ہم بھولتے کیوں ہیں، اور یہ کیوں ضروری ہے؟

ہم بھولتے کیوں ہیں، اور یہ کیوں ضروری ہے؟

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔

ایک شاعر صاحب اپنے ماضی کی ناکامیوں، تلخیوں،ناموافق و نامساعد حالات، بیتے مشکل ایام اور مسائل و مشکلات سے اس قدر شاکی اور دکھی و پریشان تھے کہ انہوں نے یاد ماضی کو عذاب ہی کہہ دیا اور گویا ہوئے

یاد ماضی عذاب ہے یارب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

ممکن یہ بھی ہے، یہ بات شاعر نے اپنے بارے میں نہ کہی ہو، بلکہ سماج میں رہ رہے بہت سے ایسے لوگوں کی ترجمانی کی ہو، جنہیں ماضی میں تلخیوں کا اور نامساعد حالات و مشکلات کا ایسا سامنا کرنا پڑا ہو اور ماضی میں اس قدر ستایا گیا ہو اور اس کی یادیں اس قدر تلخ ہو کہ اپنے حافظہ کے چھن جانے کی دعا کر دی ہو تاکہ ماضی کی یاد انہیں مزید نہ ستانے پائے اور اس یاد کو اس نے عذاب سے تشبیہ دے دی ۔
بہر حال آج کی مجلس میں ہم گفتگو کریں گے کہ بھولنا کیوں اور کیسے ضروری ہے؟ اور یہ انسان کے لئے کیسے رحمت اور انعام ہے؟
دوستو!
ماضی کی تلخیوں، ناموافق حالات اور ناخوشگوار واقعات کا بھول جانا، اسے فراموش کردینا اور حافظہ سے اس کا چلا جانا یہ بھی خدا کی طرف سے بڑا انعام ہے اور اگر یہ بھولنا بھی ہمارا مقدر نہ ہوتا تو ہماری زندگی اجیرن ہو جاتی اور سکون و اطمینان اور راحت و آرام سے ہم محروم ہو جاتے، بلکہ بعید نہیں ذہنی توازن اور سکون کھو دیتے اور بے کیف زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ۔
حضرت انسان کی بھول اور یاد بھی عجیب ہے ۔
مشہور حنفی عالم اور فقیہ علامہ ابن عابدین شامی رح نے حضرت ہشام کلبی رح سے نقل کیا ہے کہ میں نے ایک بار حافظہ کی تیزی کا ثبوت ایسا دیا کہ شاید کسی نے نہ دیا ہو، اور ایک مرتبہ مجھ سے بھول بھی ایسی ہوئی کہ شاید کسی سے نہ ہوئی ہو ۔ میرے حافظہ کی تیزی کا عالم یہ ہے کہ میں نے قرآن کریم صرف چند دنوں میں یاد کرلیا تھا اور بھول ہوئی تو ایسی کہ ایک دن میں خط بنانے بیٹھا ،دارڑھی کو مٹھی میں لے کر نیچے کے بال کاٹنا چاہتا تھا , مگر بدحواسی میں مٹھی سے اوپر کے بال کاٹ ڈالے اور پوری داڑھی ہاتھ میں آگئی ۔ (انسانی عظمت کے تابندہ نقوش و ص، 239)
یہ واقعہ بھی مشہور ہے کہ ایک بار مشہور سائنسدان آئن اسٹائن ٹرین میں سفر کر رہے تھے۔ ٹکٹ چیکر آیا اور ٹکٹ مانگا۔ آئن اسٹائن نے جیبیں ٹٹولنا شروع کر دیں، بیگ میں دیکھا، لیکن ٹکٹ کہیں نہیں ملا۔
چیکر نے مسکراتے ہوئے کہا:
"جناب، فکر نہ کریں، میں آپ کو جانتا ہوں۔ آپ کو تکلیف کرنے کی ضرورت نہیں۔”
آئن اسٹائن نے جواب دیا:
"نہیں، ڈھونڈنا تو پڑے گا… کیونکہ میں یہ ہی نہیں جانتا کہ میں نے اترنا کہاں تھا!”
یہ وہی آئن اسٹائن تھے جن کے دماغ نے نظریہ اضافت (Theory of Relativity) پیش کیا، ایک ایسا سائنسی کارنامہ، جسے اس وقت دنیا ناممکن سمجھتی تھی۔ ایک طرف ذہانت کی انتہا، اور دوسری طرف بھول جانے کی یہ دلچسپ مثال!
ہم انسان بھی بالکل اسی طرح بھولنے والے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے جسم کا مکمل کنٹرول نہیں دیا۔
ہمارا نیور و سسٹم ایک خودکار نظام پر چل رہا ہے۔ ابھی جب آپ یہ پوسٹ پڑھ رہے ہیں:
آپ کا دل دھڑک رہا ہے۔
آپ کے پھیپھڑے آکسیجن فلٹر کر رہے ہیں۔
گردے، جگر، نظامِ انہضام ، سب اپنی ڈیوٹی پر ہیں۔
سوچیں… کیا یہ سب آپ اپنی مرضی سے چلا رہے ہیں؟
اگر یہ نظام ہمارے ہاتھ میں ہوتا تو کبھی دل دھڑکنا بھول جاتے، کبھی سانس لینا، اور کبھی خون صاف کرنا۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ
یہ سب اللہ کی وہ خودکار نعمتیں ہیں، جن کا شکر ہم اکثر بھول جاتے ہیں۔
ہم انسان اپنی ذہانت پر گھمنڈ کرتے ہیں، لیکن بھول جاتے ہیں کہ ہم ضرورتوں میں ہمیشہ اللہ کے محتاج ہیں۔
ہم دوسروں سے امیدیں لگا لیتے ہیں، حالانکہ وہ بھی بھولنے والے ہیں۔
یاد رکھیں! جس انسان کو اپنے جسم کے نظام کا بھی مکمل اختیار نہیں دیا گیا، وہ آپ کا سہارا کب تک بن سکتا ہے ؟
اے اللہ! ہمیں کسی انسان کا محتاج نہ کرنا، اور ہمیں یہ نہ بھولنے دینا کہ ہم تیرے ہی بندے ہیں۔
دوستو !
انسان کا بھولنا دراصل ایک نقص نہیں بلکہ ایک حکمت ،راحت اور نعمت ہے، اور اس کی وضاحت ہم سائنس، نفسیات اور سماجی و معاشرتی پہلوؤں سے کر سکتے ہیں۔

