از قلم:مفتی محمد زبیر ندوی صاحب
دارالافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی
مکہ کی اسی وادئ پرشور جسے صحیح تعبیر میں وادئ غیر ذی زرع ہی کہا جاسکتا ہے میں قبیلہ قریش اپنی وہی آن بان کی زندگی گزاررہا تھا، خاندان قریش کے چشم و چراغ عبدالمطلب سربراہ قریش اور ہر کسی کے منظور نظر تھے، چاہ زمزم کی بازیابی اور نئے سرے سے اس کی درستگی ان کا وہ زریں کارنامہ تھا؛ جو سبھوں کو بچشم سر دکھائی دیتا تھا، خدا نے مال سے بڑھ کر نعمت عیال سے انہیں سرفراز کر رکھا تھا، اس نعمت سے سرفرازی نے ان کے اندر شکر گزارئ رب کا ایسا جذبہ پیدا کر دیا تھا؛ کہ انہوں نے منت مان لی؛ کہ اگر انہوں نے دس بیٹوں کو اپنے سامنے جوان دیکھ لیا؛ تو ایک کو خدا کی راہ میں قربان کردیں گے۔
بالآخر ان کا یہ جذبہ صادق کام آہی گیا اور خدا نے ان کی آرزو پوری کردی، ابوطالب کے آخری اور سب سے چھوٹے فرزند عبداللہ جن کا ستارہ اقبال محمد رسول اللہ کی شکل میں جلد ہی طلوع ہوا چاہتا تھا؛ اب جوانی کی دہلیز پر قدم رنجہ ہوچکے تھے، اور وہ گھڑی قریب آگئی تھی؛ کہ عبد المطلب اپنی نذر پوری کریں، کس بیٹے کی قربانی دی جائے؟ ایک اہم مسئلہ تھا، قرعہ اندازی کی گئی، ایک نہیں، تین تین بار، مگر وہی ستارہ، سب کی آنکھوں کا تارا، پیارےعبداللہ کا نام ہر بار نکلا؛ لیکن جس ستارے کے غروب ہوتے ہی طلوع آفتاب ہدایت ہونے کو تھا؛ کیونکر اس قربانی کی نذر ہوجاتا۔
عبداللہ کا نام آنا تھا کہ انکی بہنیں اشکبار ہوگئیں، باپ نے ذبح کی ہزار کوششیں کیں، لیکن بہنیں اور خاندان راضی نہ ہوا؛ بالآخر طے پایا کہ عبداللہ کے بدلے سو اونٹ ذبح کردیئے جائیں، اس طرح یہ ستارہ قبل از وقت غروب نہ ہوا، عبداللہ کی عمر سولہ سال سے کچھ متجاوز تھی، اہل خانہ کو فکر ہوئی کہ انکی شادی کردی جائے، عرب کا ایک مشہور اور بااثر خاندان قبیلہ بنوزہرہ تھا، وہب بن عبد مناف جو اسی قبیلہ کے چشم و چراغ تھے؛ کی دختر نیک اختر آمنہ بنت وھب تمام خانوادہائے قریش میں حسن سیرت اور حسن صورت کے اعتبار سے سب میں ممتاز تھیں، وہ اپنے چچا وھیب کے زیر تربیت تھیں، عبدالمطلب نے انہیں سے نکاح طے کردیا، اور عقد ہوگیا۔
عرب کا دستور تھا کہ شادی کے بعد تین روز تک نوشاہ اپنی سسرال میں رہتا تھا، اس دستور کا لحاظ عبداللہ کو بھی کرنا پڑا، تین دن تک وہ اپنی سسرال ہی میں رہے، تین دن بعد گھر لوٹے لیکن کسی کو کیا معلوم تھا یہ کہ رجوع نہیں؛ غروب ہے، آمنہ کے ارمانوں اور تمناؤں کے وہ چراغ جو ابھی جلے ہی تھے بیک جھونکا بجھ جائیں گے، حسین خوابوں کے محل تعمیر ہوتے ہی مسمار ہوجائیں گے، یقینا تقدیر تدبیر پر غالب آتی ہے، عبداللہ گھر لوٹے اور تجارت کے لئے ملک شام کا رخت سفر باندھا، تجارت