مسلکی عصبیت اور دین کی اصل روح

مسلکی عصبیت اور دین کی اصل روح
✍🏻:- محمد ہارون
آج امت مسلمہ ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں دو خطرناک رویّے ایک ساتھ پروان چڑھ رہے ہیں۔ ایک طرف جہالت اور گمراہی کا سیلاب ہے، اور دوسری طرف مسلکی عصبیت اور خود پسندی کا زہر رگ و پے میں سرایت کر چکا ہے۔ ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ صرف میرا ہی مسلک حق پر ہے اور باقی سب باطل کی راہ پر ہیں۔ گویا دین اسلام کی جامع، ہمہ گیر اور رحمت بھری تعلیمات کو ہم نے اپنی مسلکی چاردیواری میں قید کر دیا ہے۔
ہر گروہ یہ اعلان کرتا ہے کہ "ہم ہی حق پر ہیں”. سوال یہ ہے کہ یہ فیصلہ کرنے کا اختیار ہمیں کس نے دیا؟ کیا یہ منصب اللہ کے نبی ﷺ کے بعد کسی کو دیا گیا کہ وہ منبر پر کھڑے ہو کر یا کتاب لکھ کر پورے دین کے معیارِ حق و باطل کا تعین کر دے؟ اگر ہم خود ہی حق کے منصف بن بیٹھیں تو باقی سب کہاں جائیں گے؟ یہ رویہ دراصل دین کی اصل روح کے منافی ہے اور اس سے باہمی نفرت اور تفرقہ جنم لیتا ہے۔
آج کا المیہ یہ ہے کہ کچھ لوگ صرف چند کتابیں پڑھ کر یا چند لیکچر سن کر اپنے آپ کو شیخ الاسلام یا عارف باللہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ علم کا تعلق محض الفاظ یاد کرنے یا حوالہ جات دہرانے سے نہیں بلکہ سمجھ، تدبر، اخلاص اور عمل سے ہے۔ امام مالکؒ فرمایا کرتے تھے: "علم کثرتِ روایت کا نام نہیں، بلکہ نور ہے جو دل میں اترتا ہے۔” کتاب چاٹ کر بڑے عالم بن جانا ویسا ہی ہے جیسے کوئی میڈیکل کی کتابیں پڑھ کر خود کو ڈاکٹر کہلائے، لیکن کسی مریض کا علاج کرنے کی عملی صلاحیت نہ رکھتا ہو۔
ائمہ کرام کی زندگی اس بات کی بہترین مثال ہے کہ علم کے ساتھ عاجزی اور وسعتِ نظر ضروری ہے۔ امام ابو حنیفہؒ سے جب کسی مسئلے پر ان کی رائے پوچھی جاتی تو وہ فرماتے: "یہ ہماری رائے ہے، اور یہ بہترین ہے جو ہم تک پہنچی، مگر اگر کوئی اس سے بہتر دلیل لے آئے تو ہم اسے قبول کر لیں گے”. امام شافعیؒ کا مشہور قول ہے: "میری رائے درست ہے مگر اس میں غلطی کا امکان ہے، اور تمہاری رائے غلط ہے مگر اس میں درست ہونے کا امکان ہے”. یہ الفاظ اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ سچا عالم اپنی رائے کو دین کا حتمی معیار نہیں سمجھتا بلکہ اسے دلیل اور تحقیق کے ترازو میں پرکھنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔
تاریخ میں ہمیں ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں جہاں اختلاف کے باوجود بھائی چارہ اور احترام قائم رہا۔ امام مالکؒ اور امام ابو حنیفہؒ کے فقہی مسائل میں کئی اختلافات تھے، مگر دونوں ایک دوسرے کی علمی عظمت کو تسلیم کرتے تھے۔ امام احمد بن حنبلؒ اور امام شافعیؒ کے درمیان بھی مسائل میں فرق تھا، مگر جب امام شافعیؒ بغداد آئے تو امام احمدؒ نے اپنے شاگردوں کو حکم دیا کہ ان کے حلقہ درس میں ضرور بیٹھیں۔ یہ رویہ بتاتا ہے کہ اصل عالم اپنے مسلکی خول میں بند ہو کر نہیں جیتا بلکہ حق کی تلاش میں ہر دروازے پر دستک دیتا ہے۔
صحابہ کرامؓ کے درمیان بھی اختلافات ہوئے، مگر نیت اور اخلاص کی بنیاد پر سب کو دائرۂ حق میں رکھا گیا۔ غزوۂ بنی قریظہ کے موقع پر جب نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ "عصر کی نماز بنی قریظہ کے مقام پر پہنچ کر ہی پڑھنا”, تو کچھ صحابہ نے راستے میں نماز پڑھ لی کیونکہ انہوں نے سمجھا کہ تاخیر مقصود نہیں، اور کچھ نے وہاں پہنچ کر پڑھی۔ آپ ﷺ نے دونوں کو درست قرار دیا۔ یہ واقعہ آج ہمیں سکھاتا ہے کہ نیت اور اخلاص کے ساتھ اختلاف، دین سے خروج نہیں بلکہ رحمت کا باعث بن سکتا ہے۔
عصرِ حاضر میں صورتحال اس کے برعکس ہو چکی ہے۔ اب علمی اختلاف مکالمے کی بجائے الزام تراشی میں بدل گیا ہے۔ ایک طرف سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ہیں جہاں نوجوان چند ویڈیوز دیکھ کر اپنے آپ کو فتویٰ دینے کا مجاز سمجھ لیتے ہیں، دوسری طرف مساجد اور مدارس میں خطبات بعض اوقات مخالف مسلک کو کمتر ثابت کرنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دین کے اصل مسائل پسِ پشت چلے جاتے ہیں اور امت مزید تقسیم در تقسیم ہو جاتی ہے۔
ایک اور قابلِ غور مثال یہ ہے کہ آج بین الاقوامی سطح پر مسلمان مظلومیت کا شکار ہیں، چاہے وہ فلسطین ہو یا کشمیر، لیکن ہم اپنے مسلکی اختلافات کے قلعے میں قید ہیں۔ دشمن ہمیں امت کے طور پر کمزور کر رہا ہے، اور ہم اپنے ہی بھائی کو کلمہ گو ہونے کے باوجود مشکوک سمجھ رہے ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے ایک گھر آگ میں جل رہا ہو اور گھر والے اس پر بحث کر رہے ہوں کہ پانی لانے کا طریقہ کس کا درست ہے۔
کسی مصنف یا عالم کی رائے پر تنقید کرنا علمی روایت کا حصہ ہے، مگر تنقید میں ادب، تحقیق اور دلیل کا ہونا لازمی ہے۔ ائمہ کرام کی مجلسوں میں اختلاف ہوتا تھا، لیکن ان کی زبانوں سے کبھی ایک دوسرے کے لیے تذلیل کے الفاظ نہیں نکلتے تھے۔ افسوس کہ آج ہم نے علمی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں بدل دیا ہے۔
امت کا اتحاد اس وقت ممکن ہے جب ہم یہ سمجھ لیں کہ دین اسلام کسی ایک مسلک کی جاگیر نہیں، بلکہ یہ اللہ کی امانت ہے، جو صرف اس کے نازل کردہ معیار پر پرکھی جا سکتی ہے۔ "میں حق پر ہوں اور باقی سب باطل پر” کا نعرہ علم نہیں بلکہ انا کی آواز ہے، اور انا ہمیشہ حق کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنہوں نے انا کے بجائے اخلاص اور دلیل کو اپنایا، وہی دین کے اصل خادم کہلائے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