قوم ،،تبع،، سے کون سی قوم مراد ہے؟

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

گزشتہ سے پیوستہ کل یعنی 15/ ستمبر 26ء کو ضلع کھمم تلنگانہ سے ایک امام صاحب(مولانا عبد الستار قاسمی حفظہ اللہ تعالیٰ) نے قرآن مجید کی سورہ دخان آیت نمبر 27/ میں ذکر ،،ام ھم خیر ام قوم تبع،، الخ سے متعلق سوال کیا کہ یہاں قوم تبع سے کون سی قوم مراد ہے ، اور ،،قوم تبع،، کی تاریخ،محل وقوع، خصوصیت اور اس قوم کی حقیقت و واقعیت کیا ہے؟ نیز اس آیت میں اہل مکہ کا قوم تبع سے کیا اور کیوں موازنہ کیا گیا ہے؟
ذیل میں اسی سوال کا جواب مختلف مستند تفاسیر کی روشنی میں دیا جا رہا ہے ۔
مذکورہ سوال کا جواب یہ ہے کہ جیسے روم کے بادشاہ کو قیصر ایران کے بادشاہ کو کسریٰ یا چین کے بادشاہ کا خاقان کہا جاتا تھا،اسی طرح یمن کے بادشاہ کو تبع کہا جاتا تھا ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے تقریبا سات آٹھ سو سال پہلے ایک خاندان نے تقریباً ڈھائی سو سال تک یمن کے وسیع و عریض علاقہ پر حکومت کی، جس کی سرحدیں اس وقت افریقہ تک پہنچتی تھیں، یہ حکمراں ،، تبابعہ،، کہلاتے تھے جو ،،تبع،، کی جمع ہے ، ان میں سے ایک بادشاہ کا نام ابو کرب یا زید بن یمان تھا ، مشرف بہ ایمان ہوا ، نقل کیا جاتا ہے کہ اس نے کعبت اللہ پر غلاف بھی چڑھایا اور مدینہ منورہ سے بھی اس کا گزر ہوا ، بعض تفسیری روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودی علماء کے ذریعہ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مستقبل قریب میں مبعوث ہونے کا علم ہوا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام ایک خط لکھا،جس میں ایمان کا اقرار اور شفاعت کی درخواست تھی، نسل در نسل یہ خط منتقل ہوتے ہوئے میزبان رسول حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ تک پہنچا اور آپ نے اس کو پڑھوا کر سنا،لیکن یہ اور اس طرح کے دوسرے واقعات کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں ہیں،بس اتنا معلوم ہوتا ہے کہ ان بادشاہوں میں ایک بادشاہ نیک اور صالح تھا ، لیکن اس کے بعد اس کی قوم گمراہ ہوگئی اور اس پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا،( مستفاداز تفسیر قرطبی و تفسیر ماجدی) حجاز کا علاقہ چوں کہ یمن سے قریب تھا اس لئے ان بادشاہوں کی شان و شوکت، فوجی طاقت، سلطنت کی وسعت اور مال و دولت کی کثرت کا ذکر عربوں کے یہاں عام و خاص کی زبان پر تھا ،اس لئے قرآن نے منتبہ کیا کہ
،،تبع،، کی طاقت و قوت کے تم خود معترف ہو ، لیکن جب انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں تہس نہس کرکے رکھ دیا،اس سے عبرت حاصل کرو ۔(مستفاد آسان تفسیر قرآن مجید)
مفتی تقی عثمانی صاحب،،آسان تفسیر قرآن مجید،، میں لکھتے ہیں:
تبع دراصل یمن کے بادشاہوں کا لقب تھا، قرآن کریم نے یہ متعین نہیں فرمایا کہ یہاں کونسا تبع مراد ہے، حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں فرمایا ہے کہ یہاں مراد وہ ٫٫تبع٫٫ ہے جس کا نام اسعد ابوکریب تھا، یہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری سے سات سو سال پہلے گزرا ہے، یہ خود دین موسوی پر تھا، جو اس وقت دین برحق تھا، ایمان لے آیا تھا ؛ لیکن اس کی قوم نے بعد میں بت پرستی اختیار کرلی، جس کے نتیجے میں ان پر عذاب آیا۔
تفہیم القرآن میں ٫٫قوم تبع٫٫ کی تفصیل کچھ اس طرح ہے :
