حضرت مولانا محمد قمر الزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ
سورئہ لقمان یہ مکی سورہ ہے،جو 24/ آیات پر مشتمل ہے ،ترتیب میں 13/ ویں سورہ ہے ۔ اس کا نام لقمان اس لئے ہے کہ اس میں حضرت لقمان علیہ السلام (جو جہمور علماء کی تحقیق کے مطابق اللہ کے نبی نہیں، بلکہ ایک بڑے ولی تھے) کی وہ نصیحتیں مذکور ہیں، جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کری تھی ، یقینا وہ نصیحتیں، انتہائی اہم ،قیمتی، انمول،بیش بہا اور بہت ہی موثر ہیں، وہ انمول موتی اور گنج ہائے گراں مایہ ہیں، اگر ان نصیحتوں پر انسان عمل پیرا ہو جائے تو دین و دنیا دونوں میں کامیاب و کامران ہو جائے گا ۔اس سورہ کے اہم مضامین میں حضرت لقمان کی نصیحتیں ہیں ، اللہ تعالیٰ کے لا محدود علم کا تذکرہ ہے ۔ایک بات کا اعادہ ہے ،جو سورہ عنکبوت میں کہی گئی ہے کہ والدین کی اطاعت لازم ہے، مگر وہ خالق کی معصیت کا حکم دیں ،تو ہرگز اطاعت نہ کی جائے گی ۔ اس سورہ میں لوگوں کو شرک کی لغویت و نامعقولیت اور توحید کی صداقت و معقولیت سمجھائی گئی ہے اور انہیں دعوت دی گئی ہے کہ باپ دادا کی اندھی تقلید سے توبہ کریں اور کھلے دل سے اس تعلیم پر غور کریں ،جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا وند عالم کی طرف سے پیش کر رہے ہیں اور کھلی آنکھوں سے دیکھیں کہ ہر طرف کائنات میں خود ان کے اپنے نفس میں کیسے کسیے صریح آثار اس کی سچائی پر شہادت دے رہے ہیں ۔
آج کی مجلس میں ہم حضرت لقمان علیہ السلام کی نصیحت، جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کی تھی ،اس کی روشنی میں اولاد کی تربیت پر کچھ روشنی ڈالیں گے ، خدا کرے یہ تحریر اور خاص طور پر حضرت لقمان علیہ السلام کی یہ نصیحت ہمارے لئے ہدایت ، عبرت اور سبق و درس کا ذریعہ بن جائے آمین
سورۂ لقمان میں حضرت لقمان نے جو وصیت و نصیحت اپنے بیٹے کو کی تھی،حق جل عز وجل اُسے قرآن مجید میں بیان فرماتے ہیں کہ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا :
’’ اور اُس وقت کا ذکر کیجئے جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اے بیٹے! اللہ کا شریک نہ ٹھہرانا ،بے شک شرک بڑا بھاری ظلم ہے ‘‘۔
آگے حضرت لقمان نے فرمایا کہ :
’’ اے میرے بیٹے!اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر ہو (تو بھی اسے معمولی نہ سمجھنا،وہ عمل ) کسی پتھر میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا پھر زمین کے اندر(زمین کی تہہ میں چھپا ہوا ہو ) اللہ تبارک وتعالیٰ اسے ظاہر کر دے گا،
بے شک اللہ تعالیٰ بڑا باریک بین و باخبر ہے
،اے میرے بیٹے! نماز قائم کرو ،اور اچھے کاموں کی نصیحت کیا کرو ،اور برے کاموں سے منع کیا کرو،اور جو کچھ پیش آئے اس پر صبر کیا کرو،
