ظالموں کی طرف جھکاؤ اور میلان بھی جرم ہے !

ظالموں کی طرف جھکاؤ اور میلان بھی جرم ہے !

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

قرآن مجید میں سورہ ہود میں ایمان والوں کو نصیحت دی گئی ہے اور یہ سمجھایا گیا ہے کہ ،،ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار،،الخ ،،
اور ان کی طرف مت جھکو جنہوں نے ظلم کیا ،ورنہ تم کو آگ پکڑ لے گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی مدد گار نہیں، پھر تم کہیں مدد نہیں پاؤ گے ۔
اس آیت میں تعلیم دی گئی ہے اور یہ باور کرایا گیا ہے کہ انسان کا ظلم اور گناہ سے خود بچنا ہی کافی نہیں ہے ؛ بلکہ اس کا ارتکاب کرنے والوں سے بے تعلقی برتنا ، ان سے دور رہنا، ان کی طرف رجحان اور میلان نہ رکھنا بھی ضروری ہے ،نیز ان کی صحبت سے بچنا ، ان کی حوصلہ افزائی سے باز رہنا اور ان کی ایسی تائید و توقیر سے اجتناب برتنا بھی ضروری ہے ، جو ظلم و زیادتی اور گناہ و نافرمانی کے سلسلے میں ان کا حوصلہ بڑھاتی ہو ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے کسی بدعت کرنے والے کی توقیر کی ، اس نے دین کو منہدم کر دیا : ’’ من وقر مبتدعا فقد ھدم الدین‘‘ (الجامع الصغیر للسیوطی ، حدیث نمبر : ۹۰۸۲ ) یہ ارشاد نبوی بھی اس آیت کی تشریح ہے ، خاص کر علماء کا بد دین لوگوں کے پاس دنیوی مفادات کے لئے آمد و رفت رکھنا ایک بدترین عمل ہے اور یقیناً ظالموں کی طرف جھکنے میں شامل ہے. (مختصر تفسیر قرآن از خالد سیف اللہ رحمانی صاحب)
اس آیت میں رکون کا لفظ آیا ہے عربی سے واقفیت رکھنے والے اس لفظ کی وسعت و جامعیت کو سمجھ سکتے ہیں کہ ظالموں کا ساتھ دینا اور حمایت کرنا تو بڑے دور کی بات ہے ان کی طرف تمہارا جھکاؤ رجحان اور نفسیاتی و قلبی میلان بھی نہ ہو، جنہوں نے ظلم کا شیوہ، ظلم کی روش اور ظلم کا کھلم کھلا طریقہ اختیار کر رکھا ہے ،جنہوں نے حد سے تجاوز کیا ہے، جن کے اندر بے اعتدالی و بے رحمی بلکہ درندگی اور وحشیانہ پن پایا جاتا ہے ،جن کے اندر حقوق کی پامالی پائی جاتی ہے ، جو انسانیت کی سطح سے کافی نیچے جاچکا ہے ،جن کے اندر خدا کا خوف نہیں ہے ، جن کے اندر انس و محبت اور شرافت و آدمیت اور رحم و کرم کا مادہ بالکل ختم ہوچکا ہے ، جن کے سینے میں دھڑکتا دل نہیں ہے، بلکہ پتھر کی سل ہے، دل کی جگہ چٹان اور بے رحم پتھر ہے ، جو صرف دولت اور اقتدار کے پرستار ہیں ، جو صرف اپنا عہدہ اور منصب بچانا چاہتے ہیں اور اس کے لیے اپنے ضمیر کا سودا کرکے خون مسلم کو ارزاں کرتے ہیں، یہ سب باتیں ظلموا کے تحت آجاتی ہیں ۔
اس آیت میں سخت وعید ہے آج کے ان ظالموں اور بے ضمیر و بے رحم عرب حکمرانوں کے لئے بھی، جو فلسطین میں یہودیوں کے تشدد ، ظلم و ستم اور جبر و قہر کے باوجود اسرائیل سے دوستی قائم کئے ہوئے ہیں ،ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کا مالی تعاون کرتے ہیں ۔
ان حکمرانوں کو قرآن مجید کی اس سخت وعید پر نظر کرنا چاہیے ۔
یہاں ،،لا ترکنوا،، کہا گیا ہے یہ نہیں کہا گیا کہ ان کے ہاتھ پر بیعت نہ کرو، یہ نہیں کہا گیا کہ ان کے غلام نہ بن جاؤ بلکہ ادنیٰ جھکاؤ بھی ان ظالموں کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے ،ان کی طرف جنہوں نے ظلم کو اپنا شیوہ بنا رکھا ہے ۔
آج ہمارے عرب حکمرانوں کا حال یہ ہے کہ ان کے نزدیک حکومت و اقتدار کو بچانے کے لئے تعلقات کو نبھانے کے لیے سیاسیات میں خدا کے دوست اور دشمن میں کوئی فرق نہیں ہے، ان کے نزدیک صالح اور فاسد میں کوئی فرق نہیں، ان کے نزدیک ظالم اور مظلوم میں دیندار اور بے دین میں کوئی فرق نہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ صاف فرماتا ہے ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار ۔
آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ظلم کیسی خطرناک چیز ہے، آدمی کے وجود اور معاشرہ کے امن کے لیے کیسی مہلک چیز ہے کہ فرمایا گیا اگر تمہارا میلان اور ذرا سا رجحان بھی ظالم کی طرف ہوا، تو جہنم کی آگ تمہیں جھلسا کر رکھ دے گی، ظالم کی ہیبت اس کا رعب و جلال اس کی سماجی حیثیت، اس کا کر و فر اس کا جبر و قہر اور پھر انسان کے اپنے معاملات و مفادات عام طور پر انسان کو اس کی طرف مائل کر دیتے ہیں ۔( مستفاد از ترجمہ آسان تفسیر از طارق ایوبی ندوی)
مفتی شفیع صاحب رح لکھتے ہیں ،، رکون ،، کے معنی صرف مدد لینا یا عملی شرکت نہیں ،بلکہ کسی قسم کا رجحان ،جھکاؤ،میل ،نرم رویہ رضا مندی یا خاموش تائید اس میں شامل ہے ،یہاں ظالموں کی طرف کسی بھی درجہ کا جھکاؤ سے منع کیا گیا ہے، حسن بصری رح لکھتے ہیں جس نے ظالم بادشاہ کے پاس جاکر اس کی تعریف کی وہ بھی ظالموں میں شمار ہوگا،،۔
غرض آیت کریمہ
وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ﴾
(سورہ ہود: 113)
ترجمہ:
"اور ظالموں کی طرف ذرا بھی نہ جھکنا، ورنہ تمہیں بھی آگ آ پکڑے گی۔”
کا عمومی مفہوم یہ ہے کہ
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اہلِ ایمان کو واضح حکم دیا ہے کہ وہ ظالموں کے ساتھ کسی بھی درجہ میں دل، زبان یا عمل سے تعلق نہ رکھیں۔ نہ ان کی حمایت کریں، نہ ان کی تائید، نہ ان سے راضی ہوں، اور نہ ان کے ظلم پر خاموش رہیں۔ کیونکہ ظلم کی حمایت بھی درحقیقت ظلم کا حصہ بن جاتی ہے، اور اس پر اللہ کی گرفت ہوتی ہے۔
عصرِ حاضر میں اس آیت کا اطلاق
آج کے دور میں ظلم صرف تلوار یا بندوق سے نہیں ہوتا بلکہ اس کی شکلیں بہت وسیع اور گمراہ کن ہو چکی ہیں۔ لوگ اکثر شعوری یا لاشعوری طور پر ظالموں کے مددگار بنے بیٹھے ہیں۔

