محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔
دگھی ، گڈا جھارکھنڈ 9506600726
قرآن کی سوره یوسف میں حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ بیان ہوا ہے- ان کے سوتیلے بهائیوں کے غلط سلوک کی وجہ سے وه وقت آیا جب کہ حضرت یوسف کے والد حضرت یعقوب بظاہر اپنے دو عزیز بیٹوں سے محروم ہو گئے- اس حادثے کے وقت حضرت یعقوب علیہ السلام کی زبان سے یہ دعائیہ کلمہ نکلا : انما اشکو بثی و حزنی الی اللہ (12:86) یعنی میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کا شکوه صرف اللہ سے کرتا هوں-
پیغمبر کی زبان سے نکلے هوئے یہ الفاظ ایک اهم حقیقت کو بتاتے ہیں- اس سے معلوم هوتا ہے کہ مومن جب کسی غم سے دو چار هوتا ہے تو وه عام انسان کی طرح آه اور فریاد میں مبتلا نہیں هوتا، بلکہ اس کا ایمانی شعور اس کے غم کو دعا میں ڈهال دیتا ہے- وه اللہ کی طرف رجوع هو کر اس سے التجا کرنے لگتا ہے کہ وه اس کے کهونے کو یافت میں بدل دے، وه اس کی محرومی کی حسن تلافی فرمائے-
کسی انسان کے ساتھ جب غم اور محرومی کا تجربہ پیش آتا ہے تو اس کے لیے ردعمل کی دو صورتیں هوتی ہیں- ایک ہے، انسانوں کی طرف دیکهنا، اور دوسرا ہے، خدا کی طرف دیکهنا- جو لوگ حادثہ کے وقت انسان کی طرف دیکهیں، وه صرف یہ کرتے ہیں کہ انسان کے خلاف فریاد و فغاں میں مبتلا هو جائیں- مگر جس شخص کا یہ حال هو کہ وه اس قسم کے تجربہ کے بعد خدا کو یاد کرنے لگے، وه چهیننے والے کے بجائے دینے والے کو اپنا مرکز توجہ بنا لے گا- اس کا ذہن مایوسی کے بجائے امید کا آشیانہ بن جائے گا-
دعا ایک طاقت ہے- نازک وقتوں میں دعا مومن کا سب سے بڑا سہارا ہے- دعا اس اعتماد کا سرچشمہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی کهونا آخری نہیں، بلکہ ہر کهونے میں از سر نو پانے کا راز چهپا هوا ہے-
ہر آدمی کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب کہ وه اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتا ہے- ایسے لمحات میں خدا سے دعا کرنا آدمی کے دل کو سکون بخشتا ہے- دعا گویا کسی آدمی کے لیے کرائسس منیجمنٹ ( crisis management) کا بہترین ذریعہ ہے-
( مستفاد از کتاب/ کتاب معرفت)
دوستو!
غم انسانی زندگی کا ایک ناگزیر حصہ ہے۔ کوئی انسان ایسا نہیں جس کی زندگی رنج و الم، مصائب و مشکلات اور آزمائشوں سے خالی ہو۔ کبھی اپنوں کی جدائی دل کو زخمی کرتی ہے، کبھی حالات کی ناسازگاری انسان کو بے چین کر دیتی ہے، کبھی بیماری اور محتاجی امتحان بن کر آتی ہے اور کبھی زندگی کے ایسے موڑ پر کھڑا ہونا پڑتا ہے جہاں بظاہر ہر راستہ بند دکھائی دیتا ہے۔ یہ وہ لمحات ہوتے ہیں، جب انسان کی اصل حقیقت، اس کا ایمانی شعور اور اللہ تعالیٰ سے اس کا تعلق سامنے آتا ہے۔ عام انسان غم کے بوجھ تلے آہ و فغاں، بے قراری اور شکوہ و شکایت میں مبتلا ہوجاتا ہے، لیکن مومن کا مزاج اس سے مختلف ہوتا ہے؛ وہ غم کو سینے میں دفن نہیں کرتا، نہ اسے مایوسی بننے دیتا ہے، بلکہ اپنے غم کو دعا کا لباس پہنا دیتا ہے اور اپنی بے بسی کو بارگاہِ الٰہی میں سپردگی کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔
قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ میں انبیائے کرام علیہم السلام کی زندگیوں کے جو واقعات بیان ہوئے ہیں، وہ دراصل ہمارے لیے اسی ایمانی طرزِ عمل کی روشن مثالیں ہیں۔ ان پاکیزہ ہستیوں کی زندگیاں آزمائشوں سے عبارت تھیں، مگر آزمائش جتنی سخت ہوتی، اللہ تعالیٰ سے ان کا تعلق اتنا ہی مضبوط اور دعا سے ان کا رشتہ اتنا ہی گہرا ہوتا جاتا۔ انہیں دکھ پہنچا، اپنوں کی جدائی کا صدمہ برداشت کرنا پڑا، مخالفتیں جھیلیں، مصائب کا سامنا کیا؛ لیکن ان کے دلوں میں مایوسی نہیں پیدا ہوتی تھی۔ ان کی زبانوں پر شکوۂ مخلوق نہیں، فریادِ خالق ہوتی تھی؛ ان کے آنسو مایوسی کی علامت نہیں بلکہ دعا اور رجوع الی اللہ کا وسیلہ ہوتے تھے۔
