حضرت مولانا محمد قمر الزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ
حق و باطل اور کفر و ایمان کے درمیان معرکہ آرائی ہمیشہ سے رہی ہے، چراغ مصطفوی سے شرار بو لہبی کی ستیزہ کاری کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں ہے، اس کا سلسلہ ہمیشہ سے جاری ہے ، باطل اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ اسلام کے خلاف ہمیشہ سرگرم عمل رہا، ابلیس اور اسکے چیلے چپڑے ہمیشہ کوشش میں رہے کہ اسلام مٹ جائے، مسلمان گمراہی میں مبتلا ہو جائیں، یہ باطل کے ہمنوا بن جائیں یا یہ لوگ صرف نام نہاد مسلمان بن کر رہیں۔ خطرات کب نہیں آئے، امتحانات کب نہیں ہوئے ہماری آزمائش کب نہیں ہوئی؟ یہ امتحانات اور آزمائش تو آتے ہی اس لیے کہ ہم س اپنا محاسبہ کریں، اپنے اندر تبدیلی اور بدلاؤ لائیں، اپنے رب کو راضی کریں،خدا کی مرضی پر چلیں، نفس کی پیروی کو ترک کردیں اور ایک مومن کی جو ذمہ داری اور فرض ہے،اس کو نبھانے والے بن جائیں، ان حالات اور آزمائش کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کے مقام کو بڑھانا چاہتے ہیں انہیں ابتلاء اور آزمائش میں گرفتار کرکے سرخ رو کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے مومن بندے کو حالات کا شاکی نہیں ہونا چاہیے، قضاء و قدر کے فیصلے پر راضی رہتے ہوئے مشکلات سے نکلنے کی تدبیر کرتے رہنا چاہیے۔
یہ سچ ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں مسلمان اور خصوصا ہندوستانی مسلمان، جن سخت اور مشکل حالات سے دو چار ہیں،وہ سب پر عیاں ہے کسی سے مخفی نہیں ہے ۔ اس طرح کے حالات ، بلکہ اس سے بھی سخت حالات کا ماضی میں مسلمانوں کو سامنا کرنا پڑا ہے۔ تاتاریوں کا حملہ اور اس کا ظلم و ستم اور مسلمانوں پر اس کا شب خوں تاریخ کے صفحات میں درج ہیں ، لیکن کیا مسلمان مٹ گئے ،یہ امت ختم ہوگئی اور ایمان والوں کا وجود مٹ گیا ؟ نہیں بلکہ مشکل حالات کے بعد آسانیاں مقدر ہوئیں اور اکثر تاتاری حلقہ بگوش اسلام ہوگئے ، علامہ اقبال مرحوم نے اسی پس منظر میں کہا تھا ؛
ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
اس لئے یہ یاد رہے کہ جب بھی اس طرح کے حالات کا انہیں سامنا کرنا پڑا اور محسوس ہوا کہ اب اسلام کا چراغ بجھ ہو جائے گا، ایسے موقع پر مسلمانوں نے اپنے عزم و حوصلے، صبر و ضبط اور جرآت، و استقلال اور غلطیوں کی اصلاح سے بہت جلد حالات کا رخ موڑ دیا، اور اس قرآنی وعدہ کو ثابت کردیا کہ جو چراغ ہمیشہ جلنے اور روشنی بکھیرنے کے لیے آیا ہے، اسے کوئی بجھا نہیں سکتا، موجودہ حالات کے بارے میں خاص طور پر اتری بھارت کے موجودہ حالات سے، ایک بڑی تعداد مایوسی اور ناامیدی کی شکار ہے،جب کہ اس طرح کے حالات سے ناامید اور مایوس نہیں ہونا چاہیے، ہاں اس پہلو پر غور کرنا چاہیے کہ یہ مصائب اور حالات آئے کیوں آئے اور کیوں آتے ہیں؟
