افادات: حضرت مولانا مفتی محمد جمال الدین صاحب قاسمی دامت برکاتہم
نائب شیخ الحدیث و صدر مفتی دار العلوم حیدرآباد
ضبط وترتیب: محمد عبد العلیم قاسمی
الحمد لله نحمده ونستعينه ونستغفره و نؤمن به و نتوكل عليه ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضللہ فلا هادي له ونشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له ونشهد أن سيدنا ونبينا محمدا عبده ورسوله، أما بعد! فاعوذ بالله من الشيطن الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم: فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنزِلَ مَعَهُ ۙ أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ. (الاعراف:۱۵۷) صدق اللہ العظیم۔
میرے محترم بزرگو اور دینی بھائیو !
اللہ تعالی نے جب انسان کو پیدا فرمایا تو ساتھ ہی ساتھ یہ نظام بھی قائم کیا کہ اس کا تعلق اللہ تعالی سے جڑا اور برقرار رہے، اس تعلق کے جوڑنے کی ابتداء عہد الست سے ہوئی، اللہ تعالی نے ایک میدان میں حضرت آدم علیہ السلام کی پشت سے جتنے انسان خواہ مرد ہو یا عورت آنے والے تھے ان سب کو چیونٹی کی شکل میں جمع فرمایا، اور ان سے پوچھا: الست بربکم، کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ سبھوں نے یک زبان ہوکر جواب دیا: بلی کیوں نہیں ، آپ ہی ہمارے پروردگار ہیں، تو یہ سب سے اولین مرحلہ تھا جہاں اللہ تعالی سے تعلق جوڑا گیا، پھر اسی نظام کے تحت اللہ تعالی نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو دنیا میں اتارا، اور حضرت حوا رضی اللہ عنہا آپ کی رفیقہ حیات بنیں، اور پھر توالد و تناسل کا سلسلہ چلا، تو حضرت آدم علیہ السلام پہلے نبی قرار دیے گئے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کو اپنی ذات سے مربوط کرنے کے لیے اور تعلق جوڑے رکھنے کے لیے کیسا منظم نظام جاری فرمایا، کہ جو پہلا انسان تھا اسی کو پہلا پیغمبر بنایا، اور پھر نسل انسانی جب بڑھی تو قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر امت میں اور ہر بڑی اور قابل ذکر بستی میں اللہ تعالی نے نبیوں کو بھیجا تاکہ اس عہد الست کی یاد دہانی ہوتے رہے، اور یاد دہانی کے طریقے مختلف شریعتوں اور ادیان میں الگ الگ رہے؛ لیکن بنیادی طور پر یہ قدر مشترک تھا کہ ان کو عہد الست یاد دلایا جاتا رہا اور توحید کی دعوت دی جاتی رہی، تمام انبیاء نے اپنی اقوام کو یہی پیغام دیا، بالآخر یہ سلسلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوا، نبوت حضرت آدم سے جاری ہوئی اور اس کا اختتام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر ہوا، اب آپ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں، کسی رسول کی بعثت ہونے والی نہیں، کسی کتاب کا نزول ہونے والا نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت قیامت تک کے لیے ہے اور آپ کے اوپر نازل ہونے والی کتاب مقدس بھی قیامت تک کے لیے ہے، قیامت تک آنے والے حالات میں رہ نمائی کے لیے آپ کا لایا ہوا دین اسلام کافی و شافی ہے۔
فکر و عقیدہ کی درستگی
جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء کے بعد آئے اور آپ کو ختم الرسل کہا گیا کہ آپ انبیاء کے سلسلے کو ختم فرمانے والے ہیں تو اس امت پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا حق جو امت پر لازم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ فکر و عقیدہ کے لحاظ سے یہ امت راہ حق پر ہو، مطلب یہ کہ امت اپنا عقیدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح وابستہ کرے کہ آپ سب سے آخری نبی ہیں اور آپ کا لایا ہوا پیغام آخری ہیغام ہے، آپ کے لائے ہوئے پیغام میں ہی دنیا و آخرت کی کامیابی ہے، اس پیغام کے علاوہ کسی اور دین و مذہب میں نجات نہیں ہے، قرآن نے خود صاف صاف اعلان کردیا:
وَ مَنۡ یَّبۡتَغِ غَیۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِیۡنًا فَلَنۡ یُّقۡبَلَ مِنۡہُ ۚ وَ ہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ۔ (آل عمران:۸۵)
جو کوئی شخص اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرنا چاہے گا تو اس سے وہ دین قبول نہیں کیا جائے گا، اور آخرت میں وہ ان لوگوں میں شامل ہوگا جو سخت نقصان اٹھانے والے ہیں۔
اس آیت نے واضح کردیا کہ نہ ان ادیان میں نجات ہے جو ختم ہوچکے اور نہ ان میں جو باقی ہیں، نہ یہودیت میں، نہ نصرانیت میں، نہ ہندو مذہب میں اور نہ سکھ ازم میں، نجات اگر ہے تو وہ صرف اور صرف دین اسلام میں ہے، اس راہ سے جو منحرف ہوگا تو ہلاکت اس کا مقدر ہوگی، یہ عقیدہ ہر مسلمان کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کے بارے میں رکھنا ضروری ہے۔
عقیدہ ختم نبوت
خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے متعلق یہ عقیدہ رکھے کہ آپ آخری نبی ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں، اگر کوئی شخص نبوت کا دعوی کرتا ہے اور اپنے آپ کو پیغمبر، اللہ کا رسول اور فرستادہ بتلاتا ہے تو وہ جھوٹا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مسیلمہ نے نبوت کا دعوی کیا تھا تو اس کا نام ہی کذاب (بڑا جھوٹا) پڑگیا، آج بھی جب مسیملہ کا نام لیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ کذاب بھی ضرور کہا جاتا ہے، گویا کذاب اس کے نام کا جزو لا ینفک بن گیا، اس سے واضح ہوتا ہے کہ نبوت کا دعوی کرنا اتنی جھوٹی بات تھی کہ صحابہ کرام میں سے کسی نے بھی مسیلمہ کذاب سے دلیل نہیں پوچھی کہ تمہارے اس دعوی کی دلیل کیا ہے؛ کیوں کہ سورج کی روشنی کی طرح یہ بدیہی بات ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے، کوئی شخص اس کے خلاف لاکھ دلائل اکٹھا کرلے پھر بھی بھی وہ بات نا قابل قبول ہوگی، جس طرح توحید بھی ایک بدیہی امر ہے، اللہ کے ایک ہونے کا یقین ہمارے اندر اس طرح جاگزیں ہے کہ اب اگر کوئی نعوذ باللہ اس کے خلاف دعوی کرتا ہے، مثلا تین خداؤں کے ہونے کا دعوی کرے جیسے عیسائیوں کا مذہب ہے، یا دو خدا ہونے کا دعوی کرے جیسا کہ زرتشت کا مذہب ہے، کہ خیر کا خالق یزداں اور شر کا خالق اہرمن ہے، یا اور دیگر مذاہب جن کے معبودان کا کوئی شمار نہیں، تو اگرچہ ان کے پاس (ان کے گمان کے مطابق) اس پر دلائل بھی ہوں ؛ لیکن پھر بھی ان کی بات نا قابل اعتبار ہوگی۔
امام رازی رحمہ اللہ کا واقعہ