سورۂ یوسف میں حضرت یعقوب علیہ السلام کی داستانِ غم اسی حقیقت کی ایک نہایت مؤثر اور سبق آموز تصویر ہے۔ ایک نہیں، دو بیٹوں کی جدائی کا صدمہ، برسوں کا انتظار، یوسف علیہ السلام کی کوئی خبر نہ ملنا، پھر بنیامین کی جدائی ،یہ ایسے صدمات تھے جو ایک باپ کے دل کو چیر دینے کے لیے کافی تھے؛ مگر حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے غم کو اللہ تعالیٰ کے سامنے رکھ دیا۔ ان کی زبان سے نکلا:
﴿إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ﴾
’’میں تو اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں۔‘‘
یہ محض ایک جملہ نہیں، بلکہ غم کے موقع پر مومن کے لیے ایک مکمل ایمانی دستور اور زندگی گزارنے کا ایک روشن اصول ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے غم محسوس کیا، آنسو بہائے، فراق کا درد برداشت کیا؛ لیکن ان کا غم انہیں اللہ سے دور کرنے کے بجائے اللہ کے اور قریب لے گیا۔ انہوں نے اپنے دل کا بوجھ مخلوق کے سامنے نہیں، خالق کے سامنے رکھا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں غم عبادت بن جاتا ہے، آنسو دعا بن جاتے ہیں اور بے بسی بندے کو اپنے رب کے دروازے تک پہنچا دیتی ہے۔
مومن کا کمال یہ نہیں کہ اسے کبھی غم نہ ہو، بلکہ اس کا کمال یہ ہے کہ غم کے باوجود اس کا یقین سلامت رہے۔ آزمائش آئے تو صبر کرے، مصیبت آئے تو دعا کرے، راستے بند ہوں تو اللہ کی طرف متوجہ ہو، اور تقدیر کے فیصلے سامنے آئیں تو حکمت و مصلحت پر اعتماد رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے سامنے سرِ تسلیم خم کردے۔ وہ اس حقیقت کو فراموش نہیں کرتا کہ جس رب نے خوشی عطا کی ہے، وہی غم کے پردے میں بھی کوئی خیر پوشیدہ رکھ سکتا ہے؛ جس نے آج کچھ لیا ہے، وہ کل اس کا بہتر بدل عطا کرنے پر بھی قادر ہے؛ اور جس نے آزمائش میں مبتلا کیا ہے، وہی اس آزمائش کو رحمت اور کامیابی کا ذریعہ بنانے پر بھی قادر ہے۔
احادیثِ مبارکہ میں بھی مصیبت کے مواقع پر صبر، دعا، رجوع الی اللہ اور اللہ تعالیٰ سے حسنِ ظن کی تعلیم دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ اور دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کی زندگیاں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ مومن حالات کا قیدی نہیں ہوتا؛ وہ حالات کے درمیان اپنے رب سے جڑا رہتا ہے۔ اس لیے مصیبت اسے توڑتی نہیں، سنوارتی ہے؛ غم اسے مایوس نہیں کرتا، بلکہ دعا کی طرف لے جاتا ہے؛ اور آزمائش اسے اللہ تعالیٰ سے دور نہیں کرتی، بلکہ اس کے تعلقِ بندگی کو مزید مستحکم کرتی ہے۔
آج جب انسان معمولی پریشانیوں میں بھی بے قرار، شکوہ کناں اور مایوس ہوجاتا ہے، ہمیں انبیائے کرام علیہم السلام کی زندگیوں سے غم کا سلیقہ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ غم آئے تو اسے دل پر بوجھ بنا کر نہ رکھیں، اسے دعا میں ڈھال دیں؛ آنکھ نم ہو تو اسے مایوسی کا آنسو نہ بننے دیں، اسے مناجات کا وسیلہ بنائیں؛ اور جب زندگی کسی ایسے مرحلے سے گزارے جہاں تدبیر کی تمام راہیں محدود دکھائی دیں تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ کبھی بند نہ سمجھیں۔
مومن کی شان یہی ہے کہ وہ غم کو شکایت نہیں، دعا بناتا ہے؛ آزمائش کو مایوسی نہیں، صبر بناتا ہے؛ اور بے بسی کو شکست نہیں، اللہ تعالیٰ سے تعلق کا ذریعہ بناتا ہے۔ یہی انبیائے کرام علیہم السلام کی تعلیم ہے، یہی قرآن کا پیغام ہے اور یہی ایک صاحبِ ایمان کے لیے زندگی کے نشیب و فراز میں سب سے مضبوط سہارا ہے۔