جگر مراد آبادی مرحوم اور اجمیر کا نعتیہ مشاعرہ
محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725
گزشتہ کل راقم الحروف نے شہر گونڈہ میں جگر مراد آبادی مرحوم کی قبر پر فاتحہ پڑھنے کے بعد ان کے بارے میں دوران سفر ہی ایک مضمون لکھا تھا ، ہمارے قارئین نے اسے بہت پسند کیا اور بعض نے خواہش کی کہ ابھی اور تشنگی باقی ہے ،مزید کچھ ان کے بارے میں لکھیں کہ تشنگی دور ہو اور جگر مرحوم کے بارے میں مزید واقفیت ہو اور ان کی شعری عظمت بھی ظاہر ہو، خاص طور پر ان کی مشہور نعت کافی بس اک نسبتِ سلطان مدینہ
کے حوالے سے
انہیں احباب کی خواہش پر اجمیر شریف نعتیہ مشاعرہ کے تعلق سے اس مضمون میں جگر مراد آبادی کے تعلق سے باتیں آئیں گی ۔
مولانا علی میاں ندوی رح نے پرانے چراغ جلد اول میں جگر مراد آبادی مرحوم کے تعلق سے لکھا ہے کہ جگر مراد آبادی اپنے عہد کے بڑے شاعر تھے ،آخری دور میں بلکہ کہنا چاہیے کہ غالب و مومن کے بعد جو دور شروع ہوتا ہے ،اس میں روایتی غزل گوئی جس کی بنیاد فارسی تغزل ،نزاکت و خیال اور معاملہ بندی پر پڑی تھی ، حسرت و جگر پر ختم ہوگئی ،آخر میں جگر ہی رہ گئے تھے ، جن کے سر پر اس تختی بر اعظم کے ادبی حلقوں نے ملک الشعرائی کا تاج رکھ دیا تھا ،ہندوستان اور پاکستان کے مشاعرے ان کی شرکت کے بغیر معتبر ہی نہیں سمجھے جاتے اور لکھنؤ تو اردو کا مرکز اور گونڈہ سے قریب ہونے کی وجہ سے ان کے نام و کلام سے گونج رہا تھا اور ان کی شاعری اور خوش نوائی کی دھوم مچی ہوئی تھی، غرض شوکت تھانوی کے بلیغ و معنی خیز الفاظ میں ،، ایک دنیا کی دنیا جگر کی مریض تھی ،، (پرانے چراغ جلد اول صفحہ 341)
جگر مرحوم کے متعلق مولانا علی میاں ندوی رح کے مذکورہ اقتباس اور تحریر سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ شعر و شاعری کی دنیا میں ان کا کیا مقام تھا اور ان کی شعری عظمت کس قدر مسلم ہے،
آج ہم ان کی شاعری کی فنی عظمت اور خصوصیات و امتیازات پر گفتگو نہیں کریں گے ،اس کے لیے کسی اور دن کی مجلس کا انتظار کریں ،آج ان کی مشہور نعت
اک رند ہے اور مدحت سلطان مدینہ
اس نعت اور اس کے پس منظر کے تعلق سے گفتگو کریں گے جو بہت دلچسپ بھی ہے اور موثر و بلیغ بھی ۔
دوستو!