سچ یہ ہے کہ یہ حالات اور مصائب ہمارے اپنے لائے ہوئے ہیں اور یہ حالات اس وقت تک نہیں بدل سکتے، جب تک ہم اپنی خامیوں اور کمیوں کو دور نہ کریں، جو ان حالات کے آنے کی وجہ بنی ہے۔ آج سب سے زیادہ انتشار ہماری صفوں میں۔ عدالت میں سب سے زیادہ فیصد اور تناسب کے اعتبار مقدمات ہمارے، سب سے زیادہ خاندانی جھگڑے اور تنازعات، مسلم فیملی میں۔ مدرسہ اور مسجد کے مقدمات بھی سرکاری عدالتوں میں ہمارے سب سے زیادہ، جبکہ ہمارا دعویٰ ہے کہ مسلم معاشرہ کے لیے اس کی حیثیت شہہ رگ کی ہے، اور یہ رشد و ہدایت کے مراکز ہیں اور یقینا ہیں۔ لیکن جو مرکز اور جگہ مسلمانوں کے لیے سب سے پاکیزہ اور محترم جگہ ہو وہیں اختلاف و انتشار ہو اور وہاں کے مقدمات سرکاری عدالتوں میں ہو یہ بہت افسوس اور شرمندگی کی بات ہے۔
آج حال یہ ہے کہ دینی اداروں تنظیموں جعیتوں اور جماعتوں میں سب سے زیادہ تنگ نظری اور تعصب ہے، اصلاح معاشرہ کی تحریک شروع کر رہے ہیں اور امت کی فکر کے لیے سر جوڑ کر بیٹھ رہے ہیں کہ ارتداد رک جائے ، بے حیائی کا خاتمہ ہو جائے ،منکرات پر روک لگے، برائیوں پر قدغن ہو ،اور پہلے ہی سے تعصب ،عصبیت اور تنگ نظری دلوں میں پالے ہوئے ہیں کہ اس تنظیم و تحریک میں کسی قاسمی کو نہیں رکھنا ہے، کسی مظاہری اور سلفی کو نہیں رکھنا ہے ، کسی جامعی کو جگہ نہیں ملنی چاہیے،سارے ندوی ہی رہیں گے، تو ادھر دوسری تحریک شروع ہورہی ہے ، اور پوری کوشش چل رہی ہے کہ اس تحریک کا حصہ صرف قاسمی رہیں گے، کسی ندوی کو اس میں قدم نہیں جمانے دینا ہے ، اب تو مسجدوں کے منبر و محراب پر بھی یہ چیزیں نظر آرہی ہیں، کہ اگر فلاں عالم نے سال لگایا ہے یا وہ میرے مزاج کے موافق ہے یا میری تائید کرتا ہے ، تو ٹھیک ہے ورنہ اس کو تقریر و خطاب سے روک دیں گے بلکہ روک رہے ہیں۔
ضرورت ہے کہ ہم اپنی کمیوں اور خامیوں کو خود پہلے تلاش کریں بلکہ پہلے تسلیم کریں، اپنا محاسبہ کریں، اپنا جائزہ لیں، اپنے اندر اخلاص و للہیت پیدا کریں۔
آج حال تو یہ ہے کہ ہمارے اندر احساس زیاں بھی نہیں ہے، احساس زیاں بھی اگر ہمارے اندر نہ ہو تو پھر ہم کر ہی کیا سکتے ہیں؟ اور ہم کیا انقلاب لا سکتے ہیں؟ علامہ اقبال مرحوم نے کارواں کے اندر اس احساس زیاں کے نہ ہونے پر بطور شکوہ کہا تھا کہ
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
اس لئے ضرورت ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو پہنچانیں، ان کو نشان زد کرکے ان کی اصلاح کریں،ہم محاسبہ کریں کہ ہم نے خود اپنے تئیں، اپنی ملت کے تئیں اور پوری قوم اور انسانیت کے تئیں اپنی ذمہ داری اور فرض کو ادا کیا یا نہیں ؟ جن کا خمیازہ آج ہم کو ہر جگہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ہم بہترین امت ہیں ,لیکن کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ہم نے اپنی ذمہ داریوں کے ادا کرنے میں کوتاہی کی ہے، جس عقیدہ اور پیغام کی تبلیغ و ترسیل کے لیے ہمیں بھیجا گیا ہے، اسے ہم نے اپنے تک محدود کر لیا ہے۔ ہم نے اپنی ذمہ داری کیساتھ کوتاہی کی، ساتھ ہم نے انسانیت اور مانوتا کے کاموں میں سرگرمی نہیں دکھائی،