امام رازی رحمہ اللہ کا ایک مشہور واقعہ ہے، وہ ایک شیخ سے بیعت تھے، بڑے ذی علم و فضل تھے، یہود و نصاری آپ کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ شخص دین اسلام کا زندہ و جاوید معجزہ ہے، کہ ایسا علم والا محقق و مدقق باکمال شخص دین اسلام کو تھاما ہوا ہے تو یہ حقانیت اسلام کی دلیل ہے، آپ کے پاس وحدانیت پر ایک دو نہیں سو دلائل تھے، جن کے ذریعہ وہ اللہ تعالی کے ایک ہونے کو ثابت کرتے تھے، جب نزع کا وقت آیا تو شیطان آ دھمکا، اس نے کہا کہ تم جو اللہ کو ایک مانتے ہو اس کو دلیل سے ثابت کرو، آپ نے دلیل دینی شروع کی، ایک دلیل دی شیطان نے اس کا رد کردیا، دوسری دلیل دی شیطان نے اس کو کاٹ دیا، تیسری دلیل دی شیطان نے اس کو بھی کاٹ دیا، اس طرح آپ جو بھی دلیل دیتے شیطان اس کا نقض کردیتا، شیطان بڑا علم والا اور بزرگ ہے، تبھی تو وہ بڑے بڑے لوگوں کو گمراہ کرتا ہے، اب امام رازی رحمہ اللہ پریشان ہونے لگے کہ دلائل کے انبار تو ختم ہوتے جارہے ہیں۔
خاتمہ بالخیر نہایت ہی اہم امر
اور یہ مرحلہ بھی بڑا نازک تھا، نزع کے وقت میں شیطان انسان پر بڑا حملہ کرتا ہے؛ اس لیے خاتمہ بالخیر کی دعا مانگتی رہنی چاہیے، اپنے ایمان کے بارے میں انسان کو بہت زیادہ مطمئن نہیں ہونا چاہیے کہ ہم تو نماز روزہ کے پابند ہیں، زکوۃ پابندی سے ادا کرتے ہیں، نیکیاں کرتے رہتے ہیں ہمارا خاتمہ تو اچھا ہی ہوگا! نہیں! ایمان کے بارے میں ہمیشہ متفکر رہنا چاہیے، عموما ہمارا مزاج یہ ہے کہ جب عمر گزرجاتی ہے، دنیا سے مایوس ہوجاتے ہیں اور اپنا وقت قریب لگنے لگتا ہے تب ہر وارد و صادر سے کہنے لگتے ہیں کہ خاتمہ بالخیر کی دعا کرو، حالاں کہ کس وقت کس کا بلاوا آجائے کسی کو معلوم نہیں، جانے والوں میں لاغر مریض اور صاحب فراش بیمار بھی ہیں، اور ہٹے کٹے تندرست و توانا بھی، بوڑھے بھی ہیں، جوان بھی اور بچے بھی، تو جب موت کبھی بھی آسکتی ہے تو ہمیشہ انسان کو خاتمہ بالخیر کے بارے میں متفکر ہونا چاہیے۔
امام احمد رحمہ اللہ کی ایمان کے تعلق سے حساسیت
امام احمد رحمہ اللہ کے بارے میں آتا ہے کہ جب آپ کا انتقال ہونے لگا اور غشی طاری ہونے لگی تو جب بھی اس سے افاقہ ہوتا تو فرماتے : ابھی نہیں! ابھی نہیں! تیمار داروں نے آپ سے وجہ دریافت کی تو فرمایا کہ شیطان اس وقت آتا ہے اور کہتا ہے: احمد بن حنبل! تم ہمارے چنگل سے بچ گئے، تو میں اس کو یہ جواب دیتا ہوں کہ ابھی نہیں! پتہ نہیں تم کون سی چال چلوگے کہ میرے ایمان اس کی زد میں آجائے گا، یہ اس شخص کا حال ہے جو امام الفقہ و الحدیث تھا، جن کی فقہ پر عمل کرنے والے دنیا کے مختلف گوشوں میں آج بھی موجود ہیں، جن کے اجتہادات کو امت کے درمیان تلقی بالقبول حاصل ہوا، حدیث میں جن کی کتاب تیس سے چالیس جلدوں پر مشتمل ہے، جو مسند احمد کے نام سے مشہور ہے، جس سے آج بھی اہل علم مستفید ہورہے ہیں، ایسے عظیم المرتبت امام کی اپنے خاتمہ بالخیر کے سلسلے میں اتنی فکر مندی ہے تو ہمیں بھی اپنے ایمان کے بارے میں ہمیشہ متفکر اور چوکنا رہنا چاہیے؛ کیوں کہ یہی ہر مسلمان کی قیمتی چیز اور عمدہ سرمایہ ہے، جو اس کو بچاکر لے جائے اسی سے جنت کا وعدہ ہے، اور جس سے یہ سرمایہ کھوگیا تو جنت اس کو نہیں مل سکتی، رہا زندگی بھر مؤمن، لوگ اس کو مؤمن سمجھتے رہے؛ لیکن آخر وقت میں کفر صادر ہوگیا تو اس سے بڑا خسارے والا کون ہے؟ اعاذنا اللہ منہ و توفنا مسلمین۔
