خطاب جمعہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔13/ جون 2025
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کے نمایاں پہلو
حضرت مولانا محمد قمر الزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ
دوستو بزرگو اور بھائیو!
حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل نبی تھے ، ان کا لقب خلیل اللہ تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق خاندان ابراہیمی سے تھا ، آپ اسی خاندان کے چشم و چراغ تھے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ابتلاء، امتحانات اور آزمائشوں سے گزری ، لیکن ہر موقع پر انہوں نے رضا و تسلیم کا ثبوت دیا اور پھر سرخ رو ہوئے اور پوری انسانیت کے لئے ایک اسوہ اور نمونہ چھوڑ گئے ۔
ان کی سب سے بڑی آزمائش
اس وقت پیش آئی، جب اللہ تعالٰی نے خواب میں انہیں اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کا حکم دیا ، فلما بلغ معہ السعی قال یا بنی انی آری فی المنام انی اذبحک فانظر ماذا تری ،،
پھر جب وہ یعنی اسمعیل ان کے دوڑنے کی عمر کو پہنچا تو ابراہیم نے کہا اے میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں ہو ، تمہاری رائے کیا ہے ؟
یہ خواب حضرت ابراہیم کو بار بار دکھایا گیا ، چونکہ انبیاء کے خواب بھی وحی کے درجے میں ہوتے ہیں ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یقین ہوگیا کہ یہ محض خواب نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے ۔ باپ بیٹے کے درمیان اس وقت جو گفتگو ہوئی اور جو مکالمہ ہوا ، دنیا کی سب سے حیرت انگیز اور سب سے تاریخ ساز گفتگو اور مکالمہ اس کو قرار دیا جاسکتا ہے ، ظاہر بیں نگاہیں اس پر یقین ہی نہیں کرسکتیں کہ بھلا کوئی باپ اپنے چہیتے بیٹے کو کیسے قربان کرسکتا ہے ؟
بہرحال قرآن مجید نے اس واقعہ اور مکالمہ کو من و عن بیان کیا ہے ۔
قربانی کا یہ واقعہ نہایت سبق آموز اور ایمان افروز ہے ،یہ واقعہ ایثار ،اطاعت توکل اور قربانی جیسے اوصاف کا مظہر ہے، جو مومن کے لئے مشعل راہ اور خضر راہ ہے ۔
باپ بیٹے کی یکساں رضا یہ مثال ہمیں سکھاتی ہے کہ نسلوں کے درمیان اطاعت الٰہی کا تسلسل ہی اصل کامیابی ہے ۔
حضرت ابراہیم و اسمعیل علیھیما السلام کی یہ قربانی کا واقعہ اور عمل ایمان و یقین اور اطاعت و فرمانبرداری کے ساتھ امت مسلمہ کو ہر سال یہ سبق سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا کے لئے ہر چیز قربان کی جاسکتی ہے ۔
روح قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں ہے ،بلکہ اپنی خواہشات ،انا اور دنیاوی محبتوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا پر قربان کرنے کا نام ہے ۔
یہ عظیم واقعہ نہ صرف ایک تاریخ ہے ،بلکہ ایک پیغام ہے کہ حق تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا جوئی کے لئے اگر دل میں خلوص اور سچائی ہو تو سب سے بڑی آزمائش امتحان اور ابتلاء بھی راحت میں بدل جاتی ہے ،
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ قربانی رہتی دنیا تک کے ایمان والوں کے لئے ایثار، قربانی، صبر، توکل، اور اطاعت کی زندہ مثال ہے ۔
حضرات !
آج قربانی کے ایام گزرے ہوئے تین چار دن ہوچکے ہیں ، آج قربانی کے بعد کا یہ پہلا جمعہ ہے ۔ آج کے اس دور انتشار میں جہاں کفر و شرک اور ظلم و طاغوت شباب پر ہے اور ہر جانب مفاد پرستی کا دور دورہ ہے ،خود غرضی اور انا پرستی ہر ایک دل میں رچ بس گئی ہے ، بزدلی اور مداہنت عام ہے ، مال کی محبت اور موت سے ڈر کی وبا عام ہے ۔ ایسے میں ضرورت ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کا تذکرہ کیا جائے ،ان کی زندگی کے نمایاں پہلوؤں پر روشنی ڈالی جائے ، آج کی اس محفل میں ہم سیرت براہیمی کا ذکر کریں گے، تاکہ اس کی روشنی میں ہم سب اپنے ایمان و عمل کو مضبوط کرسکیں اور بزدلی ڈر و خوف کے ماحول سے اپنے کو نکال سکیں ۔
دوستو ،بزرگو اور بائیو!
