نگاہِ عشق و مستی میں وہی (ﷺ) اول و ہی آخر

اے زمیں از بارگاہت ارجمند 

کی محمد ﷺ سے وفا تو نے ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

جواب شکوہ کے آخر میں علامہ اقبال ہاتف غیبی کی زبان سے مسلمانوں کی وقعت و عظمت بتلاتے ہوئے کہتے ہیں،،

اقبال مرحوم ہمیشہ جدید تمدن اور تہذیب و ثقافت کے پرستاروں اور قومیت کے دلدادہ عربوں کو اپنے اصل مرکز اور مہبط رسول ﷺ کی طرف واپسی کی دعوت دیتے رہے ، ان کے اس پیغام اور دعوت کی تشریح اس شعر میں موجود ہے کہ
بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل
اس شہر کے خوگر کو پھر وسعت صحرا دے

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