تبع قبیلۂ حمیر کے بادشاہوں کا لقب تھا ، جیسے کسریٰ ، قیصر ، فرعون وغیرہ القاب مختلف ممالک کے بادشاہوں کے لیے مخصوص رہے ہیں ۔ یہ لوگ قوم سبا کی ایک شاخ سے تعلق رکھتے تھے ۔ 115 قبل مسیح میں ان کو سبا کے ملک پر غلبہ حاصل ہوا اور 300 ء تک یہ حکمراں رہے ۔ عرب میں صدیوں تک ان کی عظمت کے افسانے زبان زد خلائق رہے ہیں ۔ ( تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : تفہیم القرآن ، جلد چہارم ، سورۂ سبا ، حاشیہ نمبر 37)
سورہ دخان آیت نمبر 27
یہ کفار کے اعتراض کا پہلا جواب ہے ۔ اس جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ انکار آخرت وہ چیز ہے جو کسی شخص ، گروہ یا قوم کو مجرم بنائے بغیر نہیں رہتی ۔ اخلاق کی خرابی اس کا لازمی نتیجہ ہے اور تاریخ انسانی شاہد ہے کہ زندگی کے اس نظریے کو جس قوم نے بھی اختیار کیا ہے وہ آخرکار تباہ ہو کر رہی ہے ۔ رہا یہ سوال کہ ’’ یہ بہتر ہیں یا تبع کی قوم اور اس سے پہلے کے لوگ ‘‘؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کفار مکہ تو اس خوشحالی و شوکت و حشمت کو پہنچ بھی نہیں سکے ہیں جو ،،تبع،، کی قوم ، اور اس سے پہلے سبا اور قوم فرعون اور دوسری قوموں کو حاصل رہی ہے ۔ مگر یہ مادی خوشحالی اور دنیوی شان و شوکت اخلاقی زوال کے نتائج سے ان کو کب بچا سکتی تھی کہ یہ اپنی ذرا سی پونجی اور اپنے ذرائع و وسائل کے بل بوتے پر ان سے بچ جائیں گے۔
تفسیر ماجدی میں
مفسر مولانا عبد الماجد دریابادی لکھتے ہیں:
یعنی نافرمانی و قانون شکنی تو ایسی چیز ہے جس کی سزا ان مجرموں سے کہیں زائد قوت ومقدرت والوں کو مل کر رہی ہے۔ تو یہ بیچارے کس شمار وقطار میں ہیں۔،، خیر،، ۔ خیر کا مفہوم ہمیشہ اخلاقی وروحانی ہی پہلو نہیں رکھتا، مادی، مالی، جسمانی فوقیت کا اظہار بھی اسی لفظ سے ہوتا رہتا ہے۔ یہاں اسی دنیوی جاہ وحشم مادی قوت و سامان میں اظہار فوقیت کیلئے ہے۔
” قوم تبع “۔ جس طرح ملوک مصر کالقب فرعون تھا۔ اسی طرح جنوب عرب کی سلطنت یمن کے بادشاہوں کے ایک خاندان کا لقب ،،تبع،، تھا۔ یہ اپنے وقت کے بڑے عظیم الشان وجلیل القدر فرمانروا تھے۔ اور ان کے حدود سلطنت علاوہ حمیر، حضرموت اور سارے علاقہ سبا کے شمال میں شمالی عرب تک اور مغرب میں افریقہ تک وسیع تھے۔ اور یہ خاندان کوئی ڈھائی سو سال فرماں روا رہا۔ اور ان کے زمانہ کا تخمینہ ظہور اسلام سے ساتھ آٹھ صدیوں قبل کا کیا گیا ہے۔ اہل لغت کا بیان ہے کہ ،،تبع،، ان بادشاہوں کو ان کی کثرت اتباع کی بنا پر کہتے ہیں۔ ابن ہشام میں ابن اسحاق کے حوالہ سے ہے کہ : قال ابن اسحاق وکان قد جعل طریقۃ حین اقبل من الشرق علی المدینہ وکان قدمربھا فی بدءتہ۔” اس نے مدینہ سے (یمن تک) سڑک بنوادی تھی، جب مشرق سے مدینہ کو آیا تھا اور اسی سڑک سے اپنے وطن کو آتا جاتا تھا۔ “بہرحال اہل عرب تبع کی عظمت وشان سے خوب اچھی طرح واقف تھے۔ بلکہ ان کے ہاں تبع کی عظمت و جلالت بطور ضرب المثل کے مشہور زبان زد تھی، ” ھم “۔ ضمیر عرب معاصرین کی جانب ہے جن کا ذکر ابھی آیات ماقبل میں آیا ہے۔
تدبر قرآن میں مولانا امین احسن اصلاحی رح لکھتے ہیں:
اھم خیرام قوم تبع والذین من قبلھم اھلکنھم انھم کانوا مجرمین (٣٧)
قوم تبع سے مراد تبابعہ یمن ہیں، جن کی مادی شان و عظمت اور ذہنی صلاحیتوں کی عرب میں بڑی شہرت رہی ہے۔ عرب شعراء ان کی عظمت کا چرچا بہت کرتے ہیں۔
قوموں پر جب خدا کا عذاب آتا ہے تو وہ اپنے ہی اسلحہ سے خودکشی کرتے ہیں،
