حضرت مولانا محمد قمر الزماں ندوی صاحب
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ ۔
اس وقت ملک عزیز ہندوستان میں نفرت و عداوت اور مسلم دشمنی کی کیا حالت ہے، یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ، مسلمان سفر حضر کہیں بھی محفوظ و مطمئن نہیں ہیں اور ہر وقت اور ہر جگہ آج وہ اپنے کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں اور خطرے میں دیکھ رہے ہیں، یہ یقینا بہت تشویش کی بات ہے ،اس میں جہاں ہمارے لئے من جانب اللہ امتحان و آزمائش ہے ،وہیں ان حالات کے وقوع میں ہماری کوتاہیوں اور بداعمالیوں کا بھی دخل ہے ، بد اعمالی تو اس حدتک ہے کہ امت مسلمہ کا بڑا طبقہ صرف نام کا مسلمان رہ گیا ہے، زیادہ تر لوگ اسلامی تشخص سے کوسوں دور ہوچکے ہیں اور ہماری کوتاہیوں اور فرض منصبی سے دوری کا حال یہ ہے کہ ہم اپنی دعوتی ذمہ داریاں کبھی ادا کرنے کی سوچتے بھی نہیں ہیں اور یہ دعوتی غفلت ہی کا نتیجہ ہے کہ برادران وطن میں، ہم سے نفرت و بیزاری کا عام ماحول پیدا ہوگیا ہے ، آج تک ہم ان کو اسلام کی تعلیمات، اس کی خوبیاں اور اچھائیاں نہیں بتا سکے ۔ حد تو یہ ہے کہ ان کو یہ بھی بتا نہیں سکے کہ اللہ اکبر کے معنی کیا ہیں اور اذان میں کیا کہا جاتا ہے ۔ اس لئے ان حالات کے وقوع کے ہم خود ذمہ دار اور سبب ہیں ۔ ہمیں اپنی ذمہ داری کو سمجھنا ہوگا اور اپنے فرض منصبی کو انجام دینا ہوگا، تبھی یہ حالات بدلیں گے ۔ ماہ رمضان المبارک میں ہم غیر مسلم بھائیوں کو اسلام کا روحانی منظر کیسے دکھا سکتے ہیں اور انہیں کیسے متاثر کرسکتے ہیں؟ اس سلسلہ میں کچھ مفید باتیں پیش خدمت ہے، سال گزشتہ ہم نے ڈاکٹر انس ندوی الہ آباد حال مقیم آسٹریلیا کے مشورہ توجہ اور تعاون سے اس طرح کا افطار پروگرام کیا تھا ،جو خالص سماجی انداز کا تھا اور گاؤں اور اطراف کے غیر مسلم بھائیوں کو مدعو کیا تھا ، اس پروگرام میں شرکت اور افطار اور مغرب کی نماز کے منظر دیکھ کر وہ لوگ بے حد متاثر ہوئے اور اکثر کی زبان پر تھا کہ پہلی بار ہم لوگوں نے روزہ، افطار اور نماز کے منظر کو دیکھا اور بڑی خوشی و مسرت کا اظہار کیا ۔
ہم نے آج کی اس تحریر میں تحریر میں استاد محترم مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کی تحریر سے بھی استفادہ کیا ہے ، اس تحریر کو غور اور توجہ سے پڑھیں ،یقینا اس پر عمل کرکے ہم ہندو مسلم نفرت کو بہت حد تک کم کرسکتے ہیں ۔
دوستو !
