ہم دینی ماحول کیسے قائم کرسکتے ہیں؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ہم دینی ماحول کیسے قائم کرسکتے ہیں؟

محمد قمر الزماں ندوی
استاد / مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

موجودہ حالات میں ملک عزیز
ہندوستان کے مسلمان جن مسائل سے دو چار ہیں اور انہیں جن حالات، مشکلات اور چیلنجوں کا سامنا ہے، مجموعی طور پر ہم انہیں دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں ،پہلے حصہ میں وہ مسائل ہیں،جن کا تعلق ملکی نظام،حکومت کے قوانین ،عدالت کے فیصلوں ،اورانتظامیہ کے اقدامات یا اسکی طرف سے لئے جانے والے ایکشن سے ہے، ملک میں فسطائی طاقتوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی کاروائیاں اور میڈیا کی طرف سے مچائے جانے والے شور شرابہ ،واویلا اور غلط فہمیوں کو بھی ہم اسی زمرے میں رکھ سکتے ہیں ۔
دوسرے حصے میں وہ حالات یا مسائل ہیں، جن میں نہ تو حکومت دخیل اور ملوث ہے اور نہ ہی عدالت کے کسی قانون کا کوئی دخل ہے ، ان مسائل کا تعلق براہ راست مسلمانوں سے ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی بے دینی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان مسائل کے پیدا ہونے کا بنیادی سبب ہے ،یہ مسائل معاشی بھی ہیں اور معاشرتی بھی ،دینی مسائل میں مسلمانوں اور خاص کر نوجوان طبقہ کی اسلامی تعلیمات سے دوری سب سے اہم ہے۔نمازوں سے غفلت و بے پرواہی،روزہ کی پابندی نہ کرنا،زکوۃ کی ادائیگی کا عدم اہتمام صاحب استطاعت ہونے کے باوجود فریضئہ حج سے غفلت وغیرہ وہ امور ہیں جو بد قسمتی سے مسلم معاشرے میں بہ کثرت موجود ہیں ۔معاشرتی مسائل میں جہیز کے نام پر لین دین کی غیر اسلامی رسم و رواج سب سے اہم ہے،کتنی لڑکیاں ہیں جو اس کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں اور بے شمار ہیں، جو اب تک جہیز کا نظم نہ ہونے کی بنا پر اپنے گھروں پر بیٹھی ہیں، صرف حیدر آباد کے بارے میں یہ سروے ہے کہ یہاں پچاس ہزار سے زائد لڑکیاں ہیں، جن کی عمریں تیس سے پینتالیس کے درمیان ہیں اور اب تک وہ غربت کی وجہ سے بن بیاہی ہیں۔ایسی کئی ایک مسلم برادریاں ہیں، جن کے یہاں لین دین کو عملاً ایک معاشرتی قانون کا درجہ حاصل ہے، جہاں جہیز کے بغیر لڑکی کی شادی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ،جس میں بہار، مدھیہ پردیش ،جھارکھنڈ اتر پردیش ،بنگال اور راجستھان وغیرہ سر فہرست ہیں،اسی طرح شادی کے موقع پر دیگر رسومات کی انجام دہی پر بیجا روپیہ کا اسراف عام ہے، دینی کاموں میں انہیں خرچ کرنے کی توفیق نہیں ملتی ، بوڑھے والدین ،محتاج بھائی بہن روزی روٹی اور دوا کے لیے ترستے ہیں ، ان پر کوئی توجہ نہیں ، لیکن شادی بیاہ میں دکھاوے کے لیے لاکھوں خرچ کرنے میں دریغ نہیں کرتے،اخلاقی مسائل میں نوجوانوں میں محرمات کا ارتکاب،شراب نوشی کی کثرت ،جوا و قمار کی عادت ایک وبا کی طرح پھیل چکی ہے، نیز بعض موقع پر اجتماعی طور پر روپیہ جمع کرکے وہ امور انجام دے جاتے ہیں،جن کا اسلام سے اسلامی تعلیمات سے اور اسلام کی اصل روح سے کوئی تعلق نہیں ہے،تعزیہ داری اور محرم کے نام سے رسم و رواج اور خرافات میں بے دریغ روپیہ کا اسراف اس کی اہم مثال ہے ۔