ایک قیمتی اور مجرب نبوی نسخہ

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ

انسان کی بے سکونی اور اضطراب کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ وہ زندگی کے ہر میدان اور شعبہ میں اپنا موازنہ دوسروں سے کرتا رہتا ہے؛ کسی کو اپنے سے زیادہ مال دار دیکھ کر دل گرفتہ ہوتا ہے، کسی کی آسائشیں دیکھ کر اپنی زندگی کو حقیر سمجھنے لگتا ہے اور کسی کی شہرت و ترقی کو دیکھ کر احساسِ کمتری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اسلام نے انسانی نفسیات کی اس کمزوری کی بڑی حکمت کے ساتھ علاج اور اصلاح کی ہے اور زندگی کے موازنے کا ایک ایسا اصول دیا ہے، جس میں قناعت و صبر بھی ہے، شکر و سپاس بھی؛ خود داری بھی ہے اور ترقی کی امنگ بھی۔
رسول اللہ ﷺ نے دنیاوی معاملات میں اپنے سے کم تر اور دینی معاملات میں اپنے سے برتر لوگوں کو دیکھنے کی تعلیم دی ہے۔ یہ بظاہر ایک مختصر ہدایت ہے، لیکن اس کے اندر انسانی زندگی کے سکون و اطمینان کا ایک بڑا راز پوشیدہ ہے۔ دنیا کے معاملات میں جب انسان اپنے سے نیچے والوں کو دیکھتا ہے تو اسے اپنی نعمتوں کی قدر ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کا شکر پیدا ہوتا ہے اور قناعت نصیب ہوتی ہے؛ لیکن جب وہ ہر وقت اپنے سے اوپر والوں کو دیکھتا رہے تو خواہشات کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جاتا ہے، محرومی کا احساس بڑھتا ہے اور دل بے سکونی کا شکار ہو جاتا ہے۔
آج انسان کی ایک بڑی آزمائش یہی ہے کہ اس نے اپنی خوشی کو دوسروں کی زندگی سے وابستہ کر لیا ہے۔ کسی کے پاس بڑا مکان ہے تو اسے اپنا گھر چھوٹا محسوس ہوتا ہے، کسی کے پاس زیادہ دولت ہے تو اپنی دولت کم لگتی ہے، کسی کے پاس بہتر سواری ہے تو اپنی سواری معمولی دکھائی دیتی ہے۔ یوں انسان اپنی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کے بجائے دوسروں کی نعمتوں کا حساب رکھنے لگتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خواہش بڑھتی ہے، قناعت گھٹتی ہے اور سکون رخصت ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات یہی بے لگام خواہش انسان کو جائز و ناجائز کی تمیز سے بھی دور کر دیتی ہے۔
اس کے برعکس عبادت، علم، تقویٰ، زہد اور نیکی کے میدان میں اپنے سے آگے بڑھنے والوں کو دیکھنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ وہاں موازنہ احساسِ محرومی پیدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ شوقِ عمل بیدار کرنے کے لیے ہے۔ جب انسان کسی کو اپنے سے زیادہ عبادت گزار، زیادہ متقی، زیادہ علم والا اور زیادہ خیرات کرنے والا دیکھتا ہے تو اس کے دل میں یہ جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ میں بھی آگے بڑھوں، اپنے رب سے تعلق مضبوط کروں، علم حاصل کروں اور مخلوقِ خدا کے لیے زیادہ نافع بنوں۔
یہاں ایک نہایت اہم فرق ملحوظ رہنا چاہیے: دینی ترقی کی خواہش غبطہ ہے، حسد نہیں۔ شریعت نے ایسے غبطے کی گنجائش بلکہ ترغیب دی ہے کہ انسان کسی صاحبِ علم کو دیکھ کر تمنا کرے کہ اللہ مجھے بھی علم عطا فرمائے تاکہ میں لوگوں کی رہنمائی کرسکوں، یا کسی صاحبِ مال کو دیکھ کر خواہش کرے کہ مجھے بھی وسعتِ رزق ملے تاکہ میں اسے اللہ کی راہ میں اور بندگانِ خدا کی خدمت میں خرچ کرسکوں۔ حدیث میں علم اور مال کے حوالے سے ایسے غبطے کی خصوصی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
