تعلیم کے نام پر چیخنا چلانا تربیت ہے یا نفسیاتی قتل؟

معلمینِ مکتب کے لیے ایک بہترین تحریر
{افکارِ تازہ}
عنوان: تعلیم کے نام پر چیخنا چلانا تربیت ہے یا نفسیاتی قتل؟
✍️ محمد زکریا اچلپوری | خادم: مکتب الصفہ اچلپور

مکتب اور مدرسہ وہ مقدس جگہ ہے جہاں بچوں کے دلوں میں دین کی محبت اور قرآن کریم کا نور داخل کیا جاتا ہے۔
اس نازک ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے اساتذہ اور معلمین کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ دین کا پہلا سبق ہی "رحمت” ہے۔
تعلیم و تعلم کا عمل صرف معلومات کی منتقلی کا نام نہیں، بلکہ یہ کردار سازی کا ایک طویل سفر ہے۔ خاص طور پر مکتب اور مدرسے کا ماحول، جہاں بچہ اللہ تعالی کا کلام اور دین کی بنیادی باتیں سیکھنے آتا ہے، وہاں اساتذہ کا رویہ براہِ راست اس کے ایمان اور شخصیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔
اگر مکتب کے بچوں پر بے جا سختی کی جائے یا ان پر چیخا چلایا جائے، تو ان کے معصوم ذہنوں میں دین اور تعلیمِ دین کا تصوّر "خوف” اور "سزا” سے جڑ جاتا ہے۔ یہ سختی انہیں علم سے دور کر سکتی ہے۔
​ استاد کا رعب اس کی بلند آواز میں نہیں، بلکہ اس کے اخلاق اور علم میں ہوتا ہے۔ جب ایک معلم بچوں کے ساتھ نرمی برتتا ہے، تو بچے ڈر کے مارے نہیں، بلکہ محبت اور عزت کی وجہ سے ان کی بات مانتے ہیں۔

چیخنے چلانے کے نفسیاتی اور علمی نقصانات
جدید نفسیات اور تعلیمی ماہرین اس بات پر متفق ہیں (جس کا ذکر تین روزہ تعلیمی وتربیتی ورکشاپ پتھروٹ میں، مجدد مکاتب حضرت مولانا اسماعیل صاحب کاپودروی نے بھی کیا )کہ جب کسی طالب علم پر چیخا جاتا ہے، تو اس کے دماغ کا وہ حصہ جو "سیکھنے” کا ذمہ دار ہے، کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور وہ حصہ متحرک ہو جاتا ہے جو اسے "دفاع” یا "خوف” پر ابھارتا ہے۔
بچہ سبق یاد کرنے کے بجائے صرف سزا سے بچنے کی فکر میں رہتا ہے۔
اور مسلسل ڈانٹ ڈپٹ سے بچہ سوال پوچھنے سے کترانے لگتا ہے، جس سے اس کی علمی پیاس مر جاتی ہے۔

دین سے بیزاری کا خاموش سبب
سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بچہ غیر شعوری طور پر اس سختی کو "دین” کے ساتھ جوڑ لیتا ہے۔
وہ سمجھتا ہے کہ دین سیکھنا ایک مشکل اور تکلیف دہ عمل ہے۔
ایسے بچے بڑے ہو کر اکثر مدارس اور دینی حلقوں سے دور بھاگنے لگتے ہیں کیونکہ ان کی بچپن کی یادیں تلخ ہوتی ہیں۔

معلمِ انسانیت ﷺ کا طریقہ
ہمارے نبی کریم ﷺ تاریخ کے سب سے عظیم معلم ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ​
"عَلِّمُوا وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا، وَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْكُتْ” (​مسند احمد: حدیث نمبر 2136 (راوی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما |
​الجامع الصغیر (علامہ سیوطی): حدیث نمبر 5556)
ترجمہ: تعلیم دو اور آسانی پیدا کرو، سختی نہ کرو؛ خوشخبری سناؤ اور متنفر نہ کرو؛ اور جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو وہ خاموش ہو جائے۔ اللہ اکبر کتنی واضح دلیل ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دس سال آپ ﷺ کی خدمت کی، آپ ﷺ نے کبھی مجھے "اُف” تک نہیں کہا اور نہ ہی کبھی یہ پوچھا کہ یہ کام کیوں کیا اور یہ کیوں نہیں کیا۔
دینی تعلیم کا مقصد دلوں میں اللہ تعالی کی محبت پیدا کرنا ہے، اور محبت کبھی بھی "چیخنے” یا "سختی” سے پیدا نہیں کی جا سکتی۔

سختی کے بغیر نظم و ضبط
نرمی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ بچوں کو بالکل کھلا چھوڑ دیا جائے، بلکہ نظم و ضبط قائم کرنے کے بہتر طریقے موجود ہیں:
ہر بچہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کچھ بچے اشارے سے سمجھ جاتے ہیں، تو کچھ کو پیار سے سمجھانا پڑتا ہے۔
غلطی پر سزا دینے کے بجائے، اچھا کام کرنے پر حوصلہ افزائی اور چھوٹے چھوٹے انعامات کا سلسلہ شروع کریں۔

خاموشی کی طاقت
کبھی کبھی غصے میں چیخنے کے بجائے استاد کی خاموشی اور ناگواری کا اظہار بچے پر زیادہ گہرا اثر ڈالتا ہے۔

حاصلِ کلام
مکتب کے بچوں کے ساتھ ہمارا رویہ ایسا ہونا چاہیے کہ مکتب کی ابتدائی گھنٹی بجنے پر وہ ڈریں نہیں بلکہ خوشی سے دوڑتے ہوئے آئیں۔ یاد رکھیں! آپ کی نرمی ایک بچے کو "مصلح” بنا سکتی ہے، جبکہ آپ کی ایک چیخ اور سختی اسے ہمیشہ کے لیے علم کے راستے سے متنفر کر سکتی ہے۔

​”دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں ایک حقیقی معلم کی صفات سے مالامال فرمائے اور اپنی نسلوں کی بہترین تربیت کی توفیق عطا فرمائے۔” آمین یا رب العالمین
​”وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين”

27-12-2025
ہمارے گروپ کی لنک
https://chat.whatsapp.com/HPMNKEPjszB1YKrZmUJjJx

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