سو فیصد مسلمان اور مکمل اسلام

سو فیصد مسلمان اور مکمل اسلام

محمد قمر الزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

بعض یہود مسلمان ہوئے؛ لیکن وہ چاہتے تھے کہ شریعت اسلامی کے ساتھ تورات کے احکام کو بھی ساتھ لے کر چلیں، جیسے ہفتہ کے دن کی تعظیم کریں اور اونٹ کے گوشت اور دودھ سے اجتناب کریں ،ان کو اس سے منع کیا گیا اور حکم ملا کہ جب اسلام لاؤ تو مکمل طورپر اسلام کے احکام کو قبول کرو ، اسلام محض ایک طریقۂ عبادت نہیں ؛ بلکہ پورا نظامِ حیات ہے ، اعتقادات ، عبادات ، معاشرت اور شخصی زندگی ، معاشی و اقتصادی نظام ، سیاست اور طریقۂ حکومت ، بین ملکی تعلقات اور اخلاقی تعلیمات ، انسانی زندگی کا کوئی شعبہ نہیں ، جس میں اسلام نے رہنمائی نہ کی ہو ، ان سب میں شریعت اسلامی کو بے کم و کاست ماننا ، نہ حرام کو حلال کرنا اور نہ حلال کو حرام ، یہ اسلام میں پورا پورا داخل ہونا ہے اور اسلام کو جزوی طور پر ماننا اور بعض شعبۂ ہائے زندگی میں دوسرے مذہب یا نظام حیات کی افادیت کا قائل ہونا اور اسے تسلیم کرنا شیطان کی پیروی ہے ؛ کیوں کہ شیطان نے بھی اللہ کے تمام احکام کا انکار نہیں کیا تھا ؛ بلکہ اس نے صرف حضرت آدم﷣ علیہ السلام کو سجدہ کرنے
ہی پر اعتراض کیا تھا ۔( مستفاد از مختصر تفسیر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب)
ان کے اس مطالبہ کو قرآن مجید نے خارج کردیا اور اس کو بالکل ہی بے بنیاد قرار دیا،
سورہ بقرہ آیت نمبر دو سو آٹھ میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو مخاطب کرکے فرمایا ہے ۔

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ”
ترجمہ:
"اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ، اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو، یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔”
سلم کا مفہوم اور ترجمہ اکثر مفسرین کے نزدیک اسلام ہے، شاہ صاحب کے ترجمہ میں مسلمانی سے کیا گیا کہ اے ایمان والو مسلمانی اور اسلام میں داخل ہو جاؤ ۔
یہ آیت ایک نہایت ہی زور دار دعوت ہے، پیغام ہے، وارنگ و تنبیہ ہے، ایک مکمل انقلابی اعلان ہے کہ:
اسلام آدھا، ادھورا، جزوی یا موسمی طرزِ عمل کا نام نہیں… بلکہ ایک مکمل نظامِ زندگی ہے، ضابطئہ حیات ہے، دستور العمل ہے، جسے مکمل طور پر اختیار کرنا ہر مؤمن کی ذمہ داری ہے۔

