امیر خان متقی کا ہندوستانی دورہ سفارتی رابطے یا فکری آزمائش؟


✍🏻:- محمد ہارون
افغانستان کے وزیرِ خارجہ مولوی امیر خان متقی کا حالیہ ہندوستانی دورہ یقینا ایک تاریخی واقعہ ہے۔ طالبان حکومت کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد یہ بھارت کا پہلا اعلیٰ سطحی سفارتی رابطہ ہے، جس نے جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے عائد سفری پابندیوں کے باوجود امیر خان متقی کو خصوصی اجازت نامہ دیا جانا بذاتِ خود عالمی سطح پر طالبان حکومت کی ایک نرم شناخت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ وہ بھارت میں اپنے ہم منصب ڈاکٹر ایس جے شنکر اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال سے ملاقاتیں کر رہے ہیں جن میں علاقائی سلامتی، انسدادِ دہشت گردی اور دوطرفہ تعلقات جیسے حساس موضوعات زیر بحث آئیں گے۔

یہ امر اپنی جگہ اہم ہے کہ بھارتی حکومت نے تاحال طالبان حکومت کو باقاعدہ تسلیم نہیں کیا ہے، اسی لیے متقی کی وزیراعظم یا صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کا کوئی پروگرام طے نہیں کیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود انہیں ایسی سطح پر مدعو کیا جانا اس بات کی علامت ہے کہ بھارت طالبان سے براہِ راست رابطے کے راستے کھولنا چاہتا ہے تاکہ خطے میں چین، روس اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے اثرات کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔
تاہم، اس دورے کا ایک پہلو جس نے ملک کے فکری و مذہبی حلقوں میں خاصی بحث چھیڑ دی ہے، وہ ہے امیر خان متقی کا دارالعلوم دیوبند کا متوقع دورہ۔
دارالعلوم دیوبند صرف ایک دینی ادارہ نہیں بلکہ ایک عالمی علمی تحریک کا مرکز ہے جس نے ایک صدی سے زیادہ عرصہ علم و عمل، اعتدال و اصلاح اور آزادیِ فکر کی بنیادوں پر امت کی رہنمائی کی ہے۔ طالبان کے فکری ماخذ کو بعض تجزیہ نگار دیوبند سے جوڑتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دیوبند نے ہمیشہ علم، امن، اور اعتدال کا پیغام دیا ہے، جبکہ طالبان کا سیاسی طرزِ عمل دیوبندی فکر کی علمی تعبیر سے بالکل مختلف ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امیر خان متقی کے ممکنہ دورۂ دیوبند پر سنگھی عناصر اور گودی میڈیا نے اپنی روایتی نفرت انگیز مہم شروع کر دی ہے۔ وہ اس ملاقات کو ایسے انداز میں پیش کر رہے ہیں جیسے دارالعلوم کسی "انتہا پسند نظریے” کی پشت پناہی کر رہا ہو۔ حالانکہ دیوبند کا کردار ہمیشہ ملکی سالمیت، امن و رواداری کے حق میں رہا ہے۔ یہ وہی ادارہ ہے جس نے 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد ملت کو علم و دین کی بنیاد پر منظم کیا، اور برطانوی استعمار کے خلاف فکری محاذ قائم کیا۔
لہٰذا امیر خان متقی کا یہ دورہ جہاں سفارتی سطح پر ایک نیا باب کھولتا ہے، وہیں فکری و مذہبی حلقوں کے لیے ایک آزمائش بھی بن کر آیا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کو اپنی روایت کے مطابق علمی وقار اور اعتدال کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ کوئی بھی طاقت اس کے کردار کو مشکوک نہ بنا سکے۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے اندر ہر وہ شخصیت یا ادارہ جو مسلم شناخت کا حامل ہو، آج سنگھی پروپیگنڈے کا نشانہ بنتا جا رہا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہم دارالعلوم دیوبند جیسے اداروں کے دفاع میں علمی اور دلیل پر مبنی موقف اختیار کریں، تاکہ مذہبی تشخص کو سیاسی منافقت کی بھینٹ نہ چڑھنے دیا جائے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ امیر خان متقی کا یہ دورہ محض ایک سیاسی یا سفارتی واقعہ نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے فکری توازن کی ایک علامت ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بھارت اس موقع کو مکالمے کی راہ میں استعمال کرتا ہے یا نفرت کے ایجنڈے میں؟ اور دارالعلوم اس موقع کو علمی حکمت کے ساتھ تاریخ کے ایک نئے باب میں کیسے محفوظ کرتا ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