محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔
دگھی گڈا جھارکھنڈ 9506600725
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ہر انسان کے اندر دو مختلف صفات رکهی گئی ہیں, ایک نفس اماره دوسرے نفس لوامہ, یہ دونوں صفتیں پیدائشی طور پر ہر انسان کے اندر ہوتی ہیں- کوئی بهی انسان ان سے خالی نہیں ہے- نفس اماره سے مراد انانیت ہے اور نفس لوامہ سے مراد ضمیر ہے-
یہ دونوں صفتیں ابتدائی طور پر سوئی هوئی حالت میں هوتی ہیں-
اگر ان کو نہ جگایا جائے تو وه سوئی رہیں گے-
اگر کسی آدمی کے خلاف ایسی بات کہی جائے جو اس کو اشتعال دلانے والی هو تو اس کا نفس اماره جاگ پڑے گا اور پهر اس کا انجام وہی هو گا جیسے کسی سوئے هوئے سانپ کو جگا دیا جائے-
اس کے برعکس اگر آدمی سے نرمی کا سلوک کیا جائے تو اس کا نفس لوامہ جاگے گا- پہلے اگر دوسروں کو اس سے کاٹنے کا تجربہ ہوا تها تو اب دوسروں کو اس سے پهول کا تجربہ ہو گا- اب دوسروں کو اس سے انسانیت کی خوشبو حاصل ہو گی- اب وه دوسروں کے لیے رحمت کا نمونہ بن جائے گا-
(بحوالہ حکمت اسلام)
نفس کی مختلف قسمیں اور اس کے الگ الگ درجات و مراتب ہیں اور ہر ایک کی خاصیت الگ الگ ہے، سب سے آخری درجہ نفس مطمئنہ کا ہے۔
آج کی مجلس میں ہم صرف نفس امارہ اور نفس لوامہ پر گفتگو کریں گے ۔
نفسِ امارہ اور نفسِ لوامہ
انسان کے وجود میں ایک ایسی دنیا آباد ہے جو بظاہر نگاہوں سے اوجھل ہے، مگر اس کی پوری زندگی کے فیصلے بڑی حد تک اسی دنیا میں ہوتے ہیں۔ یہ انسان کا نفس ہے؛ کبھی اسے بلندیوں کی طرف لے جاتا ہے، کبھی خواہشات اور جذبات کے ہاتھوں اسیر بنا دیتا ہے، کبھی غلطی پر آمادہ کرتا ہے اور کبھی اسی غلطی پر ملامت کرکے انسان کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اسی لیے قرآن و سنت میں نفس کی اصلاح، تزکیہ اور تربیت کو انسانی کامیابی کا ایک بنیادی ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
نفس ایک ہی کیفیت اور ایک ہی درجے کا نام نہیں؛ اس کے مختلف احوال اور درجات ہیں۔ قرآن مجید نے مختلف مقامات پر نفس کی مختلف کیفیات کا ذکر کیا ہے۔ انہی میں نفسِ امارہ اور نفسِ لوامہ نہایت اہم ہیں۔ ایک انسان کو برائی کی طرف دھکیلتا ہے تو دوسرا برائی کے بعد اسے اندر سے جھنجھوڑتا اور ملامت کرتا ہے۔ ایک خواہشات کا غلام بنانے کی کوشش کرتا ہے، دوسرا ضمیر کی عدالت میں کھڑا کرکے اس سے بازپرس کرتا ہے۔ یوں انسانی زندگی کے اندر خیر و شر، خواہش و عقل اور غفلت و بیداری کی ایک مسلسل کشمکش جاری رہتی ہے۔
نفسِ امارہ وہ نفس ہے جو انسان کو خواہشاتِ نفس کی پیروی، گناہوں اور نافرمانیوں کی طرف مائل اور آمادہ کرتا ہے۔ قرآن مجید حضرت یوسف علیہ السلام کی زبان سے اس حقیقت کو بیان کرتا ہے: ﴿إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي﴾۔ نفس کی یہ کیفیت انسان کو فوری لذت کے پیچھے دوڑاتی ہے، انجام سے غافل کرتی ہے اور حق و باطل کے درمیان فرق کو خواہشات کے پردوں میں چھپا دیتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ انسان کو برائی صرف برائی کی حیثیت سے دکھائی نہیں دیتی؛ نفس اسے کبھی مصلحت، کبھی ضرورت، کبھی مجبوری اور کبھی حق سمجھ کر پیش کرنے لگتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو اپنے نفس سے سب سے زیادہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر صرف نفس امارہ جو خواہش نفس اور ترغیبِ معصیت کا ذریعہ ہے، اسی کو نہیں رکھا، بلکہ اسے ضمیر، احساسِ ذمہ داری اور رجوع کی صلاحیت بھی عطا فرمائی ہے۔ یہی کیفیت نفسِ لوامہ کے عنوان سے سامنے آتی ہے۔ قرآن مجید نے فرمایا: ﴿وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ﴾۔ یہ وہ نفس ہے جو انسان کے غلط قدم پر اسے ملامت کرتا ہے، لغزش کے بعد بے چین کرتا ہے اور اسے اپنے عمل کا محاسبہ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ انسان گناہ کرکے اگر بے چین ہو جائے، اپنی کوتاہی پر شرمندہ ہو، اپنے آپ کو ملامت کرے اور دو بارہ درست راستے کی طرف لوٹنے کی کوشش کرے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس کے اندر خیر کی چنگاری ابھی زندہ ہے۔
یہاں ایک نہایت اہم بات قابلِ غور ہے کہ نفسِ لوامہ بھی منزل نہیں، بلکہ سفر کی ایک اہم منزل ہے۔ صرف ملامت کافی نہیں؛ ملامت کے بعد اصلاح، اصلاح کے بعد مجاہدہ اور مجاہدے کے بعد استقامت مطلوب ہے۔ اگر انسان گناہ کرتا رہے، ضمیر اسے ملامت بھی کرتا رہے، مگر وہ توبہ و اصلاح کی طرف نہ بڑھے تو محض ندامت اسے نجات کی منزل تک نہیں پہنچا سکتی۔ البتہ جس شخص کے اندر اپنے احتساب اور اپنی اصلاح کا جذبہ پیدا ہوگیا، اس کے لیے خیر کی راہیں کھلنے کی امید پیدا ہو جاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کی سب سے بڑی جنگ کسی دوسرے انسان سے نہیں، بلکہ اپنے نفس سے ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے معرکے جیت لینا آسان ہوسکتا ہے، مگر اپنے نفس کی خواہش کو قابو میں رکھنا، غصے کے وقت خود پر قابو پانا، شہوت کے مواقع پر نگاہ اور دامن کی حفاظت کرنا، مال و منصب کے سامنے اصولوں پر قائم رہنا اور تنہائی میں بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا ،یہی اصل بڑا مجاہدہ ہے۔ جس نے اپنے نفس کو بے لگام چھوڑ دیا، وہ بظاہر آزاد ہوکر بھی خواہشات کا غلام ہے؛ اور جس نے اپنے نفس کی تربیت کرلی، اس نے حقیقی آزادی کا راستہ پالیا۔
اسی لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے نفس کی حرکات سے غافل نہ ہو۔ وہ ہر روز اپنا محاسبہ کرے کہ آج نفس نے کہاں اسے بہکایا، کہاں خواہش نے عقل پر غلبہ پایا، کہاں زبان سے لغزش ہوئی، کہاں دل میں کینہ، حسد، تکبر یا خود پسندی نے جگہ بنائی، اور کہاں ضمیر نے اسے ٹوکا۔ یہ خود احتسابی انسان کو غفلت کی تاریکی سے نکال کر بیداری کی روشنی میں لے آتی ہے۔
آج کی مجلس میں راقم الحروف نے اسی نہایت اہم اور بنیادی موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے نفسِ امارہ اور نفسِ لوامہ کی حقیقت، ان کی کیفیات، ان کے اثرات اور انسانی زندگی پر ان کے نتائج کو زیرِ بحث لایا ہے۔ کوشش کی گئی ہے کہ انسان اپنے باطن کی اس کشمکش کو سمجھے، نفسِ امارہ کے فریب سے باخبر ہو، نفسِ لوامہ کی آواز کو دبانے کے بجائے اسے اپنے لیے اصلاح کا ذریعہ بنائے اور اپنے اندر محاسبہ و مجاہدہ کی کیفیت پیدا کرے۔
یہ گفتگو دراصل انسان کو اپنے آپ سے متعارف کرانے کی ایک کوشش ہے؛ کیونکہ جو شخص اپنے نفس کو پہچان لیتا ہے، وہ اپنی کمزوریوں کو سمجھنے لگتا ہے، اور جو اپنی کمزوریوں کو سمجھ لے، اس کے لیے اصلاح کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔ نفس کی تہذیب ہی کردار کی تعمیر اور کردار کی تعمیر ہی ایک صالح زندگی کی بنیاد ہے۔
البتہ نفس کی اس روحانی منزل کا سفر یہیں ختم نہیں ہوتا۔ نفسِ امارہ کی سرکشی اور نفسِ لوامہ کی بیداری کے بعد انسان کے باطن کی ایک اور بلند اور پاکیزہ کیفیت سامنے آتی ہے، اور وہ ہے نفس مطمئنہ ہے۔ نفسِ مطمئنہ کیا ہے؟ اس کی حقیقت کیا ہے؟ اس کا مقام و مرتبہ کیا ہے اور انسان اس منزل تک کیسے پہنچ سکتا ہے؟ ان شاء اللہ اس پر آئندہ مجلس میں گفتگو ہوگی ۔