  1. "ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً” – کا مطلب کیا ہے؟
    "سِلم” کا مطلب ہے اسلام، امن، فرماں برداری، اللہ کی اطاعت۔
    "کافۃً” یعنی پورے کے پورے، مکمل طور پر، ہر پہلو سے۔
    یعنی صرف نماز، روزہ، حج ،زکوة، یا ذکر و دعا ہی کافی نہیں؛
    بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں:
    – سیاست،
    – معیشت،
    – معاشرت،
    – اخلاق،
    – تعلیم،
    – قانون
    -تجارت
    ہر شعبے میں اسلام کو برتنے اور نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔
    اسلام کو اختیار کرنے کی اصل صورت تو یہ ہے کہ تحفظات اور مصلحتوں کا لحاظ کئے بغیر اس کو اپنایا جائے ۔اسلام جس چیز کو کرنے کو کہے اس کو کیا جائے اور جس چیز کو چھوڑنے کو کہے اس کو چھوڑ دیا جائے یہ کسی شخص اور کسی آدمی کا پورے کا پورا اسلام میں داخل ہونا ہے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی اسلام کو اسی حد تک اختیار کرے جس حد تک اسلام اس کی زندگی سے ٹکراتا نہ ہو ۔وہ اس اسلام کو لے لے،جو اس کے لیے مفید یا کم از کم بے ضرر ہو اور اس اسلام کو چھوڑے رہے جو اس کے محبوب عقائد ،اس کی پسندیدہ عادات ،اس کے دنیوی فائدے ،اس کے شخصی وقار ،اس کی قائدانہ مصلحتوں کو مجروح کرتا ہو ۔آدمی ابتدااً پوری طرح ارادہ کرکے اسلام اختیار کرتا ہے ۔ مگر جب وقت آتا ہے کہ وہ اپنے فکری ڈھانچہ کو توڑے یا اپنے مفاد کو نظر انداز کرکے اسلام کا ساتھ دے تو وہ پھسل جاتا ہے ۔ وہ ایسے اسلام پہ ٹہر جاتا ہے ،جس میں اس کے مفادات بھی مجروح نہ ہوں اور اسلام کا تمغہ بھی ہاتھ سے جانے نہ پائے ۔ (تذکیر القرآن/ تفسیر سورہ بقرہ)
    آج ہم مسلمانوں کی مسلمانی اور اسلام کا حال یہی ہے ۔
    الغرض زندگی کا ہر گوشہ اسلام کے تابع ہونا چاہیے۔
    مفسرین نے اس آیت کی جو وضاحت کی ہے، اس کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے ۔
    ابن کثیر رح لکھتے ہیں:
    "یہ آیت ان لوگوں کو مخاطب کر رہی ہے ،جو صرف جزوی طور پر اسلام کو قبول کرتے تھے، یعنی کچھ احکام کو مانتے اور کچھ کو چھوڑ دیتے۔ اللہ نے ان کو مکمل اسلام اپنانے کا حکم دیا۔”
    (تفسیر ابن کثیر، البقرہ: 208)
    امام رازی (تفسیر کبیر) میں لکھتے ہیں:
    "ادخُلوا فی السلم کافۃ” سے مراد ہے دل، زبان، عمل، نیت، اور ہر قدم پر مکمل اسلام۔
    صرف رسمی اسلام کافی نہیں، بلکہ اس کا اصل جوہر اپنانا فرض ہے۔
    مولانا مودودی (رح) – تفہیم القرآن:
    "یہ آیت بتاتی ہے کہ اسلام صرف مذہبی رسومات کا نام نہیں، بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے اور اس میں داخل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی پوری زندگی اس کی حدود میں آجائے۔”
    مولانا عبد الماجد دریابادی رح لکھتے ہیں ؛
    اسلام صرف چند عقائد یا چند عبادات یا صرف چند قوانین کا نام نہیں وہ تو ایک جامع مانع نظام حیات ہے، ایک مکمل و منظم دستور زندگی ہے انسانیت کے ایک ایک شعبہ ، ہر ہر گوشہ پر حاوی ،اور اس کا ہر جزو ،اس کے کل سے ،اس کے دوسرے اجزاء سے نہایت درجہ ملحق و مرتبط ، یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی شخص توحید اسلام سے لے لے ، لیکن عبادت کے لئے مسجد، مندر ،کلیسا سب کو یکساں سمجھے ، یا رسالت پر تو ایمان لے آئے ،لیکن معاشیات کے قاعدے کارل مارکس سے اور