اردو شعراء کی نذر عقیدت

مولانا محمد قمر الزماں ندوی صاحب

خاک یثرب از دو عالم خوشتر است
اے خنک شہرے کہ آنجا دلبراست

مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رح نے اپنی کتاب ،،کاروانِ مدینہ،، میں اُردو شعراء کی نذر عقیدت کے حوالے سے لکھا ہے کہ ،، نعت گوئی ،عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور شوق مدینہ ہندوستانی شعراء کا محبوب موضوع رہا ہے ،عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سرزمین حجاز سے گہری وابستگی اور شیفتگی ،ہندوستانی اسلامی ملت کے مزاج و عناصر ترکیبی میں شامل ہے ،اسی کی بدولت اس نے آٹھ سو برس تک اپنے جوہر کی حفاظت کی ہے ،ہندی مسلمانوں کا سرزمین حجاز سے عموما اور خاک یثرب سے خصوصا ایسا گہرا تعلق اور روحانی عشق ہے کہ ان کو وہاں مرنے کی آرزو اور وہاں کی زمین میں دفن ہونے کی تمنا رہتی ہے ،انیسویں صدی عیسوی کے ایک مشہور اردو شاعر کرامت علی شہیدی مرحوم نے یہاں تک تمنا کی کہ اگر ان کی لاش وہاں کی پاک سرزمین میں دفن ہونے کے قابل نہ ہو تو اس کے صحرا کے جانوروں ہی کا لقمہ بن جاتی ،ان کے اس قصیدہ کے دو مشہور شعر ہیں ع/
مدینہ کی زمیں کے گر نہ لائق ہو مرا لاشہ
کسی صحرا میں واں کے طعمہ میں دام اور دو کا
تمنا ہے درختوں پر ترے روضہ کے جا بیٹھے
قفس جس وقت ٹوٹے طائر روح مقید کا
شہیدی کی یہ آرزو اور تمنا پوری ہوئی 1255ہج میں حج و زیارت کے ارادہ سے گھر سے نکلے ،اس سال فریضئہ حج کرکے مدینہ منورہ جارہے تھے کہ راستہ میں بیمار پڑے ،جس وقت تمام منزلیں طے کرکے ایسے مقام پر پہنچے جہاں سے روضئہ اطہر نظر آتا تھا ،ایک حسرت ناک نظر اس پر ڈالی اور طائر روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ۔
یقینا اس ملت کا جسم سرزمین ہند میں رہتا ہے اور اس کا دل و روح سرزمین حجاز میں ،اور یہ یہاں پیدا ہونے اور یہیں مرنے کے باوجود ہمیشہ مدینہ کی گلیوں ہی کا خواب دیکھتی رہتی ہے اور زبان قال یا زبان حال سے ہمیشہ یہی صدا بلند کرتی رہتی ہے کہ ع/
خاک یثرب از دوعالم خوشتر است
اے خنک شہرے کہ آنجا دلبراست
(کاروانِ مدینہ 176/177)

اور بقول مولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی مدظلہ العالی ،، دوری و مہجوری درد و محبت میں ولولہ پیدا کرتی ہے دل کو تڑپاتی ہے اور پھر زبان عشق و محبت کے ناز و انداز اپناتی ہے اور ادب کے سوتے جاری ہوتے ہیں ،نعتیہ شاعری میں بلندی یہیں سے پیدا ہوتی ہے ،برصغیر کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اُردو میں نعتیہ شاعری کو اس نے مالا مال کیا ہے سیکڑوں دواوین مرتب ہوئے، پچاسوں مجموعے تیار کئے گئے اور لوگوں کو دلوں کی انگھیٹوں کو گرم کرنے کے مواقع حاصل ہوئے ،، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(مقدمہ بانگ حرم مرتبہ عبد العلیم ندوی رائے بریلیوی)
دوستو !
اصناف شاعری میں سب سے مشکل صنف نعت گوئی ہے ،اس کی راہ بہت دشوار اور کٹھن ہے ،اس میں بڑی،باریکی، نزاکت اور حساسیت ہے، اس میں حدود سے ذرا بھی کمی یا زیادتی ایمان کو خطرہ میں ڈال دیتی ہے ، بہر حال یہ صنف یعنی نعتیہ شاعری مشکل ہے ،اس کی راہ اور ڈگر آسان نہیں ہے ، یہی وجہ ہے کہ بہت سے شعراء نعت گوئی کے حدود و قیود کو قائم نہیں رکھ سکے اور اس وجہ سے اپنی حیثیت اور مقام باقی نہیں رکھ سکے ، حمد و مناجات میں بارگاہ رب العزت کے سامنے آدمی ہر طرح سے اپنے جذبات پیش کرسکتا ہے اور جتنا بھی بڑھتا چلا جائے اللہ تعالیٰ کی شان اس سے بھی کہیں زیادہ بلند اور ارفع ہے، اس کی حمد و تعریف کی کوئی حد اور انتہا ہے ہی نہیں ،الحمد للہ رب العالمین سے یہ واضح ہے ۔
لیکن نعتیہ شاعری میں عبد و معبود کا اور وحدانیت و رسالت کا فرق ملحوظ رکھنا ہوتا ہے، اگر یہ فرق باقی نہ رہے تو شرک ہے اور کمی کردے تو کفر سے اس کے ڈانڈے مل جاتے ہیں ، غرض یہ کہ شاعری کی یہ صنف بہت نازک اور حساس ہے اور کم لوگ اس کی نزاکتوں کو ملحوظ رکھ پاتے ہیں ۔
اس لیے نعت گوئی کے لیے شرط ہے کہ ہر نعت غلو اور بے جا خیال آفرینی سے پاک ہو اور شاعر نے جو بات کہی ہو اس میں عقیدے کی پاکیزگی اور فکر کی طہارت پوری طرح موجود ہو اور اس میں خالق و مخلوق اور عبد و معبود کے درمیان کی دیوار کا احترام کیا گیا ہو ۔۔
جن شعراء نے ان شرطوں کا لحاظ کرتے ہوئے عشق نبی میں ڈوب کر نعت گوئی کے فن کو ژندہ و تابندہ کیا ان کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے ۔ جن میں ایک نام حفیظ جالندھری مرحوم کا بھی ہے ۔ جن کے بعض نعتیہ اشعار نے وہ قبولیت حاصل کی کہ اس کی مثال نہیں ملتی، آج بھی اس میں وہی کیف و سرور اور جذب و مستی موجود ہے ، آپ ان اشعار کو گنگناتے جائیں گے اور جذب و کیف آپ پر طاری رہے گا ۔۔
ان میں سے ان کا وہ بے نظیر بے مثال نعت و منقبت ہے ،جس کا پہلا یعنی مطلع کا شعر ہے ع/

