خدشات ،سفارتی رابطے یا فکری آزمائش پر ہم اپنی طرف سے کچھ نہ لکھ کر معروف تجزیہ نگار جناب
✍🏻:- محمد ہارون صاحب کی ایک تحریر پیش کرتے ہیں جو اس موضوع پر ایک چشم کشا تحریر ہے ، لیکن یہاں بھی مضمون نگار کے تمام شقوں اور آراء سے اتفاق کرنا، قارئین کے لیے ضروری نہیں ہے ۔۔
ہارون صاحب افغان وزیر خارجہ کے حالیہ دورہ کے تعلق سے لکھتے ہیں:
"افغانستان کے وزیرِ خارجہ مولوی امیر خان متقی کا حالیہ ہندوستانی دورہ یقینا ایک تاریخی واقعہ ہے۔ طالبان حکومت کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد یہ بھارت کا پہلا اعلیٰ سطحی سفارتی رابطہ ہے، جس نے جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے عائد سفری پابندیوں کے باوجود امیر خان متقی کو خصوصی اجازت نامہ دیا جانا بذاتِ خود عالمی سطح پر طالبان حکومت کی ایک نرم شناخت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ وہ بھارت میں اپنے ہم منصب ڈاکٹر ایس جے شنکر اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال سے ملاقاتیں کر رہے ہیں جن میں علاقائی سلامتی، انسدادِ دہشت گردی اور دوطرفہ تعلقات جیسے حساس موضوعات زیر بحث آئیں گے۔
یہ امر اپنی جگہ اہم ہے کہ بھارتی حکومت نے تاحال طالبان حکومت کو باقاعدہ تسلیم نہیں کیا ہے، اسی لیے متقی کی وزیراعظم یا صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کا کوئی پروگرام طے نہیں کیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود انہیں ایسی سطح پر مدعو کیا جانا اس بات کی علامت ہے کہ بھارت طالبان سے براہِ راست رابطے کے راستے کھولنا چاہتا ہے تاکہ خطے میں چین، روس اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے اثرات کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔
تاہم، اس دورے کا ایک پہلو جس نے ملک کے فکری و مذہبی حلقوں میں خاصی بحث چھیڑ دی ہے، وہ ہے امیر خان متقی کا دارالعلوم دیوبند کا متوقع دورہ۔
دارالعلوم دیوبند صرف ایک دینی ادارہ نہیں بلکہ ایک عالمی علمی تحریک کا مرکز ہے جس نے ایک صدی سے زیادہ عرصہ علم و عمل، اعتدال و اصلاح اور آزادیِ فکر کی بنیادوں پر امت کی رہنمائی کی ہے۔ طالبان کے فکری ماخذ کو بعض تجزیہ نگار دیوبند سے جوڑتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دیوبند نے ہمیشہ علم، امن، اور اعتدال کا پیغام دیا ہے، جبکہ طالبان کا سیاسی طرزِ عمل دیوبندی فکر کی علمی تعبیر سے بالکل مختلف ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امیر خان متقی کے ممکنہ دورۂ دیوبند پر سنگھی عناصر اور گودی میڈیا نے اپنی روایتی نفرت انگیز مہم شروع کر دی ہے۔ وہ اس ملاقات کو ایسے انداز میں پیش کر رہے ہیں جیسے دارالعلوم کسی "انتہا پسند نظریے” کی پشت پناہی کر رہا ہو۔ حالانکہ دیوبند کا کردار ہمیشہ ملکی سالمیت، امن و رواداری کے حق میں رہا ہے۔ یہ وہی ادارہ ہے جس نے 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد ملت کو علم و دین کی بنیاد پر منظم کیا، اور برطانوی استعمار کے خلاف فکری محاذ قائم کیا۔
لہٰذا امیر خان متقی کا یہ دورہ جہاں سفارتی سطح پر ایک نیا باب کھولتا ہے، وہیں فکری و مذہبی حلقوں کے لیے ایک آزمائش بھی بن کر آیا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کو اپنی روایت کے مطابق علمی وقار اور اعتدال کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ کوئی بھی طاقت اس کے کردار کو مشکوک نہ بنا سکے۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے اندر ہر وہ شخصیت یا ادارہ جو مسلم شناخت کا حامل ہو، آج سنگھی پروپیگنڈے کا نشانہ بنتا جا رہا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہم دارالعلوم دیوبند جیسے اداروں کے دفاع میں علمی اور دلیل پر مبنی موقف اختیار کریں، تاکہ مذہبی تشخص کو سیاسی منافقت کی بھینٹ نہ چڑھنے دیا جائے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ امیر خان متقی کا یہ دورہ محض ایک سیاسی یا سفارتی واقعہ نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے فکری توازن کی ایک علامت ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بھارت اس موقع کو مکالمے کی راہ میں استعمال کرتا ہے یا نفرت کے ایجنڈے میں؟ اور دارالعلوم اس موقع کو علمی حکمت کے ساتھ تاریخ کے ایک نئے باب میں کیسے محفوظ کرتا ہے”۔
نوٹ/ واوین کی تحریر محترم جناب ہارون صاحب کی ہے اور ان کا یہ تجزیہ اور تبصرہ ہے۔