اللہ تبارک و تعالٰی نے پوری انسانیت کو ایک ہی ماں باپ آدم اور حوا علیھم السلام سے وجود بخشا، گویا ساری مخلوق ایک ہی کنبہ کے افراد اور ایک ہی خاندان کے ارکان ہیں ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک موقع فرمایا: کہ الخلق کلھم عیال اللہ ساری کی ساری مخلوق اللہ ہی کا کنبہ ہے ۔
اس اعتبار اور اس زوایے سے اگر دیکھا جائے تو یہ رشتہ اور تعلق ہمیں برادران وطن اور غیر مسلم بھائیوں کے ساتھ حسن سلوک، خیر خواہی اور بہتر رویہ کی راہ دکھاتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے اور اس کون انکار کرسکتا ہے کہ یہ اسلام کی بنیادی تعلیمات ہیں اور اسلام نے تمام مذاہبِ کے مقابلے میں اس پر سب سے زیادہ زور دیا ہے اور مسلمانوں نے اس کو عملا کرکے دکھایا ہے اور آج بھی اس میدان میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔
آج کے ملکی اور غیر ملکی حالات میں ہم مسلمانوں کو اس پہلو سے بھی ضرور غور کرنا چاہئے کہ ہم کس طرح برادران وطن کو اپنی خوشیوں میں شریک کریں اور عید الفطر اور افطار کا اسلامی اور روحانی منظر دکھا کر ان کا دل جیتیں اور مذہب اسلام سے مالوف و مانوس کریں ۔
شریعت کی رو سے رمضان المبارک کا مہینہ صبر،ضبط نفس، ایثار اور غم خواری کا مہینہ ہے، یہ انسانیت اور آدمیت کے دکھ درد مصیبت و پریشانی اور تکلیف و غم کو سمجھنے اور محسوس کرنے کا مہینہ ہے، اس مہینہ میں جہاں روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، اور نفلی نمازوں اور تلاوت و تسبیحات و اذکار کی زیادتی کی تلقین کی گئی ہے، وہیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ راہ خدا میں خرچ خرچ کرو اور خلق خدا کو فائدہ پہنچاؤ اور اپنی ذات کو نافع بلکہ انفع بناؤ۔ خلق خدا میں ساری انسانیت شامل ہے، اس میں مذہب و مسلک اور ذات و برادری کی کوئی قید نہیں ہے، اسلام نے دست سوال بڑھانے والے کی مدد میں بھی مذہب اور ذات و برادری کی کوئی قید نہیں رکھا اور حکم دیا و اما السائل فلا تنھر ،، اگر تمہارے پاس کوئی سائل آئے تو اسے مت جھڑکو ، یہاں سائل اور مانگنے والا کوئی بھی ہوسکتا ہے، مسلم اور غیر مسلم کی کوئی قید نہیں ہے۔
علماء نے لکھا ہے کہ صدقات واجبہ یعنی زکوٰۃ تو صرف مسلمان فقراء اور مستحقین پر خرچ کریں، کیونکہ ہمیں اسی کا پابند شریعت نے بنایا ہے،لیکن صدقات نافلہ جہاں ہم مسلمان غرباء اور مستحقین پر خرچ کریں، وہیں برادران وطن پر بھی ہم اس مد میں سے کچھ خرچ کریں ،اور خصوصا آج کے حالات اور حساس دور میں اس کی سخت ضرورت ہے ،جہاں برادران وطن کے ذہنوں میں ہمارے تئیں بہت ہی نفرت، کدورت، غلط فہمیاں ہیں اور دوریاں ہیں ۔
ہم مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ دنیا و آخرت کی کامیابی اور نجات کے لئے ایمان اور عمل صالح شرط لازم ہے، اس کے بغیر انسان خسارہ میں ہے سورہ عصر میں اللہ تعالیٰ نے زمانے کی قسم کھا کر اس بات کو بیان کیا کہ زمانہ کی قسم سارے کے سارے انسان خسارے اور گھاٹے میں ہیں، بجز ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے عمل صالح کیا، حق اور صبر پر جمے رہے اور اس کی تلقین اور فہمائش کرتے رہے ۔
اس سے معلوم ہوا کہ ایمان سے محرومی کی وجہ سے ایسے لوگ ہمیشہ دوزخ کا ایندھن بنے رہیں گے اور یہ دوزخ کس قدر ہولناک تکلیف دہ اور اذیت ناک ہوگا کہ دنیا میں اس کی ہولناکی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ اللہ تعالٰی انسان کے سارے جرم اور گناہ کو معاف کر دیں گے لیکن شرک کو کبھی معاف نہیں کریں گے ۔ ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ و یغفر دون ذلک مایشاء ۔
