حضرت مولانامحمد قمر الزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپ گڑھ
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"ان اللہ تعالیٰ یبغض البلیغ من الرجال الذی یتخلل بلسانه تخلل الباقرة بلسانھا۔ ا(بو داؤد باب الادب)
اللہ تعالیٰ ایسے لسان اور چرب زبان لوگوں کو پسند نہیں کرتا ہے، جو اپنی زبانیں اس طرح چلاتے ہیں جس طرح گائے اپنی زبان سے چارہ چباتی ہے۔
اس حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تشبیہ و تمثیل کی زبان استعمال کی ہے ، کسی بھی زبان میں کسی چیز کے سمجھنے اور سمجھانے میں مماثلت اور یکسانیت کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ جانی ہوئی چیزوں کے ذریعہ انسان اس کی مماثل انجانی چیزوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، اسی کو قیاس کہتے ہیں۔
قرآن مجید میں بھی بہت سی باتیں مثال کے پیرایہ میں کہی گئی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چونکہ کار نبوت انجام دینا تھا، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انسانی نفسیات کو سمجھنے اور مشکل سے مشکل بات کو مخاطب کی ذھنی سطح پر اتر کر سمجھانے کی خاص صلاحیت ودیعت کی گئی تھی، اس کا مظہر احادیث میں آنے والی مثالیں اور تشبیہات و تمثیلات ہیں۔
مذکورہ حدیث میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشبیہ و تمثیل کی زبان اور اسلوب میں لسان اور چرب زبان انسان کی خدا کی نظر میں ناپسندیدگی کو ظاہر فرمایا ہے اور چرب زبان انسان کو گائے کے چارہ چبانے کی کیفیت و حالت سے تشبیہ دی ہے، جو بہت بلیغ تشبیہ و تمثیل ہے۔
اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو تقریر و بیان اور زبان و گفتار کی صلاحیت سے نوازا ہے، تو اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی خطیبانہ صلاحیت کا صحیح استعمال کرے، اور اس کے اصول و ضوابط اور آداب و شرائط کا خیال رکھے، صرف زبان درازی اور چرب زبانی کا سہارا نہ لے۔ وہ اپنی اس صلاحیت کو تعمیری اور مثبت کاموں کے لئے استعمال کرے، احقاق حق اور ابطال باطل کا فریضہ مثبت انداز میں انجام دے،محروموں اور مظلوموں کو ان کا حق دلائے، سماج کے دبے کچلے افراد کی آواز بن جائے اور پوری طاقت سے ان کی آواز بن کر ان کے حقوق کو اٹھائے، لیکن اگر وہ اپنی اس صلاحیت سے یہ کام نہیں انجام دیتا اور اس اہم ترین فرض کو چھوڑ کر اپنی چرب زبانی سے ناحق کو حق، جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو اس حدیث میں بتایا گیا ہے، کہ اللہ تعالیٰ ایسے زبان آور، چرب زبان انسان سے نفرت کرتا ہے۔ یہ حدیث ان لوگوں کے لیے سراپا تازیانہ ،عبرت اور دعوت فکر ہے ،جو اپنی زبان درازیوں کے ذریعہ امت میں اختلاف و انتشار پیدا کرتے ہیں اور ماحول کو کشیدہ اور بے سکون کرتے ہیں ،امت کو باہم لڑاتے ہیں، ایک جماعت کو دوسری جماعت سے متنفر کرتے ہیں۔ حق و انصاف اور عدل و مساوات کے قیام کے لیے کوشش اور جدوجہد کرنے کے بجائے فساد اور فتنہ پروری کو اپنا مشغلہ بناتے ہیں اور امت کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ ( مستفاد امثال الحدیث، ص، ٢٥٠ از مولانا محمد فاروق خان مرحوم)
تقریری صلاحیت یہ ایک بڑی نعمت اور خدائی عطیہ و انعام ہے، اس کی قدر دانی بہت ضروری ہے، ہر ایک کو یہ صلاحیت نصیب نہیں ہوتی، اس لیے جس کے اندر یہ جوہر ہے، وہ اس پر خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرے اور اس صلاحیت کو کار دعوت اور تبلیغ اسلام ، احقاق حق و ابطال باطل اور اشاعت دین میں استعمال کرے۔
تقریر و خطابت کی اہمیت و افادیت مسلم ہے، کسی بھی تنطیم، تحریک یا مشن کی توسیع و اشاعت کے لیے سب سے زیادہ مفید، موثر اورکارآمد ہتھیار خطیب یا مقرر کی زبان ہوتی ہے۔ دعوت و تبلیغ میں اس سے زبردست مدد لی جاتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ احساس تھا کہ مجھ سے زیادہ خطیبانہ صلاحیت و قابلیت بڑے بھائی ھارون رکھتے ہیں، اس کا اظہار خدا کے سامنے انہوں کیا اور یہ اعتراف کیا،ھو افصح منی لسانا۔
