حضرت مولانامحمد قمر الزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ
قریش کے بڑے بڑے سرداروں ،ترفہ حال اور خوش خوراک و خوش پوشاک لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جہاں بہت سے اعتراضات تھے ،ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ آپ کے گرد و پیش ہماری قوم کے غلام و موالی ادنی طبقہ اور ارزل قسم کے لوگ جمع ہوگئے ہیں اور وہ اس پر طعنہ دیا کرتے تھے کہ اس شخص کو ساتھی بھی کیسے کیسے معزز لوگ ملے ہیں، بلال ،عمار صہیب اور خباب ۔ بس یہی لوگ اللہ کو ہمارے درمیان ایسے ملے،جن کو برگزیدہ کہا جاسکتا ہے ،پھر وہ ان ایمان لانے والوں کی خستہ حالی کا مذاق اڑانے پر ہی اکتفا نہیں کرتے تھے، بلکہ ان میں سے جس جس سے کبھی پہلے کوئی اخلاقی کمزوری ظاہر ہوتی تھی، تو اس پر بھی حرف گیریاں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ فلاں فلاں جو کل تک یہ تھا اور فلاں نے یہ کیا تھا آج وہ بھی اس
،، برگزیدہ گروہ،، میں شامل ہے ،انہیں سرداروں اور چودھریوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں کہلا بھیجا کہ ان عوام و اجلاف کو اپنے پاس سے ہٹائیے تو ہم لوگوں کے لیے گنجائش نکلے ۔
غرض جاہلیت خصوصا قریش کے امراء و رؤساء اس طرح طبقاتی کبر و نخوت میں مبتلا تھے جس کی مثال سے آج یورپ بھرا پڑا ہے ۔
قرآن مجید کو ان شعائر جاہلیت پر ضرب کاری لگانا مقصود تھی ،اسی موقع پر سورہ انعام کی یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔
ولا تطرد الذین یدعون ربھم بالغدوة و العشی یریدون وجھه ماعلیک من حسابھم الخ( انعام آیت 52)
اور ان لوگوں کو نہ نکالئے جو اپنے پرور دگار کو صبح و شام پکارتے ہیں خاص اس کی رضا کا قصد کرتے ہوئے آپ کے ذمہ ان کا حساب ذرا بھی نہیں اور نہ ان کے ذمہ آپ کا ذرا بھی حساب ہے جس پر آپ انہیں نکالنے لگیں اور آپ کا شمار ظالموں میں ہو جائے ۔
اس آیت کا شان نزول اور اس آیت سے مستفاد حکمت و عبر کو ذیل کی تحریر میں ہم اختصار سے پیش کر رہے ہیں ۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حضرت صہیب ، حضرت خباب ، حضرت بلال اورحضرت عمار وغیرہ بیٹھے ہوئے تھے ، یہ سب غلام یا غیر عرب تھے ، جنھیں عرب حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے ، اسی وقت اَقْرَع بِن حابِسٍ تَمِیْمِی ،عُیَیْنَہ بن حِصْن فَزَارِی اور بعض سردارانِ قریش کا گذر ہوا ، وہ کہنے لگے : کیا آپ کو اپنی قوم میں سے یہی لوگ بہتر لگتے ہیں ؟ کیا ہم ان کے تابع ہوجائیں ؟ آپ ﷺ نھیں اپنے پاس سے ہٹادیجئے ، اگر آپ ﷺ یسا کریں تو ممکن ہے کہ ہم لوگ آپ کی دعوت قبول کرلیں ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں ایمان والوں کو نہیں چھوڑ سکتا ، تو کہنے لگے : کم سے کم اتنا تو کیجئے کہ جس وقت ہم آئیں ، انھیں اُٹھادیجئے ، پھر ہم چلے جائیں تو اگر چاہیں تو بٹھالیجئے ، بعض روایتوں میں ہے کہ حضرت عمر نے بھی ان کا رد عمل دیکھنے کے لئے آپ سے درخواست کی کہ اس کو قبول کرلیں ؛ چنانچہ ان کے ایمان لانے کی خواہش میں آپ ﷺ س پر راضی ہوگئے ، سردارانِ قریش نے کہا کہ اس کو لکھا بھی دیجئے ، آپ ﷺ نے حضرت علی کو لکھانے کے لئے طلب فرمایا ، اسی وقت قرآن مجید کی یہ آیات نازل ہوئیں ، ( دیکھئے : تفسیر ابن کثیر ، آیت مذکورہ ، و دیگر کتب تفسیر ) جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ شب و روز اللہ کی بندگی کرتے ہیں اورآپ ﷺ پر ایمان لائے ہیں ، اُن کو اِن دشمنانِ حق کے مطالبہ پر چھوڑ دینا ہرگز انصاف کا تقاضا نہیں ہے ، اول تو یہ سردارانِ قریش ایمان لانے والے نہیں ہیں ، دوسرے : لائیں یا نہ لائیں ، آپ پر اس کی ذمہ داری نہیں ہے ؛ اس لئے ایسے سرکش لوگوں کی وجہ سے مخلصین کو نظر انداز کردینا ہرگز مناسب نہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے مصلحت بھی بیان فرمادی کہ سردارانِ قریش کا دنیا میں معزز ہونا اورایمان لانے والوں کا دنیوی اعتبار سے اس درجہ معزز نہ سمجھاجانا اللہ کی طرف سے ہے ؛ تاکہ لوگوں کا امتحان ہوکہ جن کے دل پاک ہوں گے ، وہ خاندان ، نسب اور دنیا کی دولت کی وجہ سے نہ کسی بات کو قبول کریں گے اور نہ اسے نظر انداز کردیں گے ؛ بلکہ یہ دیکھیں گے کہ حق اور سچائی کیا ہے ؟ اور جس کے پاس بھی ہو اسے قبول کریں گے ، سونا ، اگر خوبصورت گلاس کے اندر ہو تب بھی اسے لیا جاتا ہے اور اگر کہیں کیچڑ میں گرا پڑا ہو تب بھی اسے لپک کر حاصل کیا جاتا ہے —ان آیات میں تین نکات قابل ذکر ہیں :
اول : یہ کہ ہر دور میں دشمنانِ حق کی یہ نفسیات رہی ہے کہ ان کی نظر حقائق سے زیادہ مادی ترقی پر ہوتی ہے ، وہ ہر بات کو اسی ترازو میں تول کر دیکھتے ہیں اور کسی شخص کا درجہ و مقام اس کے اخلاق و کردار کی وجہ سے نہیں ، اس کی دنیوی وجاہت اور مالداری کی بناپر متعین کرتے ہیں ، دوسرا قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں مختلف مواقع پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تنبیہ کا انداز اختیار کیا گیا ہے اور آپ کی لغزش پر ٹوکا گیا ہے ، یہ دراصل قرآن کے محفوظ ہونے اور آپ ﷺ کے نبی برحق ہونے کی دلیل ہے ، اگر قرآن محفوظ نہ ہوتا تو ایسی آیتیں نکال دی گئی ہوتیں ؛ تاکہ قیامت تک کے لئے اللہ کی طرف سے ہونے والی تنبیہ محفوظ نہ ہوجائے اور اگر آپ نبی برحق نہ ہوتے اور آپ نے اپنی طرف سے احکام الٰہی میں کمی بیشی کی ہوتی تو نعوذ باللہ آپ ﷺ ان آیات کو قرآن مجید سے ہٹادیتے ؛ تاکہ آپ کی ان لغزشوں کا آئندہ تذکرہ نہ ہو ، تیسرا نکتہ یہ ہے کہ یہاں رسول اللہ ﷺ کو عتاب آمیز لہجہ میں تنبیہ کی گئی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ ﷺ گر کمزور مسلمانوں