حضرت مولانامحمد قمر الزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ
دوستو بزرگو اور بھائیو!
قوموں کی ترقی کا راز ان کی نئی نسل کی صالح تربیت میں مضمر ہے۔ نئی نسل ہی وہ سرمایہ ہے ،جس پر کسی بھی قوم کا مستقبل قائم ہوتا ہے۔ اگر بچوں کی ذہن سازی، کردار سازی، دینی و اخلاقی تعلیم کے ساتھ علمی ترقی پر بھی توجہ دی جائے، تو وہ قوم دنیا میں سرخرو ہوتی ہے۔
قرآن مجید میں سورہ تحریم میں یہ حکم دیا گیا ہے
،،یا ایھا الذین آمنوا قو انفسکم اھلیکم نارا،،کہ اے ایمان والو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال( متعلقین) کو جہنم کی آگ سے بچاؤ ۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ انسان کا خود اچھا عمل کرنا ہی کافی نہیں ہے ، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے بال بچوں کی اچھی تربیت کرے ،اس لئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ اپنے آپ کو بھی دوزخ سے بچانے کی تدبیر کرے اور اپنے متعلقین کو بھی ،چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بچہ دس سال کا ہو جائے تو نماز نہ پڑھنے پر اس کی سرزنش کرو ـ (ابو داؤد کتاب الصلاۃ)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلہ میں بنیادی بات فرمائی کہ تم میں سے ہر شخص اپنے زیر اثر لوگوں کے بارے میں جواب دہ ہے،، کلکم راع و کلکم مسئول عن رعیتہ (بخاری کتاب النکاح)
لیکن افسوس کہ آج ہندوستان میں خاص طور پر اولاد کی تربیت اور مسلم نوجوانوں کی تربیت بہت بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے اور اس راہ میں بہت زیادہ کوتاہی اور بے توجہی پائی جاتی ہے، اس راہ میں یقینا بہت سے مشکلات و مسائل بھی ہیں اور ہر مشکل ہمارے راستے کی رکاوٹ ہے ، لیکن یاد رہے زندہ قوموں کے لئے خطرے کی چیز راستے کی رکاوٹ نہیں ہوتی ، خطرے کی بات ایک زندہ انسان کے لئے یہ ہے کہ وہ مقصد اور منزل بھول جائے، ہدف کو پانے کی کوشش نہ کرے ، اور مادیت اور آرام پسندی کی کو مقصد زندگی بنا لے ، یاد رہے اہل ہمت کبھی حوصلہ اور ہمت نہیں ہارتے ،ان کا عزم مصمم اور ان کا مضبوط و مستحکم ارادہ ہر مشکل کو آسان بنا دیتا ہے ۔
دوستو بزرگو اور بھائیو!
اسلام میں تربیت کا مقصد صرف علم دینا نہیں, بلکہ ایک متوازن شخصیت اور مضبوط و مستحکم سماج اور خوش گوار ایمانی و روحانی معاشرہ تیار کرنا ہے جو:
خالق سے رشتہ مضبوط رکھے،
مخلوق سے حسنِ سلوک کرے،
علم و اخلاق کا پیکر ہو،
اور دنیا و آخرت دونوں کی کامیابی کی راہ پر گامزن ہو۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔” (بخاری)
آج تربیت کی راہ سے جو مسائل و مشکلات ہمارے سامنے ہیں،اور مسلم معاشرہ کی جو تصویریں ہمارے سامنے ہے، وہ کچھ اس طرح سے ہیں ۔
1. تعلیمی پسماندگی:
مسلم معاشرہ تعلیم میں دیگر قوموں سے پیچھے ہے، سرکاری اعداد و شمار اور سچر کمیٹی کی سفارشات سے یہ بات بالکل واضح ہوگئی ہے۔
اسکول چھوڑنے کی شرح ہمارے سماج میں سب سے زیادہ ہے۔
خاص طور پر مسلم بچیوں کی پردہ کے ساتھ تعلیم کا نظم و نسق صدر کے برابر ہے، اور ان کی اعلیٰ تعلیم کی شرح بہت کم ہے۔
2. دینی و اخلاقی انحطاط:
دینی تعلیم کو ثانوی حیثیت حاصل ہے۔
مساجد و مدارس سے نوجوانوں کا تعلق کمزور ہو چکا ہے۔
جھوٹ، بے حیائی، بدکلامی اور والدین سے بدسلوکی عام ہے۔
3. میڈیا اور انٹرنیٹ کا منفی اثر:
شوشل میڈیا اور فحش ویب سائٹس نئی نسل کو بگاڑ رہی ہیں۔
موبائل کا غیر ضروری استعمال ذہنی اور روحانی کمزوری پیدا کر رہا ہے۔
4. مخلوط نظام تعلیم اور بے پردگی:
تعلیمی اداروں میں لڑکوں اور لڑکیوں کے اختلاط سے اخلاقی بے راہ روی جنم لیتی ہے۔
پردے کے اسلامی اصولوں کو پامال کیا جا رہا ہے۔
5. والدین اور گھر کی غفلت:
والدین دینی ماحول فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔
گھر میں تربیتی نشستیں اور دینی گفتگو کا فقدان ہے۔
6. اسلامی اداروں کا زوال:
مدارس و مکاتب کا دائرہ محدود ہو چکا ہے۔
جدید تقاضوں کے مطابق نصاب اور طریقہ تدریس اپڈیٹ نہیں ہو رہا ہے۔
حل اور لائحہ عمل:
1. دینی اور عصری تعلیم کا امتزاج:
ایسا تعلیمی نظام رائج کیا جائے جس میں دینی تعلیم اور عصری علوم ساتھ ساتھ ہوں، اور مخلوط تعلیم سے بچنے کے لیے لڑکیوں کی تعلیم کا علیحدہ نظام ہو۔
ماڈل اسلامی اسکول قائم کیے جائیں ،جو کردار سازی پر توجہ دیں اور جہاں عصری تعلیم دینی ماحول میں ہو، اس کا بہترین انتظام ہو ، نیز عصری تعلیم کے ساتھ ایک گھنٹہ دینیات اور اسلامی تربیت کا ضرور ہو۔
2. خاندان کا مضبوط کردار:
والدین گھر میں دینی ماحول پیدا کریں۔
بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، ان سے بات کریں، ان کی دوستیاں، کتابیں اور دلچسپیاں جانیں۔
3. اسلامی تربیتی مراکز کا قیام:
شہروں اور قصبوں میں اسلامی تربیت کے مراکز ہوں جہاں نوجوانوں کی ذہنی و روحانی تربیت ہو۔
ویک اینڈ پر اخلاقی کلاسز، قرآنی نشستیں اور سیرت ورکشاپس ہوں۔
4. میڈیا کا مثبت استعمال:
یوٹیوب، انسٹاگرام، واٹس ایپ پر اسلامی، علمی اور اخلاقی مواد فراہم کیا جائے۔
نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے خطرات سے باخبر کیا جائے۔
5. اساتذہ اور ائمہ کا کردار:
اساتذہ محض مضمون پڑھانے والے نہ ہوں بلکہ بچوں کے کردار کے معمار ہوں۔
مساجد کے ائمہ بچوں و نوجوانوں کو جوڑنے کی منصوبہ بندی کریں۔
6. بچیوں کی تعلیم و تربیت:
بچیوں کو پردہ، حیا، عفت و عصمت کا درس دیا جائے۔
ان کی تعلیم کے ساتھ گھریلو تربیت، تربیتِ امومت اور دینی شعور پر زور دیا جائے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نئی نسل کی تعلیم و تربیت کو محض اسکولوں کے حوالے نہ کریں, بلکہ ایک ہمہ جہتی منصوبہ بندی کے ساتھ معاشرے، والدین، علماء، اساتذہ اور تعلیمی ادارے مشترکہ کردار ادا کریں۔ جب تک ہم نئی نسل کو قرآن و سنت کی روشنی میں تربیت یافتہ نہیں بنائیں گے، نہ دنیا میں کامیاب ہو سکتے ہیں نہ آخرت میں۔
کیونکہ "قوموں کی بقاء اُن کے نوجوانوں کے کردار پر موقوف ہے، اگر نوجوان بگڑ گئے تو قوم تباہی کے دہانے پر ہوگی!
دوستو بزرگو اور بھائیو!
اس وقت مسلمانوں کا سب سے اہم مسئلہ نئی نسل کے ایمان اور ان کی تہذیب و شائستگی اور ان کی زبان کی حفاظت کا ہے ، کہ مسلمانوں کو دین سے قریب اور شریعت سے واقف کیسے کرایا جائے اور کیسے امت کو شریعت سے وابستہ اور پیراستہ رکھا جائے ؟ یاد رہے ایمان کی حفاظت جان کی حفاظت سے بھی زیادہ ضروری ہے ، یہی وہ ایمانی حس ہے جس کا سر رشتہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے جذبئہ پیغمبرانہ سے جاکر ملتا ہے کہ انہوں نے بوقت دم واپسیں اپنی اولاد سے پوچھا تھا ،، ماتعبدون من بعدی ،،میرے بعد تم کس کی عبادت کروگے ؟