حلف الفضول جیسا کوئی معاہدہ نہیں کیا ، مظلوموں کی داد رسی کے لئے کبھی متحد نہیں ہوئے اور نہ ہی برادران وطن کو اپنے ساتھ اس مہم میں شریک نہیں کیا ۔
جو تمام نبیوں کا خاص مشن رہا، اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی کمیوں اور غلطیوں کو محسوس کریں اور پوری جانفشانی کے ساتھ حالات کے مقابلے کے لیے ڈٹ جائیں۔ اس کے لیے ہمیں اولین فرصت میں ان چیزوں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
پہلی چیز یہ کہ ہم اپنے اندر سے ناامیدی اور مایوسی کو دور کر دیں، اور یہ یقین رکھیں کہ اگر ہم ایمان کے تقاضوں اور شرائط پر کھرے اتر جائیں گے،تو ہمیں سربلند رہیں گے۔ ہمیں کوئی مٹا نہیں سکتا، ہمیں کوئی ختم نہیں کرسکتا۔
دوسری چیز یہ ہے کہ متحدہ امور اور ایشوز پر سارے مسلمان متحد ہو جائیں اور سیسہ پلائی دیوار بن جائیں۔ ایک آواز ایک طاقت بن جائیں۔ ابھی مدارس اسلامیہ پر جو حالات آئے ہیں، اس کا مقابلہ سب مل کر کریں۔ اس میٹر پر سب متحد ہو جائیں،
جن صوبوں میں ووٹر لسٹ پر نظر ثانی کا کام چل رہا ہے ، مسلم تنظیمیں وہاں جاکر ان کے لیے کام کریں تاکہ کسی کام نام اور شناخت ختم نہ ہوسکے۔
تیسری چیز ظلم اور ہنسا کے خلاف ہم سب کو متحد ہونا چاہیے، خواہ وہ ظلم کسی کمیونٹی پر ہو ہم سب ایک آواز ہو کر،اس کے خلاف کھڑے ہو جائیں۔
چوتھی چیز ہمیں اس بات کی پوری کوشش کرنی چاہیے کہ مسلمانوں میں جو انتشار و اختلاف ہے، وہ ختم ہو، اگر ہم متحد ہوں گے تو ہمارا اپنا وجود اپنے آپ میں ایک قوت کی شکل میں ہوگا، جس کو ختم کرنا دشمن کے لیے ناممکن ہو گاَ ، اگر منتشر رہیں گے تو سرے سے ہمارا وجود ہی بے معنی ہوگا۔
پانچویں بات ہمارے پاس متحدہ نصب العین اور پلانگ ہو، ہم اچانک کسی معاملہ اور ایشوز کے حل کے لیے کھڑے ہوتے ہیں ،پہلے سے غور و فکر نہیں کرتے۔ الیکشن ہو جاتا ہے، باطل و فاشسٹ طاقت جیت جاتی ہے، تب ہم لائحہ عمل اور تجویز پیش کرتے ہیں۔ پہلے سے ہماری کوئی تیاری نہیں ہوتی۔
چھٹی بات ہم آپس میں ایک دوسرے کی کھینچا تانی اور ایک دوسرے پر الزام تراشی سے بچیں، کسی پر لعن طعن نہ کریں کہ ماضی میں اس نے یہ کیا اور وہ کیا۔ ہم آپس میں متحد ہوکر سیہ پلائی دیوار بن جائیں۔
ساتویں بات ہم جذباتیت اور مغلوبیت کے مظاہرہ سے پرہیز کریں، ہمیں سنجیدگی کے ساتھ کسی بھی معاملہ پر غور کرنے کی ضرورت ہے، اور یہ سمجھنا ہے کہ اچھے برے حالات زندگی میں آتے رہتے ہیں۔ پہلے بھی آتے رہے ہیں اور آگے بھی آتے رہیں گے، سخت حالات میں بھی ہمیں صبر و ضبط اور جرآت و ہمت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