بے شک یہ(صبر) ہمت کے کاموں میں سے ہے ،اور لوگوں سے بے رخی مت اپناؤ،اور زمین پر تکبر سے مت چلو(کیونکہ) بے شک اللہ تعالیٰ کسی متکبر کو پسند نہیں فرماتے ،اور اپنی چال میں میانہ روی و اعتدال اختیار کرو،اور اپنی آواز کو پست رکھو ،بے شک سب سے بری آواز گدھے کی ہے ۔‘‘ (سورۃ لقمان ،آیت نمبر12 اور 16 تا 19 )۔
اس آیت کریمہ میں حق تعالیٰ نے حضرت حکیم لقمان کی دانائی و حکمت والی نصیحتیں جو انہوں نے اپنے فرزند سے کیں انہیں بیان فرما کر چند باتوں کی طرف رہنمائی فرمائی ہے ۔
حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو اس کے نام سے نہیں پکارا ،بلکہ اے میرے بیٹے کہہ کر پکارا ہے ،جس سے پتہ چلا کہ نام لینے سے محبت کا وہ اظہار نہیں ہوتا ،جو’’ اے میرے بیٹے ‘‘کہنے سے محبت کا اظہار ہوتا ہے ۔
جس طرح ماں لاشعوری عمر میں بچے کو محبت میں ’’میرا لعل ،میرا چاند، میرا گڈو، ،میرا مٹھو،میرا سوہنا‘‘ وغیرہ جیسے القاب سے پکارتی ہے، اسی طرح جب بچہ شعوری عمر کو پہنچ جائے تو بھی اس سے اسی اندازِ محبت میں بات کریں گے تو ماں باپ کی بات بچے کے دل ودماغ پر اثر انداز ہوگی ۔
اس کے بعد سب سے پہلی نصیحت جو حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو کی ،وہ توحیدِ باری تعالیٰ سے متعلق تھی ،
کہ’’ میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا‘‘ ۔
اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ بچے کو سب سے پہلی دینی عقائد وافکار کی تعلیم دینی چاہیے تاکہ بڑا ہو کر وہ موحد اور ایک اچھا مسلمان بنے ۔اُس کے عقائد جب صحیح ہوں گے تو اعمال بھی ان شاء اللہ صحیح ہوں ۔
اگر عقائد قرآن وسنت سے متصادم ہوئے تو یہ یقین نہیں کیا جاسکتا کہ راست اعمال کرے گا ،اس لئے سب سے پہلے بچے کو دینی تعلیم دی جائے۔
قرآن وسنت کی تعلیم ماہرین قرآن وسنت سے دلوائی جائے۔ہمارے معاشرے کا یہ بھی ایک المیہ ہے کہ جسمانی تکلیف مثلاً دانت میں درد ہو تو ہم دانت کے ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں ،دل کا مسئلہ ہو تو ہارٹ اسپیشلسٹ کے پاس جاتے ہیں
لیکن جب علم قرآن کریم واحادیث نبویہ ؐ کا معاملہ پیش آتا ہے تو ہم ایک مستند عالم ِدین کو چھوڑ کر غیر عالم کے پاس جاتے ہیں ،جس سے اکثر بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے ۔
آگے حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا کہ’’ میرے بیٹے! عمل رائی کے دانے کے برابر بھی ہو تو روزِ محشر اللہ تعالیٰ اسے تمہارے سامنے لے آئیں گے ۔‘‘
یعنی کوئی عمل وہ اچھا ہویا برا ،اسے معمولی مت سمجھنا کہ روزِ محشر تمہیں اس کا سامنا کرنا پڑے گا ۔اگر عمل صالح ہے تو وہ تمہارے لئے روزِ محشر مفید ثابت ہو گا اور ہوسکتا ہے کہ جسے تم معمولی سمجھو روزِ محشر وہی تمہاری شفاعت کا سبب بن جائے
اور اگر وہ عمل طالح (برے)ہیں ،تو تم بروزِ محشر اسے چھپا نہ پاؤ گے ،وہ بھی تمہارے سامنے آ جائے گا ۔اللہ تعالیٰ اُس عمل کو جسے تم معمولی سمجھ رہے ہوگے تمہارے سامنے ظاہر کر دیں گے اور وہاں انکار کی گنجائش نہ ہوگی ۔