اسلام کی تاریخ ایثار و قربانی کی تاریخ ہے ذوالحجہ کی مہینہ ہمیں زندہ رہنے کے لئے قربانی کی یاد دلاتا رہتا ہے، قربانی بلاشبہ سنت ابراہیمی ہے، لیکن اس کا مقصد یہ ہے کہ ہم اسلام کی سر بلندی کے لئے جان و مال سمیت ہر قربانی کے لئے تیار رہیں۔ عیدالالضحیٰ کے موقعہ پر جانوروں کی قربانی اسی بڑے جذبہ ایثار کی سالانہ مشق ہے۔ ! دنیا میں انسان کو تین چیزیں سب سے زیادہ عزیز ہوتی ہیں۔ جان، اولاد اور مال، لیکن جب ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شخصیت کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں خوشگوار حیرت ہوتی ہے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے جان، مال اور اولاد سب کچھ پیش کر دیا۔
جان
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور میں بتوں کی پوجا عروج پر تھی، لوگ اللہ تعالیٰ کو بھول کر اس کی پیدا کردہ اشیاء کے سامنے جھکنا شروع ہو گئے تھے، ان حالات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انسانیت کو خدائے واحد کی عبادت کا درس دینا شروع کیا، آپ کی جرأت اور حق پر مبنی آواز نے وقت کے ظالم، جابر اور بت پرست حکمران نمرود کو پریشان کر دیا۔ چنانچہ اس ظالم حکمران نے اقتدار اور حکومت کے نشے میں آکر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اپنے خصوصی مشیروں اور درباریوں سے مشورہ کر کے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے کا عزمِ مصمم کر لیا، اور اس مقصد کی تکمیل کے لئے ایک وسیع و عریض میدان میں لکڑیاں اکٹھی کر کے آگ جلائی گئی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آسمان سے باتیں کرتی ہوئی آگ کی نظر کر دیا گیا، لیکن اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا، چنانچہ آگ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ٹھنڈی اور سلامتی والی بن گئی۔ قرآن مجید کے الفاظ ہیں۔
قُلْنَا یٰنَارُکُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰٓی اِبْرٰھِیْمَ o (الانبیآء 69:21)
ہم نے فرمایا: اے آگ! تو ابراہیم پر ٹھنڈی اور سراپا سلامتی ہو جا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام جس طرح آتشِ نمرود میں کود پڑے اور جس استقامت، بلند ہمتی اور اولوالعزمی کا مظاہرہ کیا وہ ایثار و قربانی کی تاریخ کا بے مثال واقعہ ہے۔
اولاد
جان کے بعد اولاد کا نمبر آتا ہے اس حوالہ سے بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا کردار نسلِ انسانی کے لئے بہترین نمونہ ہے۔ حاضرین محترم! اولاد کسے پیاری نہیں، انسان اولاد کے لئے اپنا آرام و راحت قربان کر دیتا ہے، اور مشکل برداشت کرتا ہے لیکن اولاد کو تکلیف پہنچانا گوارہ نہیں کرتا، انسان اولاد کو ہر آسائش مہیا کرتا ہے اولاد کے پاؤں میں کانٹا چھب جائے تو والدین تڑپ اٹھتے ہیں اور پھر قرآن مجید میں مال اور اولاد کو فتنہ یعنی آزمائش بھی قرار دیا گیا ہے۔ لیکن جب حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اولاد کی قربانی طلب کی گئی تو آپ نے اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے گلے پر چھُری رکھ دی۔ شیطان نے ہر ممکن کوشش کی کہ آپ قربانی سے باز آ جائیں مگر وہ اللہ کے خلیل کے عزم کے سامنے بے بس ہو گیا، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا: قرآن مجید یوں بیان کر رہا ہے۔
قَالَ یٰبُنیَّ اِنِّیْ اَرٰی فِی الْمَنَامِ اَنِّیْٓ اَذْبَحُکَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰی
۔ بیٹے میں نے خواب میں دیکھا کہ تجھے ذبح کر رہا ہوں بتا تیری کیا مرضی ہے؟ تو عظیم اور سعادت مند بیٹے نے جو جواب دیا وہ آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے، اور بلاشبہ سعادت مند بیٹوں کا یہی جواب ہوا کرتا ہے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے عرض کی
قَالَ یٰٓاَبَتِ افْعَلْ مَا تُوْمَرُ ز سَتَجِدُنِیْٓ اِنْ شَآءَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ o (الصّٰٓفّٰت 102:37)