آٹھویں بات یہ ہے کہ تعلیم و تربیت کے میدان میں ہم کو دوسری قوموں کے مقابلے میں زیادہ نمایاں رہنا ہے، اس کے لیے مضبوط اور ٹھوس قدم اٹھانا ہے، کیونکہ موجودہ جنگ جیتنے کے لیے سب موثر ہتھیار تعلیم ہے۔ ہم مدرسے کے نصاب کو حالات کے مطابق اپٹوڈیٹ کریں، جدید وسائل اور طرز تعلیم سے بھر پور استفادہ کریں، بچوں کو ملک اور دنیا کے جغرافیہ سے واقف کرائیں، جی کے یعنی جنرل نالج طلبہ کا بہت مضبوط ہو، میڈیا کے لوگ ہمارے ادارے میں آئیں تو ہمارے بچوں میں یہ صلاحیت ہو کہ ان کے سوالات کا جواب دے سکیں ۔ پہلے سے ہم اس کی جانب توجہ اور اس کی تیاری کرائیں، ہفتہ میں ایک دن انگریزی کے اساتذہ ان کو ملکی سیاست، عدلیہ اور ملکی جغرافیہ و قانون سے واقف کرائیں۔ ان کے اندر حوصلہ اور ملکہ پیدا کریں کہ وہ میڈیا کے سوالات کا اچھی طرح جواب دے سکیں۔ مدرسہ میں ڈبیٹ اور ماس میڈیا کا کورس تیار کیا جائے۔ اس وقت اس کی بہت ضرورت ہے۔ علم رہتے ہوئے ہم میڈیا کے سامنے جواب دینے سے گھبراتے ہیں،۔
نویں بات ہم کو اس ملک میں رہ کر یہ سمجھنا ہوگا کہ ہم یہاں ایک داعی کی حیثیت سے ہیں، ہمیں دعوت کے کاموں میں پوری دلچسپی کے ساتھ لگنا ہوگا اور سب تک دوست ہو یا دشمن اللہ کا پیغام پہنچا نا ہوگا۔ ہمیں کبھی اپنی اس حیثیت کو بھلانا اور نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
یاد رکھیں کہ ہماری جان عزت، مال اور آبرو کی حفاظت دعوت دین کو پہنچانے میں ہے۔ والله یعصمک من الناس مشروط ہے دعوت پر، تبلیغ پر، دین کی اشاعت پر اور لوگوں کو سچائی اور حق کی طرف بلانے پر۔
آخری بات جو دسویں بات ہےاور جو مسک الختام ہے وہ یہ کہ قرآنی تعلیم اور ہدایت یہ ہے کہ نازک صورتحال اور مشکل گھڑی میں میں ہمیشہ اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، توبہ و انابت کرنا چاہیے، ہم ظاہری اور مادی تدبیر تو کرتے ہیں لیکن اللہ کی طرف صحیح طور پر رجوع نہیں ہوتے۔ ہم کو یاد رکھنا ہے کہ اللہ کے حکم اور اس کی مرضی کے بغیر ہم کوئی کام انجام نہیں دے سکتے۔ ہم کو ایسے موقع پر اللہ کی طرف رجوع ہونا ہو گا ،اس کے بغیر یہ حالات ختم نہیں ہوں گے۔ اور یہ یقین رکھئیے کہ یہ حالات بہت جلد بدل جائیں گے، رات کتنی اندھیری ہو صبح کا آنا یقینی ہے۔ قرآن کا پیغام اور تعلیم ہے۔ ان مع العسر یسرا، فان مع العسر یسرا اور حدیث میں آتا ہے، ان مع العسر یسران۔۔ بس قرآن و حدیث پر ہمارا یقین اور ایمان مضبوط ہو جائے۔۔
طول غم حیات سے نہ گھبرا اے جگر
ایسی بھی کوئی شام ہے جس کی سحر نہیں
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
مَکْتَبُ الصُّفَّهْ : دینی تعلیمی ادارہ
مقصد : نئی نسل کے ایمان کا تحفظ
Maktabus Suffah Ⓡ
👇🔻👇🔻👇🔻👇
www.MSuffah.com
https://telegram.me/MSuffah
https://youtube.com/@msuffah
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
♡ ㅤ ❍ㅤ ⎙ㅤ ⌲
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