حضرت لقمان مزید فرماتے ہیں کہ’’ اے میرے بیٹے ،نماز قائم کرو ،اور اچھے کاموں کی تلقین کیا کرو اور برے کاموں سے منع کیا کرو۔‘‘
حضرت لقمان کے فرمان میں 3/ امر ہیں:
(1)نماز قائم کرو۔
نماز ہر شریعت میں رہی ہے۔ اس کی کیفیت ؍ہئیت میں تبدیلی واقع ہوتی رہی ، پھر نماز کے ذریعے اللہ کی مدد حاصل کی جاسکتی ہے جیسا کہ قرآن کریم میں حق تعالیٰ نے فرمایا کہ :
’’اللہ کی مدد چاہو ،نماز اور صبر کے ذریعہ سے۔ ‘‘(سورہ و آیت؟؟؟)۔
اسی طرح نماز جسم و روح کے لئے باعث سکون و راحت ہے اور ایک مسلمان کو دنیاوی کوئی فائدہ بھی نہ ہو، وہ نماز صرف اللہ کا حکم سمجھ کر پڑھے تو اس سے مالک راضی ہو گا اور جب مالک راضی ہوتا ہے تو غلام پر انعامات کی بارش کرتا ہے۔
(2)اچھے کاموں کا حکم کرو۔
ایک شخص دوسرے کو جب اچھائی کا حکم دے گا تو لا محالہ امر ہے کہ اول وہ خود بھی تو اچھے کام کرے گا ۔اگر اس کا عمل اچھائی کے برعکس ہو تو اس کی بات نہیں سنی جائیگی اور اگر سن بھی لی جائے تو اس کا اثر نہیں ہوگا ۔
( 3)برائی سے منع کرنا۔
برائی سے منع کرنا بھی اسی وقت ممکن ہے، جب خود برائی سے باز رہے۔ اگر کوئی شخص خود برے کام کرے اور دوسروں کو کہے یہ نہ کرو تو اس کا کتنا اثر ہو گا یہ ہر عام وخاص جانتا ہے ، اس لئے ایک داعی کو دو کام لازماً کرنے پڑیں گے
کہ وہ خود بھی اچھے کام کرے اور برے کاموں سے باز رہے ،اس طرح وہ دوسروں کو تبلیغ کرسکے گا۔
جب ایک شخص اچھے کام کرتا ہے اور اچھائی کا حکم بھی دیتا ہے اور برے کاموں سے باز رہتا ہے اور برائی سے منع بھی کرتا ہے تو لا محالہ بات ہے کہ بہت سے لوگ اس کے دشمن بن جائیں گے ،وہ اسے جانی نقصان نہ بھی پہنچائیں گے ذہنی اذیت دیتے رہیں گے
جس پر اسے صبر کرنا ہے اور یہ لمحات بڑے ہمت کے ہوتے ہیں کہ بے وجہ تنقید برداشت کی جائے ،بے وجہ کے طعنے سنے جائیں ، اس پر طنز و استہزاء کے تیر برسائیں جائیں اور ان سب کے جواب میں وہ خاموش رہے، اس کے لئے بڑی ہمت و بڑا حوصلہ چاہیے اور یہی بات حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے فرمائی تھی کہ صبر کرنا اور صبر کرنا بڑی ہمت کا کام ہے ۔
اور جن لوگوں سے مزاج نہیں ملتے ،ان سے بھی بے رخی سے بات مت کرو،دوستانہ نہ ہونا ایک الگ معاملہ ہے لیکن یہ نہ ہو کہ
جن کے ساتھ مزاج کی ہم آہنگی نہیں ،ان سے بے رخی برتی جائے ،ان کے ساتھ بے اعتنائی کا معاملہ کیا جائے ۔
حضرت لقمان نے اپنے لخت ِ جگر کو اس سے منع فرمایا اور مزید فرمایا کہ متکبر مت بنو ،یعنی بے رخی کا معاملہ تکبر کے زینے کی پہلی سیڑھی ہے ،اس سے بچنا اور ساتھ ہی فرما دیا کہ