زبان و بیان کے اعتبار سے وہ مجھ سے زیادہ بہتر ہیں، اس لیے کار نبوت میں ان کو میرے ساتھ شریک کر دیجئے،ان کو میرا معاون بنا دیجیئے ، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اس عرضی اور درخواست کو شرف قبولیت سے نوازا اور حضرت ھارون علیہ السلام کو ان کا معاون و مددگار بنایا تاکہ کار نبوت صحیح طور سے انجام پاسکے اور فرعون جیسے ظالم و جابر بادشاہ و حکمراں کو ترکی بترکی جواب آنکھ سے آنکھ ملا کر حکمت و دانائی کے ساتھ دے سکے ۔
أپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی خطیبانہ صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے دین کی تبلیغ کے لیے اس کا بھرپور استعمال کیا، جس کی تاثیر و سحر انگیزی سے لاکھوں بے راہ انسانوں کو ہدایت ملی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریر مختصر اور جامع ہوتی جو ما قل و دل یعنی اختصار و جامعیت کی تصویر ہوتی تھی۔ سوائے چند مخصوص موقعوں کے آپ کی ساری تقریریں اور خطبات مختصر ہی ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم لسانی و بیان آرائی کو پسند نہیں فرماتے ، آپ فرماتے تھے کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تقریر اور گفتگو میں اختصار سے کام لوں۔ کیونکہ مختصر تقریر ہی بہتر ہوتی ہے۔ (ابو داود )
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے لمبی چوڑی تقریر کی، آپ نے فرمایا اگر یہ شخص اختصار اور میانہ روی سے کام لیتا تو اس کے لیے بہتر ہوتا۔
اس لیے مقرر کو چاہیے کہ چرب زبانی اور بیان آرائی سے احتیاط کرے ، اس کی تقریر صرف واعظ کی ہر تقریر بجا اور ارشاد بہت دلچسپ مگر ہی نہ ہو، بلکہ چہرہ پہ یقین کا نور بھی ہو اور انکھوں میں سرور عشق بھی ہو۔
بلکہ اس کی کیفیت یہ ہو کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھنا تقریر کی لذت کے جو اس نے کہا
میں نے یہ سمجھا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
چرب زبانی و بیان آرائی اور بے ضرورت لمبی چوڑی تقریر کو مہذب طبقہ پسند نہیں کرتا۔ لسانی و بیان آرائی اور طویل گفتگو ہمیشہ اکتانے والی ہوتی ہے۔ خدا کرے تمام واعظوں اور خطیبوں اور اسٹیج پر دھاڑنے والے مقرروں کو حضورﷺ کا یہ ارشاد سمجھ میں آجائے اور تشبیہ و تمثیل کی زبان میں جو تنبیہ و وارنگ دی گئی ہے اور جس حقیقت کا اظہار کیا گیا ہے کہ چرب زبانی خدا کو پسند نہیں ہے اور لسان و چرب زبان شخص خدا کی نظر میں پسندیدہ نہیں ہوتا، اچھی طرح سمجھ میں آجائے ۔
حکیم الامت حضرت مولانا شاہ محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
زیادہ بولنے ، زبان آرائی اور چرب زبانی کے نقصانات کے بارے میں
ارشاد فرماتے ہیں ” کہ زیادہ بولنے میں بزرگوں نے یہ نقصان دیکھا کہ اس کے ہوتے ہوۓ گناہوں
سے بچنامشکل ہے ۔ چنانچہ مشاہدہ ہے کہ جو لوگ زیادہ بک بک کرتے ہیں، وہ جھوٹ اور غیبت میں ضرور مبتلا ہو جاتے ہیں، اور کثرتِ کلام کے ساتھ ہر بات سوچ کر کرنا ( جو تدبیر ہے زبان کے گناہوں سےبچنے کی دشوار ہے۔ اور اگر بالفرض کوئی شخص گناہوں سے بچا بھی رہا تو ایک نقصان سے کسی طرح بچ ہی نہیں سکتا۔ وہ نقصان یہ ہے کہ کثرت کلام سے دل مردہ ہو جا تا ہے ،ظلمت پیدا ہوتی ہے ،قساوتِ قلب پیدا ہوتی ہے اور یہ وہ بلا ہے کہ جس کے بعد کسی گناہ میں مبتلا ہوجانا بھی بعید نہیں ۔ ساری طاعات کا مدارحیاتِ قلب پر ہے ۔ نیک کاموں میں توفیق نورِقلب سے ہوتی ہے اورتمام معاصی کا منشاء قساوت وظلمت قلب ہی ہے ۔ جب قلب میں حیات و نور ہی نہ رہا، بلکہ اس کے بجاۓ قساوت وظلمت پیدا ہوگئی تو اب یہ شخص سب گناہوں کے لئے قابل ہو جاتا ہے ۔ پس کثرتِ کلام کے ساتھ گناہوں سے بچنا چند دن کا ہوتا ہے ۔ پھر معاصی کی طرف میلان ہونے لگتا ہے”۔
(العلم والعلماء ، صفحہ ۳۰۷)
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
مَکْتَبُ الصُّفَّهْ : دینی تعلیمی ادارہ
مقصد : نئی نسل کے ایمان کا تحفظ
Maktabus Suffah Ⓡ
👇🔻👇🔻👇🔻👇
www.MSuffah.com
https://telegram.me/MSuffah
https://youtube.com/@msuffah
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
♡ ㅤ ❍ㅤ ⎙ㅤ ⌲
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