سے واپس لوٹے تو مدینہ میں ٹھہرے، اور بیمار ہوکر یہیں رہ گئے، مکہ کا باندھا ہوا رخت سفر بالآخر آخرت میں جاکر کھلا، چراغ خانہ کے گل ہونے سے قبیلہ قریش اور خاندان بنو ہاشم کو سخت صدمہ ہوا، ان کی دلخراش یادیں آمنہ کو تا حیات بیتاب و مضطرب کرتی رہیں، لیکن وہ نور جاں نواز، وہ آفتاب عالمتاب، جس کی نورانی کرنیں جلد ہی دنیا کو ایک نئی روشنی دینے والی تھیں، اس کی آمد ابھی باقی تھی، یہ پوری روداد بس یوں تھی کہ:
ستارے ڈوبنا، شمع کا جلنا، رات کا ڈھلنا
بہت سے مرحلے ہیں،صبح کے ہنگام سے پہلے
20 اپریل سنہ 571 مطابق 9 ربیع الاول کی صبح جاں نواز کے کیا کہنے، اس شب ماہ و انجم نے کیسی کیسی بزم آرائیاں کی ہونگی، سیارگان فلک نے آنکھ مچولی کے کیا خوب لطف اٹھائے ہونگے، چمن زارہائے ارض و سماء نے غنچہائے رنگارنگ اور گلہائے نوشگفتہ کے کتنے سوغات نچھاور کئے ہونگے، ابر و باد کی تردستیوں اور نواہائے فطرت کی سرمستیوں نے کیا کیا جدت طرازیاں نہ کی ہونگیں، خلد بریں کے مکیں اور مسند آرائے دلنشیں حور و غلمان نے انبساط و مسرت کے کیا کیا شادیانے بجائے؛ اور دلفریبی و دلربائی کے کیا کیا ترانے نہ گائے ہونگے، آہوان آہستہ خرام پر کیسی کیفیت مستانہ رہی ہوگی، نامعلوم مدتہائے دراز سے چشم براہ آسمان لامکاں؛ اور کرہائے بے زباں نے اپنی خمار آلود آنکھوں سے کیا کیا مناظر دیکھے ہونگے، کہ آج کی صبح؛ صبح صادق کے وقت وہ رشک شمس و قمر، ہر کسی کا دلربا و دلبر، یتیم عبداللہ، جگر گوشۂ آمنہ، سید الکونین، رسول الثقلین، دانائے سبل، ختم الرسل، مولائے کل، شہنشاہ بطحاء، ہادئ دوجہاں، آفتاب رسالت، ماہتاب نبوت، سیدنا و مولانا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم عالم امکان سے آغوش آمنہ میں تشریف لے آئے۔
آپ کی آمد کا غلغلہ اٹھا؛ کہ صنم کدے ویران ہونے لگے، شاہان عجم کے قصرہائے فلک بوس زمیں بوس ہونے لگے، بعض روایات کے مطابق ایوان کسری کے چودہ کنگرے گرگئے، آتش کدہ فارس بجھ گیا، دریائے ساوہ خشک ہوگیا، شیرازہ مجوسیت بکھرنے لگا، نصرانیت کے اوراق خزاں دیدہ ایک ایک کرکے جھڑنے لگے۔
تمام خاندان قریش اور اس کے افراد مارے خوشی کے جھوم اٹھے، حضرت آمنہ کی خالی گود بھر آئی، دادا جان عبد المطلب کو خبر ہوئی؛ دوڑے آئے، پوتے کو لیا، پیار کے بوسے دیئے، اور سیدھے خانہ کعبہ پہونچے، شکر خداوندی ادا کیا، اور بچے کے لئے خوب خوب دعائیں کیں، ساتوے دن عقیقہ کی قربانی کی، تمام قریش مدعو تھا، دعوت کے بعد دادا نے آپ کا نام محمد تجویز کیا، اور پھر خدا کی قدرت؛ کہ یہ نام چہاردانگ عالم میں یوں بلند ہوا؛ کہ خدا نے فرمادیا: ” ورفعنا لک ذکرک ” کروڑوں کروڑوں درود و سلام ہو آپ پر اور آپ کے خاندان عالیشان پر ۔