  1. ظالم حکمرانوں کی اندھی حمایت:
    بعض لوگ قوم پرستی، مسلک پرستی یا سیاسی مفاد کے نام پر ایسے حکمرانوں کی حمایت کرتے ہیں جو ظلم، ناانصافی، اقلیتوں پر جبر، بدعنوانی، دینی اقدار کی پامالی میں ملوث ہوتے ہیں۔
    کچھ علماء و دانشور ایسے ظالم حکمرانوں کی مدح سرائی کرتے ہیں، اور عوام کو غلط فتووں یا تاویلات سے گمراہ کرتے ہیں۔
    یہ سراسر "رُکون” (جھکاؤ) ہے، جس سے آیت میں منع کیا گیا ہے۔
  2. ظلم پر خاموشی اور مصلحت پسندی:
    ظلم دیکھ کر خاموش رہنا، یہ بھی ایک طرح کا جھکاؤ ہے۔
    بعض اوقات لوگ کہتے ہیں: "ہم کیا کر سکتے ہیں؟”، "ہمیں سیاست سے کیا لینا دینا؟”
    لیکن اگر کوئی صاحبِ علم یا باشعور فرد ظالم کے خلاف حق گوئی نہیں کرتا، تو وہ بھی اس جرم میں شریک شمار ہوگا۔