اللہ تبارک وتعالیٰ بھی متکبرین کو پسند نہیں فرماتے اس لئے تکبر سے بچنا ۔اس کے ساتھ ہی حضرت لقمان نے فرمایا کہ اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرو،یعنی زمین پر اکڑ کر چلنا بھی تکبر کے قبیل سے ہے ،زمین پر اکڑ کر مت چلو ، اعتدال و توازن اور میانہ روی ہر شے میں لائق تعریف و مدح ہوتا ہے اور افراط وتفریط لائق مذمت ،اس لئے ان دونوں امور سے بچ بچا کر ایام ہائے حیات بسر کرو۔
آخری بات حضرت لقمان نے اپنے فرزند کو یہ سکھائی کہ اے میرے بیٹے !اپنی آواز کو پست رکھو۔یہاں بھی وہی درج بالا امر ہے یعنی عدل ، اعتدال ۔یعنی آواز نہ اتنی پست ہو کہ دوسرا سن ہی نہ سکے اور نہ ہی اتنی زور زور سے بولو کہ دوسروں کی آواز تم نہ سن سکو ۔یاد رکھو کہ گدھا زور زور سے بولتا ہے، لیکن صوت الحمار اللہ تعالیٰ کو ساری آوازوں میں سے زیادہ ناپسندیدہ ہے ۔
قارئین کرام! حضرت لقمان کی اپنے فرزند ِدلبند کو یہ نصیحتیں ہمیں بتاتی ہیں کہ ہمیں اپنی اولاد (بچوں) سے ان کی نفسیات سامنے رکھ کر ،ان کی ذہنی اپروچ کا انداز لگا کر بات چیت کرتے رہنا چاہیے
اور آج کے ماحول کا تقاضا یہ ہے کہ والدین اپنی اولاد کے ساتھ دوستانہ ماحول میں ڈسکس کریں تو اس کے تنائج زیادہ بہتر رہیں گے ۔ڈانٹ ڈپٹنے اور مار پیٹ کے ذریعے سمجھانے کے دور گزر چکے ہیں، اس کا نتیجہ منفی نکلتا ہے ، بہتر ہے کہ مثبت ماحول میں محبت کے لہجے میں اور پُرسکون انداز میں انہیں سمجھایا جائے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی کریم کے ساتھ 10 برس رہے ۔آپ ؓ خود فرماتے ہیں کہ ان 10 برسوں میں کبھی نبی کریم نے مجھے نہیں ڈانٹا ۔
ایک واقعہ حضرت انس ؓ بیان فرماتے ہیں کہ ایک بار نبی کریم نے مجھے کسی کام سے بھیجا ۔میں بچوں کے ساتھ کھیل کھود میں لگ گیا ،اس کے باوجود بھی نبی رؤف و رحیم نے مجھے نہیں ڈانٹا۔اسی طرح صحاح ستہ میں شامل حدیث شریف کی کتاب ’’سنن ابن ماجہ ‘‘میں فرمان نبویؐ موجود ہے کہ :
’’اکرموا اولادکم واحسنو اوبھم ‘‘
"اپنی اولاد کے ساتھ نرمی برتو،اور ان کی بہتر تربیت کرو۔”
اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم نے بھی اپنی امت کو اولاد کی بہتر تربیت کا حکم ارشاد فرمایا ہے اور اولاد کی تربیت اگر طرزِ نبویؐ پر کی گئی تو ان شاء اللہ اولاد کی دنیا وآخرت بھی سنوارے گی اور والدین کی بھی ۔
لیکن ہمارا اجتماعی مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم معروضی حالات سے چشم پوشی اختیار کرتے ہیں اور سابقہ دور کے خود تو نہیں بنتے لیکن اپنے بچوں اور اپنی بیوی کے ساتھ وہی برصغیر کی جاہلانہ رسوم و رواج کے ساتھ زندہ رہنا چاہتے ہیں
جبکہ اسلام جاہلانہ رسم ورواج کو مٹانے آیا ہے اور اس نے والدین کے حقوق کے ساتھ اولاد کے حقوق بھی بتلائے ہیں ۔
اولاد کی تربیت میں جو اہم نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ اپنی اولاد کو صرف اچھی اچھی باتیں بتا کر یا لیکچر دے کر آپ اولاد کی تربیت نہیں کرسکتے!