تو ان ایمان سے محروم اور شرک میں مبتلا لوگوں کی نجات اور کامیابی کی فکر کرنا یہ ہماری ذمہ داری ہے، اللہ تعالیٰ نے اس امت (مسلمہ) کو خاص طور پر اس کی ہدایت کی ہے، اور اس کا مکلف بنایا ہے ۔
تو ہماری یہ دعوتی ذمہ داری تو پورے سال اور پوری زندگی پر محیط ہے، لیکن رمضان المبارک کے مہینہ میں ہماری یہ ذمہ داری دو گنی اور دو چند ہو جاتی ہے، کیونکہ یہ مہینہ وہ مبارک مہینہ ہے جس میں انسانیت کی ہدایت کے لئے اللہ تعالی نے آخری آسمانی الہامی کتاب یونی قرآن مجید نازل کیا۔
لہذا اس کتاب ہدایت کو اور اس کے آفاقی پیغام کو برادران وطن تک اس ماہ مبارک میں پہچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔
رمضان المبارک کا یہ مہینہ ہمارے لئے اس کا بہترین موقع بھی فراہم کرتا ہے ۔
الحمد للہ ایک حلقہ اس عمل اور اس محنت کے لئے کوشاں اور سرگرداں ہے اور اس کے مفید نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں ۔
دوسرا کام جو ہم مسلمانوں کو اس ماہ مبارک میں آج کے ملکی حالات کی روشنی میں خاص طور پر انجام دینا چاہیے وہ یہ ہے کہ ہم افطار کے موقع پر برادران وطن کو بھی مدعو کریں اور وہ ہمارے کھانے میں بطور خاص افطار میں شریک ہوں اور خدا کی بندگی کے اس غیر معمولی نظارہ کو وہ اپنی سر کی آنکھوں سے دیکھیں لیکن یہ افطار پارٹی کی طرح رسمی پارٹی نہ ہو ، جہاں شور و ہنگامہ اور افرا تفری اور تصویر کشی کا ماحول ہوتا ہے اور روحانیت اور عبادت نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی ۔ اس کے لئے ضروری ہوگا کہ افطار کے نظم کو شور و ہنگامہ اور محض کھانے پینے کے انتطام اور تصویر کشی اور دیگر خرافات سے بچاتے ہوئے وہ ماحول پیدا کیا جائے جو افطار کے لئے مطلوب ہے اور غذائی دعوت سے زیادہ جس میں روحانی دعوت کا عنصر اور حصہ شامل اور نمایاں ہو ۔ افطار سے پہلے روزہ کی حکمت و مصلحت اور اس کے روحانی و جسمانی فائدے پر گفتگو کی جائے اور روزہ کے فلسفہ کو عقل و نقل کی روشنی میں سمجھایا اور بتایا جائے اور اس وقت غیر مسلم بھائیوں کے سامنے انسان اور انسانیت کے مقام کو اجاگر کیا جائے اور حسب حال مختصر سے بیان میں توحید و رسالت اور آخرت کے کے تصور پر بھی روشنی ڈالی جائے ۔ نیز قرآن مجید کا تعارف کرایا جائے اور قرآن مجید کا ہندی اور انگریزی نسخہ ان لوگوں کی خدمت میں پیش کیا جائے ۔
اجتماعی نماز کا منظر وہ دیکھ سکیں اس کے لئے افطار کے بعد ان کے بیٹھنے کا مناسب انتظام بھی کیا جائے ۔ اس دعوت کو صرف کھانے کا دسترخوان نہ بنایا جائے، بلکہ ہدایت ربانی کا دستر خوان بھی بنانے کی کوشش کی جائے ۔
جب افطار کے وقت موجود ہمارے یہ برادران وطن ہماری نماز کو دیکھیں گے تو ضرور اس کا اثر پڑے گا، کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ خود نماز کا منظر بھی بہت ہی پر کیف اور متاثر کن ہے ۔
آئیے رمضان المبارک میں ہم اس پہلو اور اس جہت سے بھی اپنی ذمہ داری کو ادا کریں یقینا آج کے ماحول میں اس طرح کی دعوتی حکمت عملی کی سخت ضرورت ہے ۔
اللہ تعالٰی ہم سب کو اس کی توفیق بخشے اور صرف تھیوری نہیں بلکہ پریکٹیکل ہم سب اس کام کو انجام دینے لگیں،اس کی ہمت اور حوصلہ بخشے ۔ آمین
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
مَکْتَبُ الصُّفَّهْ : دینی تعلیمی ادارہ
مقصد : نئی نسل کے ایمان کا تحفظ
Maktabus Suffah Ⓡ
👇🔻👇🔻👇🔻👇
www.MSuffah.com
https://telegram.me/MSuffah
https://youtube.com/@msuffah
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
♡ ㅤ ❍ㅤ ⎙ㅤ ⌲
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