"جو ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھاتا، وہ دراصل ظلم کو طاقت دیتا ہے۔”
3.میڈیا اور سوشل میڈیا پر ظالموں کی تائید:
بعض لوگ سوشل میڈیا پر جھوٹے پروپیگنڈے، ظالموں کی تعریف، یا ان کے مخالفین کی کردار کشی میں حصہ لیتے ہیں۔
کسی ظالم پارٹی، لیڈر یا جماعت کی تحریک چلانا، پوسٹ شیئر کرنا، لائک/کمنٹ کرنا — یہ سب "رُکون” کی عملی صورتیں ہیں۔

  1. ظالم نظام کے ساتھ ذہنی وابستگی:
    ظالم سرمایہ دارانہ نظام، سودی معیشت، غیر اسلامی قانون یا اخلاقی بگاڑ پر مشتمل کلچر سے متاثر ہونا، فخر کرنا، یا ان کی حمایت کرنا بھی ایک طرح کا "رُکون” ہے۔
    مثلاً:
    مغربی تہذیب کے ظالمانہ پہلو (عریانی، فحاشی، لادینیت) کی پیروی
    تعلیمی نظام میں دین کی مخالفت
    اسلامی شعائر کا مذاق اُڑانا یا نظر انداز کرنا۔
    فرعون نے ظلم کیا، لیکن اس کے دربار میں رہنے والے خاموش اہلکار بھی اللہ کے عذاب سے نہ بچ سکے۔
    حضرت شعیبؑ کی قوم میں بھی ایسے لوگ تھے، جو ظالم تاجروں کے خلاف نہ بولے، وہ سب پکڑ لیے گئے۔
    اس آیت کا عملی پیغام کچھ اس طرح ہے۔
  2. ظلم کو ظلم کہو، چاہے ظالم اپنا ہو یا پرایا۔
  3. سچ کا ساتھ دو، باطل کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہو۔
  4. ظالم حکمران، جماعت، ادارہ یا نظام کی کسی بھی شکل میں حمایت نہ کرو۔
  5. ظلم کے خلاف زبان، قلم اور وسائل سے مزاحمت کرو۔
  6. خاموشی اور بےحسی کو ترک کرو۔
    آج کا سب سے بڑا فتنہ یہ ہے کہ ظلم کو "مصلحت”، "سیاست”، یا "سماجی ضرورت” کا نام دے کر قبول کر لیا جاتا ہے۔
    یہی وہ "رُکون” ہے جس کے بارے میں اللہ نے فرمایا:
    فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ
    "پھر تمہیں بھی آگ پکڑ لے گی!”
    لہذا مسلمان کو چاہیئے کہ:
    وہ حق و باطل میں فرق کرے،
    ظالم اور مظلوم میں فرق پہچانے،
    اور اپنی وفاداری صرف اللہ، اس کے رسول ﷺ، اور دینِ حق کے ساتھ رکھے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