اس پر طرفہ یہ کہ اس کو خالص دینی عمل تصور کیا جاتا ہے ،نیز اس میں جن محرمات کا ارتکاب کیا جاتا ہے ،حقیقت یہ ہے کہ ان سب نے ایک نئے اسلام کو جنم دیا ہے ،جن کو ہم ہندوستانی اسلام تو کہ سکتے ہیں لیکن صحیح اسلام ہرگز نہیں ۔
باخبر ذرائع سے یہ خبر ملی ہے کہ وہ علاقے جہاں مسلمان بڑی تعداد میں ہیں ،جہاں بڑے بڑے دینی مدارس ہیں ،علماء، حفاظ قراء اور اہل علم و فضل کی کثرت ہے،وہاں کے مسلم نوجوانوں بھی بہت زیادہ شراب نوشی کے عادی ہیں، ابھی ایک صاحب نے مغربی یوپی اور سیمانچل کے بارے میں پوری تفصیل کیساتھ لکھا تھا کہ یہاں،شراب نوشی کا ماحول بہت زیادہ ہے ، یہ واقعہ اور صورت حال بہت افسوس ناک اور دردناک ہے کہ چراغ تلے اندھیرا ہے اور ہم اپنے گرد و پیش کے ماحول سے کس قدر غافل ہیں اور کس بے فکری میں پڑے ہوئے ہیں ۔
علی گڑھ، ہاتھرس ،خورجہ اور وہاں کے بعض اور قریبی ضلع میں میں آئے دن ارتداد کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں اور بے دینی اور جہالت کی وبا عام ہے ، ایسا محسوس ہی نہیں ہوتا کہ یہ وہ جگہ اور علاقہ ہے ،جہاں دنیا کی ایک بڑی دانش گاہوں میں سے ایک دانش گاہ اور علمی میکدہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی قائم ہے۔
اگر صرف یونیورسٹی کے اساتذہ اور علی گڑھ میں مقیم علماء اور اہل علم صرف توجہ کرلیں اور یونیورسٹی کے اساتذہ اپنی تنخواہوں میں سے دو یا تین فیصد اس علاقہ کے مسلم بچوں اور بچیوں کی تعلیم و تربیت میں صرف کردیں، دینی مکاتب اور معیاری اسکول قائم کرلیں تو صورت حال بدل جائے ، لیکن افسوس کہ اس کی طرف توجہ ہے ہی نہیں یا ہے بھی بہت کم ۔
دوستو !
اگر مسلم قائدین واقعتاً مسلمانوں کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں اور اسکے لئے مخلص ہیں تو سب سے پہلے ان مسائل کو حل کرنا ہوگا، جن کا حل ہماری دست رس میں ہے، اور بنیادی طور پر مسلم معاشرے کی دین سے دوری اور اسلامی تعلیمات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں ۔
دوسرے لفظوں میں ہم یوں کہ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کو اپنے مسائل حل کرنے کے لیے ایک منظم تحریک چلانی ہوگی ،اصلاح معاشرہ کا ایک باقاعدہ پروگرام ترتیب دینا ہوگا،دین سے متعلق بیداری پیدا کرنے میں میں علماء جو رول ادا کر سکتے ہیں وہ دوسرا طبقہ نہیں کر سکتا ،لہذا بنیادی طور پر علماء کو اس مرحلہ میں اپنا کلیدی اور تاریخی رول ادا کرنا ہوگا،اس مرحلہ میں مدارس اسلامیہ بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ،اس لئے کہ اس ملک میں اسلامی تعلیمات کی بقا اور تحفظ کے لئے مدارس کے پلیٹ فارم سے جو خدمات انجام دی گئی ہیں وہ ایک تاریخی حقیقت ہیں .
