حضرت مولانا محمد قمر الزماں ندوی
مدرسہ نورالاالسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725
راقم الحروف کی مکمل تعلیم از ابتدا تا انتہا مدرسہ میں ہوئی ہے ،صرف ابتدائی ایک آدھ سال کی تعلیم پرائمری سکول میں ہوئی ہے ، میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں دینی ادارہ کا ہی خالص پروردہ اور پرداختہ ہوں ، اور مدرسہ کے ماحول کو، نشیب و فراز کو، اس کی ضرورت اور اہمیت و افادیت کو ، اس راہ کی مشکلات و مسائل کو بہت قریب سے جانتا ہوں یا بالفاظ دیگر اس کا قریبی شاہد اور گواہ ہوں ، تیس یا انتیس سال سے مدرسہ میں تدریس سے جڑا ہوں ، 1996ء میں جب سبیل السلام حیدرآباد میں تخصص فی الفقہ و الافتاء سال دوم میرا داخلہ ہوا تھا، تو اس وقت عربی اول اور دوم میں میرے ایک ایک گھنٹے تھے، تدریس کی ابتدا گویا وہیں سے ہوئی اور پھر 1997ء سے مسلسل مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ یوپی میں یہ خدمت انجام دے رہا ہوں اور بفضل خدا یک در بگیر و محکم بگیر پر میرا عمل ہے ، اللہ تعالیٰ مزید استقامت اور حوصلہ دے ۔امین آپ مخلصین و محبین بھی اس کے لئے دعا فرمائیں ۔
مدارس اسلامیہ کے نظام و نصاب پر، اس کی ضرورت و اہمیت پر وہاں کے مشکلات و مسائل پر اور جن جن امور میں اصلاح و ترامیم وقت کا تقاضا ہے ،اس پر میں برابر لکھتے رہتا ہوں اور قارئین کی خدمت میں پیش کرتا ہوں ، کیونکہ ہر شخص اپنے گھر کے بارے میں اچھی طرح جانتا ہے اور وہاں کے نشیب و فراز اور خوبی و خامی سے واقف ہوتا ہے ۔
آج کی مجلس میں، میں ایک بار پھر مدارس کے حوالے سے چند باتیں اور چند معروضات پیش کر رہا ہوں ،امید کہ قارئین اس کو پسند کریں گے اور اس سے بہت حد تک اتفاق کریں گے ۔
اس تحریر کی بہت سی باتیں اور شقیں پہلے بھی آچکی ہیں ،، قند مکرر ،، کے طور ان کو پھر سے ملاحظہ فرمائیں ۔
(م ق ن)
دینی مدارس اسلام کے قلعے ہیں، یہ مسلمانوں کے لیے پاور ہاؤس اور بجلی گھر کے حیثیت رکھتے ہیں،پوری دنیا میں اور خاص طور پر برصغیر میں اسلام اور مسلمانوں کی پہچان و شناخت زیادہ تر مدارس کی وجہ سے ہے۔ اسلامی شعائر کی حفاظت، اور عائلی نظام کے وجود و بقا میں مدارس کا کردار کسی سے مخفی اور پوشیدہ نہیں، آج اگر اسلامی معاشرہ میں دینی رمق اور ایمان کی کچھ حرکت و حرارت باقی ہے، تو یہ فیض اور احسان ہے انہی مدارس کا، اور باطل کو سب سے زیادہ ڈر اور خطرہ بھی انہی مدارس سے ہے کیونکہ اسے علم ہے کہ اسکے سارے منصوبے مدارس اور وہاں کے فارغین اور فیض یافتہ افراد کی وجہ سے ناکام ہو جاتے ہیں۔ علامہ اقبال نے بالکل سچ کہاہےکہ:-
اسی دریا سے اٹھتی ہے وہ موج تند جولاں بھی
نہنگوں کے نشیمن جس سے ہوتے ہیں تہ و بالا
مدارس کی اہمیت اور اس کی ضرورت کے سب قائل ہیں سوائے چند بے توفیق لوگوں کے جو آئے دن مدارس کے خلاف اور وہاں کے نظام کے خلاف بیجا تبصرہ کرتے رہتے ہیں۔ مسلمانوں کے خوشحال طبقہ میں بھی ان لوگوں کے خاصی تعداد ہے، جو اپنے قول و عمل سے دین کی ضرورت، اہمیت، اور برکت کے قائل اور معترف ہیں۔ مسلمانوں کا یہ طبقہ علم دین کے فروغ و بقااور ترویج واشاعت کے لئےمدارس اسلامیہ کی دامے درمے مدد تو کرتا ہے مگر اس طبقہ کو اس سعادت کی توفیق کم ہی ملتی ہے کہ وہ اپنی تمام اولاد کو نہ سہی، بعض ہی کو علم دین کے لیے وقف کر دے اور ان کو عالم دین، مبلغ اور داعی اسلام بنائے،راقم السطور کی فکر، سوچ اور خیال یہ ہے کہ دین کے مؤثر باکمال اور جاندار ترجمان اور داعی ومبلغ پیدا کرنے کے لیے دینی مدارس، جامعات اور درسگاہوں میں خاصی تعداد میں ان حضرات کا اپنی اولاد کو یہ تعلیم دلانا ضروری ہے، جنہیں اللہ تعالی نے خوشحال اور صاحب ثروت بنایا ہے، جو تجارت، زراعت، سرکاری یا نیم سرکاری اداروں میں ملازمت یا کسی جائز ذریعہ سے اپنی اولاد کے لیے رزق حلال کی ایسی سبیل اور ذریعہ رکھتے ہیں، جو انہیں سرکاری اداروں میں ملازمت اور کالج یونیورسٹی سے مستغنی کر دے۔۔
میں پورے یقین اوراعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں اور الحمدللہ مدرسہ میں تیس سالہ تدریس خدمت،تجربہ اور مشاہدہ کی بنیاد پر اس رائے اور خیال کا اظہار کر رہا ہوں کہ اگر معاشرے کے مالی اعتبار سے خوشحال، سر بر آوردہ ،زمانہ شناس اور مدنیت آشنا اور واقف طبقہ کے نو نہال اور نوجوان دینی تعلیم کی طرف متوجہ ہوں تو اسلام کو اور دین و علم کو ایسے ترجمان، داعی و مبلغ اور خادم مل جائیں جو یدعلیا، بلندنظری، وسیع القلبی اور خودداری و خود اعتمادی کی اعلیٰ صفات سے آراستہ ہو کر دین اور علم دین کی خدمت و اشاعت بحسن وخوبی انجام دیں گے، قوم ان کی رہنمائی کی ہر لمحہ محتاج ہوگی،وہ قوم و ملت کے دست نگر اور محتاج نہ ہوں گے ۔
الحمدللہ مسلمانوں میں ایسے علماء بھی، ہیں جو اصحاب ثروت گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور پوری خود اعتمادی اور بلند نظری کے ساتھ علمی تحقیقی اور دینی خدمت میں لگے ہوئے ہیں، لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے یا وہ صفر کے درجے میں ہے۔
بعض مالدار اور خوشحال حضرات کو دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی شرارتوں یا ذہنی دماغی کمزوری اور پڑھنے میں عدم دلچسپی سے عاجز اور تنگ آکر انہیں لئے ہوئے دینی درسگاہوں کا رخ کرتے ہیں گو کہ وہ ایسا کرنے میں اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ بچوں کے اخلاق کردار کی درستی اورعقل و شعور کی پختگی صحیح معنی میں دینی درسگاہوں میں ہی حاصل ہوتی ہے، مگر یہ طرز عمل اور رویہ اچھا نہیں ہے۔ میری نگرانی اور سرپرستی میں بہت سے ایسے بچے رہے جو دماغی اور ذہنی طور پر نسبتاً دوسرے بھائیوں سے کمزور تھے، ایک صاحب نے اپنے دوسرے تمام بچوں کو اسکول اور کالج اور یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم دلائی اور اپنے ایک معذور بچے کو یہ کہہ کر میرے مدرسہ میں داخل کروایا کہ ہم اس کو عالم اور داعی و مبلغ بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مجھے دھوکہ میں رکھ کر داخلہ کے لیے مدرسہ میں بھیج دیا اور یہ بھی نہیں بتایا کہ بچہ ذہنی و دماغی طور پر کمزور ہے، یہ تو مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ وہ بچہ ایسا ہے، میں نے اس شخص کو سخت سست کہا اور یہ سمجھ کر اس بچہ کی نگرانی اور سرپرستی قبول کر لی کہ بعید نہیں کہ اللہ تعالی مدرسہ کے ماحول میں رہنے کی وجہ سے اسے ہر اعتبار سے صحت مند کر دے اور آخرت میں وہ میرے اور میرے اہل و عیال کے لیے ذریعہ نجات بن جائے۔ وہ صاحب خرچ میں تو کوئی کمی نہیں کرتے لیکن جو طریقہ انہوں نے اختیار کیا اس سے مجھے تکلیف ہوئی۔ میں تو ایسے حضرات سے عرض کروں گا کہ وہ بچوں کی شرارتوں اور ذہنی و دماغی کمزوریوں سے عاجز آکر بادل ناخواستہ نہیں،