کو ہٹادیں گے تو آپ ظلم کرنے والوں میں شمار کئے جائیں گے — ظلم کا لفظ اکثر مقام پر گناہ کے لئے استعمال ہوا ہے ، تو بظاہر اس سے آپ ﷺ کے معصوم اور بے گناہ ہونے کے سلسلہ میں شبہ پیدا ہوتا ہے ، مگر یہ شبہ صحیح نہیں ؛ کیوں کہ رسول اللہ ]کا کمزور مسلمانوں کے تھوڑی دیر کے لئے ہٹ جانے کو قبول کرلینا تحقیر و توہین کے طورپرنہیں تھا ؛ بلکہ اس کا مقصد یہ تھا کہ شاید اس طرح ان رؤساء کو ایمان کی توفیق میسر آجائے اور ان رؤساء کا دامن ایمان میں آجانا ان کمزور مسلمانوں کے تھوڑی دیر کے لئے ہٹ جانے سے بڑی مصلحت ہے ؛ اس لئے یہ اجتہادی چوک تو ہوسکتی ہے ، جس کا صدور انبیاء سے بھی ممکن ہے ، ایسا عمل نہیں جو گناہ کے دائرہ میں آتا ہو ، رہ گیا ظلم کا لفظ ، تو ظلم کے اصل معنی بے محل کام کرنے کے ہیں ، گناہ کو بھی اسی لئے’ ظلم ‘کہا جاتا ہے کہ جو کام قابل اجتناب ہے ، انسان اس کا ارتکاب کرتا ہے ، تو مخلصین کو قریب رکھنا اور منکرین کو دور رکھنا موقع و محل کی رعایت ہے ، منکرین حق کو قریب کرنا اور اور مخلصین کو ہٹادینا موقع و محل کے خلاف کام ہے ؛ اسی لئے رسول اللہ ﷺ کی اس لغزش کو ’ ظلم ‘ سے تعبیر کیا گیا ہے ، یہاں ظلم ’بے محل کام ‘کے معنی میں ہے ، نہ کہ گناہ کے معنی میں ؛ اس لئے یہ آپ ﷺ کے معصوم ہونے کے مغائر نہیں ہے ۔( مستفاد از آسان تفسیر مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی تفسیر سورہ انعام)
اس آیت سے یہ بات بالکل عیاں و آشکار ہو جاتی ہے کہ اسلام میں خاندانی و نسلی برتری مادی خوشحالی کی بنا پر تفوق و امتیاز کا کوئی تصور نہیں ہے ، عند اللہ کامیابی و کامرانی کا اصل معیار ایمان و عمل اور تقویٰ و طہارت کو قرار دیاگیا ہے، اور یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ فقر و مالداری تنگدستی و خوشحالی بے بسی و منصب داری محتاجی و شوکت اور اثر و رسوخ سماجی شناخت و دبدہ اور سماجی بے حیثیتی سب اللہ کی طرف سے ہے ،اس کی حکمت اور اس کے قانون فطرت کے نتیجہ میں ہے، کیونکہ دنیا آزمائش کی جگہ ہے ،لہذا جس کے پاس کم ہے اسے واویلا نہ کرکے صبر کرنا چاہیے اور جس کے پاس بہت کچھ ہے اسے اترانے کے بجائے شکر ادا کرنا چاہیے ،اس لئے کہ اللہ نے فرق رکھے ہی اس لئے ہیں کہ لوگوں کو آزمایا جائے اور پھر نتیجہ کے اعتبار سے انہیں بدلہ دیا جائے ۔ (آسان تفسیر قرآن شیخ عائض القرنی تعلیق و ترجمہ طارق ایوبی ندوی)……………..
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
مَکْتَبُ الصُّفَّهْ : دینی تعلیمی ادارہ
مقصد : نئی نسل کے ایمان کا تحفظ
Maktabus Suffah Ⓡ
👇🔻👇🔻👇🔻👇
www.MSuffah.com
https://telegram.me/MSuffah
https://youtube.com/@msuffah
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
♡ ㅤ ❍ㅤ ⎙ㅤ ⌲
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