تو امام رازی رحمہ اللہ کے دلائل کو شیطان یکے بعد دیگرے کاٹتا رہا، اب آپ کے دل میں خیال آیا کہ اگر اس حال میں میں اللہ سے ملوں گا کہ میرے دل میں شک وشبہ رہ جائے تو میرا انجام کیا ہوگا، اس وقت انہوں نے جو ایک اللہ والے سے تعلق قائم کر رکھا تھا ان بزرگ کے ذریعے اللہ تعالی نے آپ کی دست گیری فرمائی، وہ بزرگ وضو کررہے تھے، اسی حالت میں ان کو امام رازی کی حالت کا کشف ہوا، تو آپ نے اسی وقت زور سے فرمایا: آپ یہ کیوں نہیں کہہ دیتے کہ میں اللہ کو یکہ و تنہا بلا دلیل مانتا ہوں، اللہ نے یہ آواز امام رازی تک پہنچادی، جیسا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مدینہ منورہ میں منبر رسول پر چڑھ کر لگائی گئی آواز: یا ساریۃ الجبل اللہ تعالی نے دور دراز جگہ فارس تک پہنچادی، اور اسلامی فوج کے کمانڈر ساریہ یہ آواز سن کر پہاڑ کی جانب متوجہ ہوئے اور نتیجۃ آپ کو فتح نصیب ہوئی، تو جس طرح حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی آواز اللہ تعالی نے پہنچادی اسی طرح یہاں بھی امام رازی تک ان کے شیخ کی آواز پہنچی، امام رازی نے یہ سن کر وہی جملے کہے، اور پھر آپ کی روح پرواز کرگئی۔
ختم نبوت کے عقیدہ پر انتہا درجہ کا تصلب
تو جیسے توحید کے بارے میں ہم بداھۃ مانتے ہیں کہ اللہ تعالی ایک ہیں، اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اور اگر کوئی اس کے خلاف بھی کہہ دے تو ہم اس کی بات قبول کرنے کے روادار نہیں ہوتے، اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے پر ہمارا عقیدہ مضبوط ہونا چاہیے، اور اگرچہ ہمیں ایک دلیل بھی معلوم نہ ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کی اور سامنے والا اپنی نبوت پر دلائل پیش کررہا ہو تب بھی ہر مسلمان کا عقیدہ اس طرح مضبوط و قوی ہونا چاہیے کہ وہ پورے یقین کے ساتھ اس کے دعوے کی تکذیب کردے اور اس کی بات قبول کرنے سے انکار کردے۔
اور اسی عقیدہ کی وجہ سے ہر دور میں مدعیان نبوت کو کافر قرار دیا گیا، ماضی قریب میں غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعوی کیا تھا تو سارے علماء نے متفقہ طور پر اس کو کافر قرار دیا، ان کے فتنے سے بچنے کی بھی سخت ضرورت ہے؛ کیوں کہ یہ لوگ خود کو مسلمان کہتے ہیں، تقریبات میں شرکت کرتے ہیں اور خوشی غمی میں ساتھ ہوتے ہیں، پھر جب کسی کو دیکھتے ہیں کہ وہ بالکل قابو میں آچکا ہے تو پھر قادیانیت کی جانب اس کو پھیردیتے ہیں، اور غلام احمد کی نبوت پر ایمان لانے کے لیے کہتے ہیں، ہم کو ایسے موقعہ پر بالکل سوچنا نہیں چاہیے، اور دلیل مانگنے کے بجائے فورا جھٹلادینا چاہیے جیسے صحابہ کرام نے مسیملہ کذاب کے دعوے کو جھوٹا کہا حتی کہ اس سے جہاد کیا اور تہ تیغ کیا، ایسے ہی ہمارا عقیدہ ہونا چاہیے۔
حاصل یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس امت پر سب سے اہم ترین حق یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی اور رسول ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی و رسول آنے والا نہیں، اور آپ کا لایا ہوا دین ہی قابل عمل و لائق اتباع ہے، اور اسی میں نجات منحصر ہے، اللہ تعالی فکر و عقیدہ کے لحاظ سے درست راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
مَکْتَبُ الصُّفَّهْ : دینی تعلیمی ادارہ
مقصد : نئی نسل کے ایمان کا تحفظ
Maktabus Suffah Ⓡ
👇🔻👇🔻👇🔻👇
www.MSuffah.com
https://telegram.me/MSuffah
https://youtube.com/@msuffah
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
♡ ㅤ ❍ㅤ ⎙ㅤ ⌲
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