آپکی اولاد وہی سیکھتی ہے جیسا وہ آپ کو کرتے دیکھتی ہے۔
اگر آپ اپنا کام نکالنے کے لیے جھوٹ بولتے ہیں تو آپ اپنی اولاد کو جھوٹ بولنا سکھا رہے ہیں۔
اگر آپ اپنی بات کہہ کر مکر جاتے ہیں تو آپ اپنی اولاد کو وعدہ خلافی سکھا رہے ہیں۔
اگر آپ اولاد میں عدل نہیں کر رہے تو آپ اپنی اولاد کو خود یہ سکھا رہے ہیں کہ انصاف کوئی معنی نہیں رکھتا پھر اگر آپ کی اولاد آپ کے ساتھ انصاف نہیں کرتی تو دکھی ہونے اور بد دعائیں دینے کا حق نہیں رکھتے کیونکہ اللّٰہ بہترین انصاف کرنے والا ہے وہ حق تلفیاں کرنے والوں کی بد دعائیں نہیں سنتا۔
اگر آپ ہر وقت اولاد کو کوستے ہیں اور اسے یوں ظاہر کرتے ہیں کہ یہ آپ کی عادت ہے تو آپ کی اولاد بھی وہی سیکھے گی یعنی جیسا وہ آپ کو کرتے دیکھے گی ۔
اگر آپ اپنی اولاد کے لاڈ نہیں اٹھائیں گے، ان کا مان نہیں رکھیں گے تو اولاد یہی سیکھے گی کہ لاڈ نہیں اٹھائے جاتے، مان نہیں رکھے جاتے، پھر آپ کو یہ گلہ کرنے کا حق نہیں ہے کہ اولاد پوچھ نہیں رہی کیونکہ اولاد وہی سیکھتی ہے، جیسا وہ اپنے ماں باپ کو کرتے دیکھتی ہے
اگر آپ گھر میں گندی زبان استعمال کرتے ہیں تو آپ اپنی اولاد کی زبان خود خراب کرتے ہیں، پھر اگر وہی زبان آپ کے خلاف استعمال ہوتی ہے تو دکھ کیسا ؟
اگر آپ اپنی اولاد کو ان کے مشکل وقت میں اکیلا چھوڑتے ہیں تو اولاد یہی سیکھتی ہے کہ کسی پر مشکل وقت آئے تو اسے تنہا چھوڑ دو ، یہ آپ خود سکھاتے ہیں اپنی حرکات سے اپنی اولاد کو۔
اگر آپ دنیاوی معاملات میں لالچی ہیں تو آپ اپنی اولاد کو بھی لالچی بنا رہے ہیں۔
اگر آپ بخیل ہیں تو آپ اپنی اولاد کو ناشکرا بنا رہے ہیں اور ناشکری زوال رزق کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
اگر آپ میں اپنی غلطی مان کر اسے سدھارنے کا حوصلہ نہیں تو آپ خود اپنی اولاد کو ڈھیٹ بناتے ہیں ۔
یاد رکھیں ہر پیدا کرنے والا جوڑا اچھا والدین کا کردار ادا کرے ایسا ضروری نہیں ہے، ہمارے معاشرے میں بیشتر والدین نے صرف اپنے مفاد کا اسلام یاد رکھا ہوا ہے مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اولاد کی تربیت پر بھی سوال ہوتا ہے اولاد کا حق ہے کہ اس کی بہترین تربیت کی جائے اگر آپ اولاد کو بہترین تربیت کے حق سے محروم رکھیں گے تو کل کو آپ کی اولاد آپ کو حسن سلوک سے محروم رکھے گی یہی فطرت کا قانون ہے
مشہور کہاوت ہے جو جیسا بوتا ہے ویسا ہی پھل پاتا ہے
ہم میں سے اکثر والدین ہیں جو آج جوان ہیں کل بوڑھے ہوجائیں گے انشاء اللہ، آج ہی سے اپنی اولاد کی بہترین تربیت پر توجہ دیں کیونکہ آپ اپنی اولاد کی تربیت پر اللّٰہ کے حضور جوابدہ ہیں!
( نوٹ / آخری اقتباس اسلامی بہن عائشہ مجید میمن کی تحریر سے مستفاد ہے، نیز متعدد تفاسیر و مراجع کی مدد سے اس مضمون کو تیار کیا گیا ہے)
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
مَکْتَبُ الصُّفَّهْ : دینی تعلیمی ادارہ
مقصد : نئی نسل کے ایمان کا تحفظ
Maktabus Suffah Ⓡ
👇🔻👇🔻👇🔻👇
www.MSuffah.com
https://telegram.me/MSuffah
https://youtube.com/@msuffah
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
♡ ㅤ ❍ㅤ ⎙ㅤ ⌲
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