اصلاح معاشرہ کے پہلے
مرحلے میں لوگوں کو ذہن سازی پر زور دیا جانا چاہیے ۔اگر ہم اس مرحلہ میں کامیاب ہو جاتے ہیں ،اور معاشرے سے غیر شرعی و غیر اسلامی رسوم و رواج ختم کرنے کے لیے کمر بستہ ہو جاتے ہیں اور واقعتاً مسلم معاشرے میں اس کا اثر صاف محسوس کیا جاتا ہے ،تو یقین کیا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے دیگر بڑے مسائل بھی ان شاءاللہ حل ہو جائیں گے ، کیونکہ یہ صرف اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی غرض سے ہوگا اور رضائے الہٰی کے لئے ہوگا ،اور صحیح راستہ پر چلنے والوں اور غلط راہ ترک کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ یوں بے یارو مددگار نہیں چھوڑ سکتا ،اور نہ کسی طاغوتی طاقت کی ہمت ہوگی کہ وہ اسلام کی راہ کا پتھر بنے۔
دوستو بزرگو اور بھائیو!
اصلاح معاشرہ کے لیے ہمیں کئی محاذ پر کام کرنا ہوگا ، اس کے لیے سب سے پہلے جگہ جگہ مکاتب اور دینی ماحول میں عصری تعلیم کا انتظام کرنا پڑے گا، جہاں بچوں کو قرآن کی صحیح تعلیم کیساتھ بنیادی دینی تعلیم کا انتظام ہو اور اصلاح عقائد پر زور دیا جائے ۔۔ خصوصا ان علاقوں میں جہاں دینی تعلیم و تربیت کا انتظام نہ ہو ۔
جمعہ کی نماز میں تقریروں کے ذریعہ عائلی مسائل کو الف ب ت اور سورہ فاتحہ کی طرح سمجھایا اور رٹایا جائے اور بتایا جائے کہ نکاح و طلاق رجعت ،عدت اور خلع نیز دیگر عائلی مسائل وصیت و وراثت ،ھبہ کے احکام کس قدر عادلانہ اور منصفانہ ہیں اور ان کی حکمت و مصلحت کیا ہے ؟ طلاق کب کیوں اور کیسے دی جانی چاہیے ؟،اس سے پہلے کیا کیا آپشن اور حل موجود ہیں ؟ نکاح میں رشتہ کے انتخاب میں کن چیزوں کو معیار بنایا جائے تاکہ نکاح میں دوام رہے اور افتراق و انتشار کا ماحول نہ بننے پائے ۔
جمعہ کی نماز سے قبل تقریر اور خطبہ کے ذریعہ تفہیم شریعت کا کام بھرپور لیا جاسکتا ہے ،جمعہ کی یہ تقریر اصلاح معاشرہ کے لیے بہت مفید اور موثر ہوگی، شرط یہ ہے کہ پوری ذمہ داری کے ساتھ اس کام کو انجام دیا جائے ۔
علاقہ میں روایتی جلسہ سے ہٹ کر سادگی کیساتھ اصلاح معاشرہ اور تفہیم شریعت کے جلسے منعقد کئے جائیں جو بالکل سادگی کیساتھ ہو ۔
جو حضرات تعلیمی میدان میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور اب وہ ملازمت سے سبک دوش ہوچکے ہیں ان کو بھی میدان میں آکر کام کرنا چاہیے اور اپنی تعلیم اور تجربے سے امت کو فائدہ پہنچانا چاہیے اور ان کو اپنے آپ کو فارغ اور بے مصرف نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ میدان عمل میں آکر متحرک ہو جانا چاہیے ، تعلیم بالغان کے شعبہ میں کام کرنا چاہیے ۔
مرد حضرات جمعہ اور جلسے میں دینی بیانات اور تقریریں سنتے رہتے ہیں ،خواتین کو اس کا موقع کم ملتا ہے ،اس لیے محلہ محلہ میں ہفتہ میں کم از ایک دو دن خواتین کے لیے دینی محفل اور اجتماع کا اہتمام ہم سب کو کرنا چاہیے ۔
سب سے پہلے علماء اہل علم اور اصلاح معاشرہ کے میدان میں کام کرنے والے کو سادگی کا پیکر ہونا چاہیے کیونکہ یہ نمونہ ہیں اور جب تک نمونہ قابل تقلید اور لائق نمونہ نہ ہو کام آگے نہیں بڑھ سکتا اور کاموں میں تاثیر نہیں آسکتی ۔۔۔

نوٹ/ مضمون کا اگلا حصہ کسی اور دن ملاحظہ فرمائیں ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