اے میرے ابا جان! آپ کو جو حکم ملا ہے وہ پورا کریں مجھے آپ عنقریب ان شاء اللہ صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے، شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال ؒ نے جب آیت کی تلاوت کی تو پکار اُٹھے۔
یہ فیضان نظر تھا یا مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندگی
جب دونوں باپ بیٹا تیار ہو گئے تو باپ نے بیٹے کے گلے پر چھُری چلا دی۔ بہرحال حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ اللہ تعالیٰ نے جنت سے ایک دُنبہ بھیج دیا اور وہ ذبح ہو گیا۔ غیب سے آواز
آئی وَ نَادَیْنٰہُ اَنْ یّٰٓاِبْرٰھِیْمُ o قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْ یَا اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ o اِنَّ ھٰذَا لَھُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ o وَفَدَیْنٰہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ o وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ o (الصّٰٓفّٰت۔37 .104تا108)
اور ہم نے پکارا، اے ابراہیم! تو نے خواب سچا کر دکھایا ہم نیک کار وں کو یوں ہی جزا دیتے ہیں، بے شک یہ صریح (واضح) آزمائش تھی ہم نے اس کا فدیہ ذبحِ عظیم کے ساتھ کر دیا اور اسے بعد والوں میں باقی رکھا۔
مال
حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے تھے آپ اپنا مال لوگوں کی خدمت میں خرچ کرتے تھے۔آپ مہمانوں کی خدمت کیا کرتے تھے۔ آپ کی مہمان نوازی کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے۔
وَلَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَآ اِبْرٰھِیْمَ بِالْبُشْرٰی قَالُوْا سَلٰمًا(ط) قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ o (ھود 69:11)
اور بیشک ہمارے فرستادہ فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوشخبری لے کر آئے، انہوں نے سلام کہا، ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی (جواباً) سلام کہا، پھر (آپ علیہ السلام نے) دیر نہ کی یہاں تک کہ (ان کی میزبانی کے لئے) ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔ علامہ غلام رسول سعیدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ اس آیت سے مستفاد(اس آیت سے فائدہ حاصل ہوا) کہ میزبانی کے آداب میں سے ہے کہ مہمان کو جلدی کھانا پیش کیا جائے اور جو چیز فوراً دستیاب ہو اس کو پیش کر دیا جائے۔ اس کے بعد دیگر لوازمات پیش کیے جائیں اگر اس کی دسترس میں ہوں، اور زیادہ تکلفات کر کے اپنے آپ کو ضرر میں نہ ڈالے اور یہ کہ مہمان نوازی کرنا مکارم اخلاق، آدابِ اسلام اور انبیاء اور صلحا کی سنتوں اور ان کے طریقوں میں سے ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے مہمان نوازی کی (تبیان القرآن)الغرض حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پُوری زندگی ایثار و قربانی سے عبارت ہے۔ آج ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہم بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے قدم قدم پر دین کی سر بلندی، عظمت اور معاشرہ میں ایثارو قربانی کے پاکیزہ جذبات کو فروغ دیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!
نوٹ/ مضمون کا آخری حصہ حافظ محمد صدیق ساقی کے مضمون سے ماخوذ و مستفاد ہے ۔
خطاب جمعہ : سلسلہ وار
✍ منجانب: مکتب الصفه اچلپور کے مختلف شعبوں میں سے ایک شعبہ (خطیب حضرات کا معاون: خطاب جمعہ ) اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سےتشکیل دیا گیا تھا۔ الحمداللہ ادارہ اب تک مکمل 74 خطاب ارسال کر چکا ہے. ہر ہفتے سلسلہ وار خطاب جمعہ حاصل کرنے کے لیے مذکورہ گروپ سے جڑیں اور علماء کرام و خطیب حضرات کو بھی اس گروپ سے جڑنے کی دعوت دیں ۔
📌 نوٹ : (اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ ائمہ حضرات تک پہنچانے کی کوشش کریں، یہ نیکی اور خیر کے کاموں میں تعاون ہوگا۔ )
ٹیلی گرام چینل میں شامل ہونے کے لئے اس لنک کا استعمال کریں
https://t.me/MSuffah
آن لائن مطالعہ کرنے کے لیے اس لنک پر جائیں
https://msuffah.com/khitabe-jumah/