انسان کو خدا کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہئے اور ساتھ ہی خدا کی طرف سے بخشش و مغفرت کی امید اور آس لگائے رکھنا چاہیے ۔ اللہ تعالٰی کب اصلاح حال کی توفیق دے دے اور کب بندہ کو پروانئہ مغرفت نصیب کر دے، یہ کسی کو معلوم نہیں ، بڑے سے بڑے شرابی، رہزن و قاتل، بادہ نوش و مے خوار ، ڈاکو اور قزاق کو بھی ان کے اصلاح حال کی طلب اور تڑپ (جو اس کے سینہ میں پوشیدہ تھی) کی بنا ایسی توفیق دی کہ وہ بعد میں مرجع خلائق اور ولی کامل بن گئے اور لوگ ان کی گرد دیوانہ وار آنے لگے، تاریخ میں سینکڑوں ایسی مثالیں اور واقعات موجود ہیں ۔ ۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو امید دلائی اور فرمایا: ،،لا تقنطوا من رحمتہ اللہ،، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ سے صدق دل سے توبہ کرنے کے بعد جس کو عربی زبان میں توبتہ نصوح کہا گیا ، انسان کا جرم و خطا معاف کردیا جاتا ہے، اور پھر وہ اپنے رب کی نگاہ میں توبہ اور ندامت کے صرف دو آنسو ٹپکانے کی وجہ سے محبوب ہوجاتا ہے ۔
حضرت جگر مرد آبادی مرحوم بھی ان لوگوں میں سے تھے ، جن کا ماضی ان کے حال و مستقبل سے بالکل برعکس تھا ، جام و صبو بادہ و ساغر کے ایسے عاشق اور عادی کے کوئی گھنٹہ اس کے بغیر نہیں گزرتا، لیکن خدا کی طرف سے توفیق اور اصلاح حال کا جب موقع ملا تو اس ام الخبائث سے تا زندگی اس طرح توبہ کیا اور اپنی سابقہ زندگی اور غلطی پر اس قدر نادم و پشیماں ہوئے کہ اللہ کو بندے کے حال پر ترس آگیا اور پھر ایسی مرجعیت اور محبوبیت و مقبولیت ملی کہ اہل اللہ اور صلحاء امت نے ان کو اپنے سے قریب کیا ، اپنی مجلس میں جگہ دی،اور محبت و شفقت اور لطف و کرم کی ان پر بارش کردی اور انعام و اکرام سے نوازا خدا غریق رحمت کرے اور جنت الفردوس میں جگہ دے خواجہ عزیز الحسن مجذوب رح کو کہ انہوں نے جگر مراد آبادی کی اصلاح حال کے لئے کیسی کوشیش کیں، کس طرح بے چین و مضطرب رہے اور حضرت تھانوی رح سے ملاقات کے لئے کس طرح رابط و واسطہ بنے، کس طرح دعائے نیم شبی میں ان کے لئے دعائیں کرتے رہے ، خدا ہمارے اندر بھی لوگوں کی اصلاح حال کے لئے یہی تڑپ اور جذبہ پیدا کردے آمین ۔
جگر مرحوم جب وہ پہلی بار اپنی توبہ پر قائم نہیں رہ سکے، تو مشہور فلسفی اور عالم دین مولانا عبد الباری ندوی رح بہت روئے دروازہ بند کرکے خوب اللہ تعالیٰ سے دعائیں کیں اور اس موقع انہوں نے بہت درد سے کہا تھا کہ ،، معلوم ہوتا ہے جگر خراب ہے دل اچھا ہے ،،
اور بقول حضرت مولانا علی میاں ندوی رح
،، واقعہ بھی یہی تھا کہ جگر کا دل ہمیشہ اچھا رہا ،معلوم نہیں کب اور کہاں ان کو یہ بری عادت پڑ گئی تھی ، لیکن دل و جگر کی یہ کشمکش ان کی زندگی میں ہمیشہ جاری رہی ،جگر پر بار بار اور سخت حملے ہوئے ،سوزش جگر نے ہمیشہ اپنی تسکین کا سامان مانگا اور سید انشاء کی زبان سے ہمیشہ کہا
لگا کے برف میں ساقی صراحی مے لا
جگر کی آگ بجھے جس سے جلد وہ شئے لا
لیکن قلب نے اپنا کام کبھی نہیں چھوڑا ،اس میں ان کی فطرت کی خوبی ،شرافت نسبی کو بھی دخل ہے اور ان کے دل کی بھی تعریف ہے،، (پرانے چراغ جلد اول)