قرآن نے قریش کے مذکورہ بالا مطالبہ کے جواب میں ان سے یہ سوال کیا ہے کہ وہ بتائیں کہ مادی شان و شوکت اور ذہنی و عقلی صلاحیتوں کے اعتبار سے وہ برتر ہیں یا تبابعہ برتر تھے ؟ اگر وہ برتر تھے اور اس برتری کے باوجود خدا نے ان کو تباہ کردیا، نہ ان کے مادی قوت و وصولت ہی خدا کی پکڑ سے ان کو بچاسکی نہ ان کی ذہانت ہی ان کے کچھ کام آئی تو آخر یہ کس بل بوتے پر اس غرے میں مبتلا ہیں کہ کوئی ان کو ہلا نہیں سکتا ؟ جب خدا نے ان سے زیادہ زور آوروں کی گردن توڑ دی تو ان کی گردن کیوں نہیں توڑ سکتا ؟ یہی حال ان سے پہلے کی دوسری قوموں کا بھی ہوا۔ عاد وثمود وغیرہ اور بعض دوسری قومیں ہر اعتبار سے ان سے برتر تھیں، لیکن جب انہوں نے خدا سے سرکشی کی تو خدا نے ان کا نام و نشان مٹا دیا ،تو آخر ان کے ایسے کیا سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ یہ خدا کے چہیتے بنے رہیں گے اگرچہ سرکشی میں ان سے بھی چار قدم آگے نکل جائیں؟ خدا کی میزبان میں وزن قوموں کے اخلاق و کردار کا ہے، ان کی مادی دولت و ثروت اور ان کی شاندار عمارتوں کا نہیں ہے اور نہ ان کے میزائلوں پر ایٹم بموں کا ہے۔ جب قوموں کا کردار فاسد ہوجاتا ہے تو ان کے انہی بموں کو، جو وہ دوسروں کو تباہ کرنے کے لئے بناتی ہیں، خود ان یہ کے سروں پر دے مارتا ہے اور وہ اپنے ہی بنائے ہوئے اسلحہ سے خودکشی پر مجبور ہوتی ہیں۔
دنیا میں قوموں کو سزا ملنا آخرت کے عذاب کی دلیل ہے ۔
دنیا میں خدا کے قانون مجازات کی مثالیں موجود ہیں اور اتنی کثرت سے موجود ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں ہے تو آخر ایک ایسے روز جزاء و سزا کے بارے میں کیوں شک کیا جائے جس دن خالق کائنات افراد کو بھی اسی طرح جزا یا سزا دے جس طرح اس نے دنیا میں قوموں کو جزا یا سزا دی ہے۔ وما خلقنا السموت والارض وما بینھما لاعبین، ماخلقنھا الا بالحق ولکن اکثرھم لایعلمون،، ( 39-38)
آخرت خدا کی صفات کا لازمی تقاضا ہے
اوپر جزاء و سزا کی دلیل تاریخ اور آفاقیت کے آثار و شواہد سے پیش کی گئی ہے۔ اب یہ خدا کی صفات اور ان کے اخلاقی و عقلی تقاضوں سے اس پر دلیل لائی جا رہی ہے۔ فرمایا کہ ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیل تماشے کے طور پر نہیں بنایا ہے بلکہ ایک برتر غایت اور ایک مقصد حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اس مقصد حق کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ایک دن یہ دنیا ختم ہو اور اس کے بعد ایک ایسا دن آئے، جس میں اس کا خالق ان لوگوں کو انعام دے، جنہوں نے اس میں اس کی پسند کے مطابق زندگی بسر کی ہو اور ان لوگوں کو سزا دے جنہوں نے اس کی نافرمانی کی ہو۔ اگر اس طرح کا کوئی دن نہ آئے، یہ دنیا اسی طرح چلتی رہے یا یوں ہی ایک دن تمام ہو جائے، نہ اس کے نیکوں کو کوئی انعام ملے نہ بدوں کو کوئی سزا تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس کا خالق نعوذ باللہ، کوئی کھلنڈرا ہے ،جو آسمانوں پر بیٹھا ہوا ظلم و مظلومی کا تماشا دیکھ رہا ہے اور جب اس کا جی اسے تماشے سے بھر جائے گا تو اس کو توڑ پھوڑ کر رکھ دے گا یا یوں ہی یہ تماشا جاری رہے گا۔ ظاہر ہے کہ یہ خیال اس کائنات کے حکیم و رحیم خالق سے متعلق ایک ایسا سوء ظن ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، لیکن یہ عجیب بات ہے کہ اکثریت اس میں مبتلا ہے اور لوگ اس کے نتائج سے بالکل بیخبر ہیں۔
اس خیال کی گمراہیوں پر پچھلی سورتوں کی تفسیر میں ہم مفصل بحث کر چکے ہیں ،اس وجہ سے یہاں اشارہ پر کفایت کرتے ہیں۔ (تدبر قرآن تفسیر سورہ دخان)

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