پس اسلام انسان کو خواہشات سے بالکل خالی زندگی گزارنے کا حکم نہیں دیتا، بلکہ خواہشات کا رخ درست کرتا ہے۔ دنیا میں اپنے سے کم کو دیکھو تو شکر پیدا ہوگا، اور دین میں اپنے سے زیادہ کو دیکھو تو شوق پیدا ہوگا۔ دنیا میں اوپر دیکھتے رہنے سے حرص بڑھتی ہے، جبکہ آخرت میں اوپر دیکھنے سے عمل کی تڑپ پیدا ہوتی ہے۔ یہی وہ متوازن طرزِ فکر ہے جو انسان کو احساسِ کمتری سے بھی بچاتا ہے اور احساسِ برتری سے بھی، اسے قناعت بھی سکھاتا ہے اور جدوجہد بھی۔
زندگی کے سکون کا راز شاید یہی ہے کہ دنیا میں نگاہ نیچی اور آخرت میں نگاہ بلند رکھی جائے۔
اپنے سے اوپر نہیں، اپنے سے نیچے دیکھیے، اس عنوان پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
✍🏻:- جناب محمد ہارون صاحب کی ایک مؤثر تحریر ہے ، اسے بھی ملاحظہ فرمائیں ۔ موصوف لکھتے ہیں:
"انسان کی زندگی میں بے سکونی کی ایک بڑی وجہ دوسروں سے اپنا موازنہ کرنا ہے۔ ہم اکثر اپنے سے زیادہ مال و دولت رکھنے والے، بڑے گھر میں رہنے والے اور زیادہ آسائشیں رکھنے والے لوگوں کو دیکھتے ہیں، پھر اپنی زندگی ہمیں معمولی اور اپنی نعمتیں کم محسوس ہونے لگتی ہیں۔
حالانکہ اگر انسان اپنی نگاہ اپنے سے نیچے رکھے تو اسے احساس ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کتنی نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ جس گھر کو ہم معمولی سمجھتے ہیں، وہ کسی بے گھر انسان کی سب سے بڑی خواہش ہوسکتا ہے۔ جس روزگار کو ہم کم سمجھتے ہیں، وہ کسی بے روزگار شخص کی برسوں کی دعا ہوسکتی ہے۔ جو صحت ہمیں معمولی لگتی ہے، وہ کسی بیمار انسان کے لیے سب سے بڑی دولت ہے۔
مال و دولت کے معاملے میں ہمیشہ اپنے سے اوپر دیکھنے سے دل میں حسرت، لالچ اور بے چینی پیدا ہوتی ہے، جبکہ اپنے سے نیچے دیکھنے سے شکر، قناعت اور اطمینان پیدا ہوتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ترقی کی خواہش چھوڑ دے یا اپنی حالت بہتر بنانے کی کوشش نہ کرے۔ ضرور محنت کیجیے، آگے بڑھنے کی کوشش کیجیے اور حلال ذرائع سے زیادہ حاصل کرنے کی جدوجہد کیجیے، لیکن اپنی موجودہ نعمتوں کو معمولی سمجھ کر ان کی ناشکری نہ کیجیے۔
اپنے سے آگے بڑھنے والوں کو ترغیب کے لیے دیکھیے، مگر اپنے سے نیچے والوں کو شکر کے لیے دیکھیے۔ کیونکہ اگر نگاہ ہمیشہ اوپر رہے گی تو خواہشیں بڑھتی جائیں گی، اور اگر کبھی نیچے بھی دیکھ لیا جائے تو دل کو اپنی نعمتوں کی قدر محسوس ہونے لگے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کے پاس جتنی نعمتیں ہیں، وہ ان سب کا شکر بھی ادا نہیں کرسکتا۔ ہمیں صرف یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے پاس کیا نہیں ہے، بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کیا کچھ عطا کر رکھا ہے۔
لہٰذا اپنی زندگی کو دوسروں کی دولت کے ترازو میں تولنا چھوڑ دیجیے۔ اپنے رب کی عطا پر نظر رکھیے، اپنی نعمتوں کو پہچانیے، حلال رزق کے لیے محنت کیجیے اور جو کچھ ملا ہے اس پر دل سے شکر ادا کیجیے۔
کیونکہ سکون اس میں نہیں کہ ہمارے پاس سب سے زیادہ ہو، بلکہ سکون اس میں ہے کہ ہمارے پاس جو کچھ ہے، ہم اسے اپنے رب کی عطا سمجھ کر اس پر راضی اور شکر گزار ہوں "۔
نوٹ/ تحریر پسند آئے تو صدقئہ جاریہ سمجھ کر دوسروں کو بھی پوسٹ کردیں ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