سلام اے آمنہ کے لال اے محبوب سبحانی
سلام اے فخر موجودات فخر نوع انسانی

حفیظ جالندھری مرحوم کی اس نعت میں عجیب تاثیر،تاثر،جذب، کیف، مستی، اور کشش ہے، الفاظ ہیں کہ جادو بار بار سننے کو دل کرتا ہے، لیکن پیاس اور تشنگی دور نہیں ہوتی، اس نعت و منقبت اور درود و سلام میں حضور نبی اکرم ﷺ کی تعریف و توصیف ایک منفرد اور نرالے و انوکھے انداز میں کی گئی ہے، اس نعت اور درود و سلام کے تمام اشعار پر اثر و معنی خیز اور اس کے ہر مصرعے مطلب سے پر ہیں۔ اس نعت کو جس خوش الحان شخص یعنی مفتی عبد اللہ صاحب نے آواز دی ہے، وہ بھی باکمال ہے، ہر شعر، اس کے ہر مصرعے اور اس کے ہر ہر لفظ میں جذبات ہے، مقناطیسیت ہے، کشش ہے، اور ایک جکڑ ہے، سننے والا سنے تو سنتا جائے،۔۔۔
میں جب بھی اس نعت کو سنتا ہوں تو سنتا رہ جاتا ہوں، بار بار سنتا ہوں، ماہ ربیع الاول میں تو ہر روز مکرر سنتا ہوں، کتنی دفعہ سنا مجھے یاد نہیں؛لیکن ہر مرتبہ وہی کیف ،وہی مزہ، ہر بار وہی مٹھاس اور چاشنی، ہر دفعہ وہی نغمگی، ہر گھڑی وہی شیرینی، ہر لمحہ وہی کشش اور ہر لحظہ وہی کھچاؤ محسوس کرتا ہوں۔
اسی طرح کی ایک نعت جناب ماہر القادری صاحب مرحوم نے بھی لکھی ہے ۔۔

سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دست گیری کی

، وہ نعت و سلام بھی بہت عمدہ، بے مثال ، لاجواب اور بہت ہی خوبصورت ہے۔ اس میں بھی نبی اکرمﷺ پر سلام بھیجا گیا۔
اور اِس میں بھی سلام بھیجا گیا۔
آپ بھی حفیظ جالندھری مرحوم کی نعت کو سنیے، پڑھیے اور سر دھنیے۔۔۔۔۔

سلام اے آمنہ کے لال اے محبوب سبحانی
سلام اے فخرِ موجودات فخرِ نوع انسانی

سلام اے ظلِ رحمانی، سلام اے نورِ یزدانی
ترا نقشِ قدم ہے زندگی کی لوحِ پیشانی

سلام اے سرِ وحدت اے سراجِ بزمِ ایمانی
زہے یہ عزت افزائی، زہے تشریف ارزانی

ترے آنے سے رونق آگئی گلزارِ ہستی میں
شریکِ حال قسمت ہو گیا پھرفضلِ ربانی

تری صورت، تری سیرت، ترا نقشا، ترا جلوہ
تبسم، گفتگو، بندہ نوازی، خندہ پیشانی

زمانہ منتظر ہے اب نئی شیرازہ بندی کا
بہت کچھ ہو چکی‌ اجزائے ہستی کی پریشانی

زمیں‌ کا گوشہ گوشہ نور سے معمور ہو جائے
ترے پرتو سے مل جائے ہر اک ذرے کو تابانی

حفیظ بے نوا کیا ہے گدائے کوچہِ الفت
عقیدت کی جبیں تیری مروت سے ہے نورانی

ترا در ہو مرا سر ہو مرا دل ہو ترا گھر ہو
تمنا ‌ مختصر سی ہے مگر تمہید طولانی

سلام اے آتشیں زنجیرِ باطل توڑنے والے
سلام، اے خاک کے ٹوٹے ہوئے دل جوڑنے والے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