بلکہ دینی قدروں اور اور اس کی رفعتوں سے متاثر ہوکر پوری آمادگی کے ساتھ اپنی اولادوں کو دینی مدارس وجامعات اور درسگاہوں میں داخل کریں اور پھر اس کے بہتر اعلیٰ اور مثبت نتائج کا انتظار کریں۔
اس سلسلے میں ہم دینی درسگاہوں کے ارباب حل وعقد، ارباب اہتمام اور انتظامیہ سے عرض کریں گے کہ آپ اپنے حلقہ اثر کے مالداروں اور اپنے عقیدت مند خوشحال مسلمانوں کو ان کی اولاد کی دینی تعلیم کی دعوت و ترغیب دیں اور مالی اعانت کے حصول سے زیادہ دعوتِ حصول علم کو اہمیت دیں اور ایسے حضرات کی کشش کے لیے تعلیم و تربیت کا بہتر اور اعلیٰ معیاری نظام قائم کریں۔ ماہرین تعلیم جن کی قدیم صالح اور جدید نافع پر گہری نظر ہو، ان کی نگرانی میں عصر حاضر کی رعایت کرتے ہوئے نصاب تعلیم تیار کریں اور ماہر اساتذہ کی خدمات حاصل کریں اور ان کو اتنی معیاری تنخواہ دیں کہ وہ پورے طور پر یکسو ہو کر بچوں کو تعلیم دیں اس کے ساتھ ساتھ قیام و طعام کا اعلیٰ سے اعلٰی نظم کریں، نیز عمومی نظم و نسق میں حسن و خوبی اور سلیقہ و قرینہ کا اظہار کریں تو بعید نہیں کہ دینی مدارس کو مستطیع اور بامقصد وبا شعور طلباء کی ایک تعداد میسر
آجائے گی-
ہندوستان کے سارے مدارس کو تو اس نہج اور معیار پر نہیں لایا جا سکتا، لیکن کچھ مدارس تو اس نہج اور معیار پر چلائے اور کھولے جا سکتے ہیں-
الحمدللہ حالیہ برسوں میں اس طرح کی کچھ کوششیں ہندوستان میں کی گئی ہیں، جس کے بہتر اور مثبت نتائج آرہے ہیں،۔
اگر ہم اس طرح کے مزید کچھ معیاری مدارس اور جامعات قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے تو مستقبل میں علماء کی وہ جماعت تیار ہوگی جن کا ذکر ملت کی علمی تاریخ کا زریں ورق ہے اور بقول مولانا محمد رضوان القاسمی رحمت اللہ علیہ ،،تاجر تھے اہل حرفت تھے مگر ان میں سے ہر ایک علم و دین کا مرکز و مرجع، فی سبیل اللہ اس کی ترویج و اشاعت کے جذبے سے سرشار ،وقت کے بادشاہ اور حاکموں سے بے نیاز اور حق گوئی و بے باکی کا نمونہ تھا، ضرورت مندوں کو اپنی طرف سے بخشش و عطا اور داد و دہشت علمائے سلف کا شعار تھا، یہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا علم و عمل تھا، جو امت کو قاضی ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ جیسا فقیہ اور کتاب الخراج جیسی کتاب عطا کرنے کا ذریعہ بنا۔
غرباء کے دم سے دین قائم ہے، یہ بات اپنی جگہ۔۔۔بجا۔۔۔مگر قابل تحسین، اطمینان بخش، اور آخرت کی جواب دہی سے نجات دینے والی نہیں۔۔۔۔۔ آخرت میں نعمتوں کے متعلق پرسش ہوگی۔ (ثم لتسئلن یومئذ عن النعیم) مال اللہ کی نعمت ہے، اس کا وہ انفاق و استعمال جوابدالآباد تک صدقۂ جاریہ ہے اصلاح امت کا ذریعہ اور آئندہ نسلوں کی نجات کی وجہ بنے وہ یہ ہے کہ اصحاب ثروت اپنی اولاد کو علمائے دین کے اس گروہ میں شریک کرے جن کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔ لیتفقہو فی الدیین (تاکہ دین کے مسائل میں سمجھ بوجھ پیدا کریں) کے تحت آیا ہے،،۔
( مستفاد از کتاب ،،چراغ راہ از مولانا رضوان القاسمی رحمۃ اللہ علیہ)
ترتیب وپیشکش
حافظ محمد آفاق عادل
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
مَکْتَبُ الصُّفَّهْ : دینی تعلیمی ادارہ
مقصد : نئی نسل کے ایمان کا تحفظ
Maktabus Suffah Ⓡ
👇🔻👇🔻👇🔻👇
www.MSuffah.com
https://telegram.me/MSuffah
https://youtube.com/@msuffah
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
♡ ㅤ ❍ㅤ ⎙ㅤ ⌲
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