بہر حال بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی ، اب ہم جگر مراد آبادی مرحوم کے اس واقعہ کو ہدئہ قارئین کرتے ہیں، جس واقعہ میں بہت کچھ عبرت و نصیحت کے پہلو ہیں ہمارے لئے ہیں ۔ خاص طور پر اس واقعہ سے ہم سب کو یہ پیغام ملتا ہے ، کہ انسان گناہ سے تو نفرت کرے گنہگار سے نفرت نہ کرے، کیونکہ کب وہ توبہ و معافی اور اصلاح حال کے بعد مقام و مرتبہ میں ہم سے آگے بڑھ جائے ہمیں اس کا علم نہیں ۔
۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اجمیر شریف میں نعتیہ مشاعرہ تھا، فہرست بنانے والوں کے سامنے یہ مشکل تھی کہ جگر مرادآبادی صاحب کو اس مشاعرے میں کیسے بلایا جائے ، وہ کھلے رند تھے اورنعتیہ مشاعرے میں ان کی شرکت ممکن نہیں تھی۔ اگر فہرست میں ان کانام نہ رکھا جائے تو پھر مشاعرہ ہی کیا ہوا۔ منتظمین کے درمیان سخت اختلاف پیداہوگیا۔ کچھ ان کے حق میں تھے اور کچھ خلاف۔ دراصل جگرؔ کا معاملہ تھا ہی بڑا اختلافی۔
بڑے بڑے شیوخ اور عارف باللہ اس کی شراب نوشی کے باوجود ان سے محبت کرتے تھے۔ انہیں گناہ گار سمجھتے تھے لیکن لائق اصلاح۔ شریعت کے سختی سے پابند علماء حضرات بھی ان سے نفرت کرنے کے بجائے افسوس کرتے تھے کہ ہائے کیسا اچھا آدمی کس برائی کا شکار ہے۔ عوام کے لیے وہ ایک اچھے شاعر تھے لیکن تھے شرابی۔ تمام رعایتوں کے باوجود علماء حضرات بھی اور شاید عوام بھی یہ اجازت نہیں دے سکتے تھے کہ وہ نعتیہ مشاعرے میں شریک ہوں۔آخر کار بہت کچھ سوچنے کے بعد منتظمین مشاعرہ نے فیصلہ کیا کہ جگر ؔکو مدعو کیا جانا چاہیے۔یہ اتنا جرات مندانہ فیصلہ تھا کہ جگرؔ کی عظمت کا اس سے بڑااعتراف نہیں ہوسکتاتھا۔جگرؔ کو مدعو کیا گیا تووہ سر سے پاؤں تک کانپ گئے۔ ’’میں گنہگار، رند، سیہ کار، بد بخت اور نعتیہ مشاعرہ! نہیں صاحب نہیں‘‘ ۔ اب منتظمین کے سامنے یہ مسئلہ تھا کہ جگر صاحب ؔکو تیار کیسے کیا جائے۔ ا ن کی تو آنکھوں سے آنسو اور ہونٹوں سے انکار رواں تھا۔ نعتیہ شاعر حمید صدیقی نے انہیں آمادہ کرنا چاہا، ان کے مربی نواب علی حسن طاہر نے کوشش کی لیکن وہ کسی صورت تیار نہیں ہوتے تھے، بالآخر اصغرؔ گونڈوی نے حکم دیا اور وہ چپ ہوگئے۔ سرہانے بوتل رکھی تھی، اسے کہیں چھپادیا، دوستوں سے کہہ دیا کہ کوئی ان کے سامنے شراب کا نام تک نہ لے۔ دل پر کوئی خنجر سے لکیر سی کھینچتا تھا، وہ بے ساختہ شراب کی طرف دوڑتے تھے مگر پھر رک جاتے تھے، لیکن مجھے نعت لکھنی ہے ،اگر شراب کا ایک قطرہ بھی حلق سے اتراتو کس زبان سے اپنے آقا کی مدح لکھوں گا۔ یہ موقع ملا ہے تو مجھے اسے کھونانہیں چاہیے،