  1. سائنسی و حیاتیاتی حکمت
    سائنس کے مطابق ہمارا دماغ ہر لمحے لاکھوں معلومات حاصل کرتا ہے، لیکن اگر ہم سب کچھ ہمیشہ یاد رکھتے، تو دماغ میں "اوور لوڈ” ہو جاتا اور فیصلہ سازی، سوچ اور نئی معلومات سیکھنا تقریباً ناممکن ہو جاتا۔

نیور و سائنس کے مطابق، یادداشت کی دو بڑی اقسام ہیں:

شارٹ ٹرم میموری (چند سیکنڈ یا منٹ کی)

لانگ ٹرم میموری (مہینوں یا برسوں کی)
دماغ غیر ضروری یا غیر اہم معلومات کو ڈیلیٹ کر کے جگہ خالی کرتا ہے، تاکہ ضروری یادداشت محفوظ رہ سکے۔
Synaptic Pruning: دماغ میں نیوران کے درمیان کمزور کنکشنز وقت کے ساتھ ختم ہو جاتے ہیں، یہ بھولنے کا حیاتیاتی طریقہ ہے جو دماغ کو مؤثر رکھتا ہے۔
کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ بھولنا ایک طرح کا ڈیٹا فلٹر ہے، جو ہمیں ماضی کے ہر چھوٹے واقعے کے بوجھ سے بچاتا ہے۔

  1. نفسیاتی فائدے
    صدمے اور غم سے شفا: اگر انسان ہر دردناک لمحہ تازہ یاد رکھتا، تو ذہنی سکون اور آگے بڑھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی۔
    معاف کرنے کی صلاحیت: بھولنا ہمیں دوسروں کی غلطیوں کو پیچھے چھوڑ کر تعلقات کو بحال کرنے میں مدد دیتا ہے۔
    ذہنی سکون: غیر ضروری تفصیلات بھول جانا دماغ کو تناؤ سے بچاتا ہے۔
  2. سماجی و معاشرتی فائدے
    تعلقات کی پائیداری: اگر ہم ہر چھوٹی بات یاد رکھتے، تو رشتے شکایت اور تلخی سے بھر جاتے۔
    تنازعات کا حل: بھولنے سے پرانی دشمنیاں ماند پڑتی ہیں اور معاشرت میں امن قائم رہتا ہے۔
    سیکھنے کا عمل: پرانی غیر مؤثر عادات بھول کر نئی مہارتیں اپنانا ممکن ہوتا ہے۔
  3. مذہبی و حکیمانہ زاویہ

انسان کا بھول جانا بھی اللہ کی ایک رحمت ہے، کیونکہ اگر ہر گناہ یا تکلیف ہمیشہ ذہن میں رہتی تو زندگی اذیت بن جاتی۔
بھولنے کی صلاحیت ہمیں توبہ، معافی اور نئے آغاز کا موقع دیتی ہے۔
بھولنا دماغ کا ایک فطری، سائنسی اور سماجی ضرورت ہے۔ یہ ہمیں ذہنی سکون دیتا ہے، تکلیف دہ یادوں سے آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتا ہے، تعلقات کو محفوظ رکھتا ہے، اور دماغ کو نئی معلومات سیکھنے کے لیے تیار رکھتا ہے۔ اگر انسان سب کچھ یاد رکھتا تو زندگی ناقابلِ برداشت ہو جاتی۔
خلاصہ یہ کہ یہ بھولنا اور ذہنوں سے بہت سی پرانی تلخ اور شیریں یادوں کا مٹ جانا یہ بھی ہمارے لیے ایک عظیم نعمت ہے ،اس پر بھی ہم خدا کا شکر ادا کرتے رہیں ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