حضرت مولانا محمد قمر الزماں ندوی
گزشتہ کل ہم لوگوں نے اجتماعی طور عید الاضحیٰ کی نماز اپنی اپنی عید گاہوں میں یا اپنی مسجدوں میں ادا کی ، اور پھر قربانی کے عمل میں مصرف ہوگئے ، یہ عمل تین دن تک جاری رہتا ہے ، بعض لوگوں کے یہاں چوتھے دن بھی اس کی گنجائش ہے، ان کے یہاں ایام تشریق کے سارے دن قربانی کے دن ہیں، قربانی کے دنوں میں نویں کی فجر سے لیکر تیرہویں کی عصر تک ہم لوگ بطور خاص ہر فرض نماز کے بعد بلند آواز میں تکبیر تشریق کہتے ہیں اور خدا کی وحدت و کبریائی اور اس کی بے پایاں حمد و ثنا کا اظہار کرتے ہیں ۔ عید الاضحیٰ وہ تاریخی اور یاد گار دن ہے ، جس میں حضرت ابراہیم و اسمعیل علیھیما السلام کی قربانی اللہ رب العزت نے قبول فرمائی اور امامت سے سرفراز کیا، اس دن ساری دنیا کے مسلمان اپنے اسلاف کی یاد تازہ کرکے بار گاہ ایزدی میں سجدئہ شکر نماز دگانہ کی شکل میں ادا کرتے ہیں، اور قربانی جیسا پاکیزہ عمل انجام دیتے ہیں۔
لیکن یاد رہے کہ قربانی کا مطلب صرف اتنا نہیں ہے کہ ہم ان مخصوص دنوں میں خدا کے نام پر اور خدا کی رضا کے لئے جانور ذبح کردیں اور اس کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کردیں خود کھائیں اور دوسروں کو بھی کھلائیں، اور خوشی و مسرت اظہار کرلیں ، قربانی کے جانور کو ذبح کرنا یہ تو صرف علامت ہے ،اصل اس عبادت اور اس واقعہ کے پیچھے بہت کچھ پیغام، درس، عبرت اور نصیحت ہے، جس سے سبق لینا اور جس کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا ضروری ہے ۔
پہلی چیز تو یہ ہے کہ یہ
قربانی ہمیں اطاعت کا درس ہے، جیسے حضرت ابراہیمؑ نے حکمِ الٰہی کے سامنے سر جھکا دیا، اور یہ ثابت کر دکھایا کہ
سر تسلیم خم جو مزاج یار میں آئے
ہمیں بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دینا چاہیے ۔
یہ قربانی ایثار اور خلوص کا مظہر ہے، اللّه کے لیے اپنی محبوب چیز کو قربان کرنا۔
یہ تقویٰ کی علامت ہے، ظاہری عمل سے بڑھ کر دل کی حالت کو اللّه دیکھتا ہے۔
یہ مساوات اور ہمدردی کی یاد دہانی ہے — قربانی کے گوشت میں محتاج، رشتہ دار اور دوست شامل کیے جاتے ہیں۔
یہ امتِ مسلمہ کے اتحاد کا دن ہے — تمام مسلمان ایک مقصد اور نیت سے ایک ساتھ عبادت کرتے ہیں۔
عیدِ قربانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ:
"جب اللّه کی رضا مقدم ہو جائے، تو دنیا کی ہر چیز قربان کی جا سکتی ہے۔”
عید الاضحی ہمیں قربانی، خلوص اور اطاعتِ الٰہی کا عظیم سبق دیتی ہے۔ اس دن کی اصل روح حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اُس عظیم قربانی کی یاد ہے، جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کا عزم کیا۔
"عید الاضحی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے اپنی پسندیدہ چیز بھی قربان کرنی پڑے تو دریغ نہ کیا جائے۔”
یہ قربانی صرف جانور کی نہیں بلکہ اپنے نفس، لالچ، تکبر، حسد، اور دنیاوی خواہشات کی بھی ہونی چاہیے۔ جب انسان سچی نیت اور خلوص کے ساتھ قربانی کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے تقویٰ کو قبول فرماتا ہے، نہ کہ محض جانور کے گوشت یا خون کو۔
قرآن مجید میں فرمایا گیا:
"اللہ کو نہ اُن (قربانی کے جانوروں) کا گوشت پہنچتا ہے، نہ خون، بلکہ اُس کو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔”
(سورۃ الحج، آیت 37)
اور بقول شخصے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” مسلمان کے اندر قربانی کی وہی روح، اسلام و ایمان کی وہی کیفیت اور خدا کے ساتھ محبت و وفاداری کی وہی شان پیدا ہو ،جس کا مظاہرہ حضرت ابراہیمؑ نے اپنی پوری زندگی میں کیا ہے۔ اگر کوئی شخص محض ایک جانور کے گلے پر چھری پھیرتا ہے اور اس کا دل اس روح سے خالی رہتا ہے تو وہ ناحق ایک جانور کا خون بہاتا ہے۔ خدا کو اس کے خون اور گوشت کی کوئی حاجت نہیں، وہاں تو جو چیز مطلوب ہے وہ دراصل یہ ہے کہ جو شخص کلمہ ’ لاالہ الا اللہ ‘ پر ایمان لائے وہ مکمل طور پر بندۂ حق بن کر رہے ،، کوئی تعصب، کوئی دلچسپی ، کوئی ذاتی مفاد، کوئی دباؤ اور لالچ ، کوئی خوف اور نقصان ، غرض کوئی اندر کی کمزوری اور باہر کی طاقت اس کو حق کے راستے سے نہ ہٹا سکے۔”
اللہ تعالیٰ ہمیں قربانی کی روح اس کی حقیقت، اس کے پیغام اور اس سے حاصل ہونے والے نتائج و عبر کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے آمین یا رب العالمین
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
مَکْتَبُ الصُّفَّهْ : دینی تعلیمی ادارہ
مقصد : نئی نسل کے ایمان کا تحفظ
Maktabus Suffah Ⓡ
👇🔻👇🔻👇🔻👇
www.MSuffah.com
https://telegram.me/MSuffah
https://youtube.com/@msuffah
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
♡ ㅤ ❍ㅤ ⎙ㅤ ⌲
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