شاید یہ میری بخشش کا آغاز ہو۔ شاید اسی بہانے میری اصلاح ہوجائے، شایدمجھ پر مرے آقا کا کرم ہوجائے، شاید خدا کو مجھ پر ترس آجائے ایک دن گزرا، دو دن گزر گئے، وہ سخت اذیت میں تھے۔ نعت کے مضمون سوچتے تھے اور غزل کہنے لگتے تھے، سوچتے رہے، لکھتے رہے، کاٹتے رہے، لکھے ہوئے کو کاٹ کاٹ کر تھکتے رہے، آخر ایک دن نعت کا مطلع ہوگیا۔ پھر ایک شعر ہوا، پھر تو جیسے بارش انوار ہوگئی۔ نعت مکمل ہوئی تو انہوں نے سجدۂ شکر ادا کیا۔ مشاعرے کے لیے اس طرح روانہ ہوئے جیسے حج کو جارہے ہوں۔ کونین کی دولت ان کے پاس ہو۔ جیسے آج انہیں شہرت کی سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچنا ہو۔ انہوں نے کئی دن سے شراب نہیں پی تھی، لیکن حلق خشک نہیں تھا۔ادھر تو یہ حال تھا دوسری طرف مشاعرہ گاہ کے باہر اور شہرکے چوراہوں پر احتجاجی پوسٹر لگ گئے تھے کہ ایک شرابی سے نعت کیوں پڑھوائی جارہی ہے۔ لوگ بپھرے ہوئے تھے۔ اندیشہ تھا کہ جگرصاحب ؔ کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے یہ خطرہ بھی تھاکہ لوگ اسٹیشن پر جمع ہوکر نعرے بازی نہ کریں۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے منتظمین نے جگر کی آمد کو خفیہ رکھا تھا۔وہ کئی دن پہلے اجمیر شریف پہنچ چکے تھے جب کہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ مشاعرے والے دن آئیں گا۔جگر اؔپنے خلاف ہونے والی ان کارروائیوں کو خود دیکھ رہے تھے اور مسکرا رہے تھے؎
کہاں پھر یہ مستی، کہاں ایسی ہستی
جگرؔ کی جگر تک ہی مے خواریاں ہیں
آخر مشاعرے کی رات آگئی۔جگر کو بڑی حفاظت کے ساتھ مشاعرے میں پہنچا دیا گیا۔ سٹیج سے آواز ابھری’’رئیس المتغزلین حضرت جگر مرادآبادی!‘‘ ۔۔۔۔۔۔اس اعلان کے ساتھ ہی ایک شور بلند ہوا، جگر نے بڑے تحمل کے ساتھ مجمع کی طرف دیکھا… اور محبت بھرے لہجے میں گویاں ہوئے۔۔
’’آپ لوگ مجھے ہوٹ کررہے ہیں یا نعت رسول پاک کو،جس کے پڑھنے کی سعادت مجھے ملنے والی ہے اور آپ سننے کی سعادت سے محروم ہونا چاہتے ہیں‘‘۔
شور کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ بس یہی وہ وقفہ تھا جب جگر کے ٹوٹے ہوئے دل سے یہ صدا نکلی ہے…
اک رند ہے اور مدحتِ سلطان مدینہ
ہاں کوئی نظر رحمتِ سلطان مدینہ
جوجہاں تھا ساکت ہوگیا۔ یہ معلوم ہوتا تھا جیسے اس کی زبان سے شعر ادا ہورہا ہے اور قبولیت کا پروانہ عطا ہورہا ہے۔نعت کیا تھی گناہگار کے دل سے نکلی ہوئی آہ تھی،خواہشِ پناہ تھی، آنسوؤں کی سبیل تھی، بخشش کا خزینہ تھی۔وہ خود رو رہے تھے اور سب کو رلا رہے تھے، دل نرم ہوگئے، اختلاف ختم ہوگئے، رحمت عالم کا قصیدہ تھا، بھلا غصے کی کھیتی کیونکر ہری رہتی۔’’یہ نعت اس شخص نے کہی نہیں ہے، اس سے کہلوائی گئی ہے‘‘۔مشاعرے کے بعد سب کی زبان پر یہی بات تھی.نعت یه تھی..
اک رند ہے اور مدحتِ سلطان مدینہ
ہاں کوئی نظر رحمتِ سلطان مدینہ
دامان نظر تنگ و فراوانیِ جلوہ
اے طلعتِ حق طلعتِ سلطانِ مدینہ
اے خاکِ مدینہ تری گلیوں کے تصدق
تو خلد ہے تو جنت ِسلطان مدینہ
اس طرح کہ ہر سانس ہو مصروفِ عبادت
دیکھوں میں درِ دولتِ سلطانِ مدینہ
اک ننگِ غمِ عشق بھی ہے منتظرِ دید
صدقے ترے اے صورتِ سلطان مدینہ
کونین کا غم یادِ خدا ور شفاعت
دولت ہے یہی دولتِ سلطان مدینہ
ظاہر میں غریب الغربا پھر بھی یہ عالم
شاہوں سے سوا سطوتِ سلطان مدینہ
اس امت عاصی سے نہ منھ پھیر خدایا
نازک ہے بہت غیرتِ سلطان مدینہ
کچھ ہم کو نہیں کام جگرؔ اور کسی سے
کافی ہے بس اک نسبت ِسلطان مدینہ