اخلاق کے ضابطے گوتم بدھ سے لینے جائے ،معادیات ،معاشیات ،اخلاقیات اجتماعیات اسلام کے سب اپنے ہیں ،کسی اور فلسفہ کسی اور دین کسی اور نظریہ کی پیوند کاری اس کے ساتھ نبھ ہی نہیں سکتی ،آیت کا حکم عام ہے لیکن شان نزول کی روایتوں سے پایا جاتا ہے کہ خطاب خاص نو مسلم یہودیوں کی طرف تھا ،یہ اسلام لانے کے بعد بھی یہ چاہتے ہیں کہ کچھ نہ کچھ رعایت اپنے عقائد قدیم کی کئے جائیں اور اسلام کی ایک مستقل شاخ یہودیانہ اسلام قائم کرلیں ،جس طرح بعد کے گمراہ فرقوں کے اثر سے معتزلی اسلام، شیعی اسلام ،نیچری اسلام ،قادیانی اسلام وغیرہ بہت سے فرقے قائم ہوکر رہ گئے ۔ (تفسیر ماجدی 1/ صفحہ 409)
    غرض اسلام میں اس کی گنجائش قطعا نہیں ہے کہ آدھا تیہا اور اونے پونے اسلام پر عمل کیا جائے، اس طرح کی مثلا اپنے کو کہلاتے رہو مسلمان ، لیکن رسمیں اختیار کرلو مجوس کی ، معاشرت لے لو مشرکین ہند کی ، قانون فوجداری اختیار کر لو ملحدین فرنگ کا، معاملات کرنے لگو دستور یہود کے مطابق ، شیطان کے نقش قدم پر چلنا یہی ہے کہ اسلام میں غیر اسلام کی آمیزش کی جانے لگے اور اسے اصلاحی یا تجدیدی کارنامہ سمجھا جانے لگے ۔
    اسلام کامل فرض ہے اور اس کا کامل ہونا واجب ہے کہ جو امر اسلام میں قابل رعایت نہ ہو ، اس کی رعایت دینے کی حیثیت سے نہ کی جائے اور ایسے امر کو دین سمجھنا یہ ایک شیطانی لغزش ہے، اور بہ نسبت ظاہری معاصی کے اس کے اشد ہونے کے سبب یہ عذاب کا زیادہ مظنہ ہے ،،(افادات تھانوی رح)
    حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں اس آیت کی اہمیت بہت زیادہ ہے ۔
    آج کا مسلمان
    نماز تو پڑھتا ہے، دیگر عبادات بھی کچھ نا کچھ ادا کرتا ہے، مگر کاروبار سود پر چلاتا ہے؛
    زکوٰۃ دیتا ہے، مگر رشوت بھی لیتا ہے؛
    حج کرتا ہے، مگر اخلاقیات میں صفر ہوتا ہے؛ معاملات اس کے بہت کمزور ہوتے ہیں ،
    اسلامی نام رکھتا ہے، مگر تہذیب، ثقافت ،کلچر، لباس، رہن سہن اور معاشرت و معاملات سب مغرب سے مستعار ہوتا ہے!
    اللہ ہمیں یہ بتا رہا ہے کہ:
    "اسلام کوئی buffet system نہیں کہ جو چیز پسند آئی، لے لی، اور جو دل کو نہ لگی، چھوڑ دی!”
    بلکہ یہ ایک کامل دستور العمل اور ایک مکمل نظام زندگی ہے، جس میں مکمل داخل ہونا ہی ایمانِ کامل کی علامت ہے۔
    آیت کا عملی پیغام یہ ہے کہ
  1. اپنا دین جزوی نہ بناؤ، مکمل اپناؤ۔
  2. عبادات کے ساتھ معاملات، اخلاق، معاشرت، سیاست، معیشت بھی دین کے مطابق ہو۔
  3. اسلام صرف مسجد میں عبادت کا نام نہیں، گھر، بازار، دفتر، عدالت سب کو شامل کرتا ہے کہ وہاں بھی اسلام کے نظام و دستور کو اپنی زندگی میں فالو کرو۔
  4. شیطان کی چالیں ہمیشہ انسان کو "جزوی نیکی” کی آڑ میں مکمل گمراہی کی طرف لے جاتی ہیں۔
    خلاصہ یہ کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ آیت ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم پورے کے پورے مسلمان بنیں، نہ صرف نماز روزے کی حد تک مسلمان، بلکہ کردار، سلوک و برتاؤ ،سیاست، اخلاق، معیشت، معاشرت اور معاملات کے میدان بھی مسلمان بنیں اور سو فیصد مسلمان بنیں۔
اگر ہم نے جزوی اسلام کو اپنایا اور باقی زندگی کو شیطان یا نفس کے حوالے رکھا، تو نہ دنیا سنورے گی، نہ آخرت ۔
نوٹ/ مضمون کا بقیہ حصہ کسی اور دن ملاحظہ فرمائیں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