آج ہم سیاسی و معاشی حالات پر گفتگو کرتے ہیں ، معاشی مسئلے کے حل کی تدبیریں ڈھونڈتے ہیں ، بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاری پر گفتگو کرتے ہیں، فساد اور فرقہ وارانہ ماحول کا چرچا کرتے ہیں ، یقینا یہ بھی بہت ضروری ہے کیونکہ جان کی حفاظت اور روزی روٹی کا مسئلہ ہے ۔ لیکن اس بھی زیادہ اہم مسئلہ ایمان کی حفاظت اور نئی نسل کا مسلمان باقی رہنے کا ہے ، مسلمان کسی حیوان کا نام نہیں ہے کہ جس کے لئے راتب کا مل جانا یعنی روزی روٹی کا مل جانا کافی ہو ، مسلمان تو وہ ہے جو اپنی تمام ملی اور تہذیبی امتیازات و خصوصیات کے ساتھ جینے کا عزم رکھتا ہے اور شریعت کو متاع جاں سے بھی زیادہ اہمیت دیتا ہے اور تعلیم و تربیت اور شریعت سے واقفیت کو غذا اور دوا سے زیادہ اہم اور ضروری سمجھتا ہے ، اس امت کا شیرازہ اور گل دستہ شریعت کے دھاگے سے بندھا ہوا ہے ،شریعت کو نکال دینے کے بعد شیرازہ منتشر ہو جائے گا ،اس امت کے جسم سے جان نکل جائے گی اور وہ ڈھانچہ کتنے دن بھی باقی رہے گا ؟ بے دینی اور الحاد کی صرصر اس ڈھانچے کو خس و خاشاک کی طرح اڑا لے جائے گی ۔
اس وقت اعلیٰ دینی تعلیم کے لئے یقینا بہت سے بڑے جامعات اور مدارس ہیں، لیکن یہ کافی نہیں ہیں ، یہ مدارس یقینا دین کے قلعے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ایک بڑی تعداد بلکہ اکثریت ان بچوں کی ہے جو بچے اسکول و کالج میں پڑھتے ہیں اور مدرسہ اور مکتبہ کا رخ بھی کبھی نہیں کرتے، اصل میں ان کی دینی تعلیم و تربیت کی فکر کا مسئلہ ہے ، اسکول میں بچوں کا داخلہ کرانا وہ بھی ضروری ہے کہ ہر میدان میں مسلم بچے پیش رفت کریں، لیکن صرف اسکولوں میں بچوں کو داخل کرا دینے کے بعد مطمئن ہوکر بیٹھ جانا یہ تو خطرے کا الارم ہے اور بے شعوری کی علامت ہے ، وہاں کا ماحول کس قدر زیر آلود ہے اور کس طرح آئے دن ارتداد کے واقعات پیش آرہے ہیں یہ سب عیاں و بیاں ہے، اس لیے بچوں کی دینی تعلیم کے لئے ہر مسجد میں مکتب اور دینی تعلیم کا انتظام ضروری ہے، جہاں ان کو بنیادی دینی تعلیم کیساتھ اردو کو پڑھانے کا بہترین نظم ہو تاکہ بچے بعد میں بھی دینی کتابوں کے مطالعے کا اہتمام کریں اور دین کو سیکھنے کی کوشش کریں ۔
دوستو بزرگو اور بھائیو!
شرعی اعتبار سے تو ایسے ملک میں اور ایسے خطے میں رہنے کی اجازت بھی نہیں ہے، جہاں ایمان والوں کو دین سے وابستہ رہنا مشکل اور ناممکن ہو، اسلام میں ہجرت کا فلسفہ اسی لئے ہے ۔اس لئے ایسے ملک میں مسلمانوں کو باشعور رہنا اور باشعور بنانے کی فکر اور کوشش کرنا ضروری ہے اور بچوں کی دینی تعلیم و تربیت کی فکر و اہتمام کرنا مسلمانوں پر ضروری ہے، تاکہ بچے دین و شریعت پر مضبوطی سے قائم رہیں اور ان کے ایمان و عقیدہ کا کبھی سودا نہ ہوسکے ۔اس کے لیے جو بھی صورتیں اپنائی جاسکتی ہیں اس کو اپنانا ہمارے لئے ضروری ہے ۔۔۔
ہندوستانی مسلمانوں کے لیے دین سے واقفیت اور شریعت سے وابستگی حصار بھی ہے اور ہتھیار بھی اور آہنی دیوار بھی ، آج ہم مسلمان اس ملک میں ایک دوراہے اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں ،ایک راستہ تیذیبی ارتداد اور بے حیائی کی طرف لے جاتا ہے اور دوسرا راستہ عزت و سر بلندی کی طرف ، عزت و احترام اور سربلندی شریعت اور دین سے وابستگی میں مضمر ہے ، اس لیے ہم مسلمانوں کو یہ ثابت کرنا ہے کہ ہم زندہ قوم ہیں اور ملک و ملت کی نفع رسانی کے لیے ہم پیدا کئے گئے ہیں ،، ہم کوئی دیوالیہ قوم نہیں ہیں ، اس لیے نفع رسانی کے اس عمل کو ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں اور اپنی اس ذمہ داری کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے ۔
دوستو !
اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ دینی تعلیم کے ساتھ مسلمانوں کے لیے عصری تعلیم بھی بے حد ضروری ہے ، کیونکہ ہم کو اقتصادی اور معاشی اعتبار سے بھی مضبوط ہونا ہے اور ہر میدان میں امت کے لئے نافع بننا ہے، معاشیات یہ ریڑھ کی ہڈی ہے ، لیکن یہ بات بھی یاد رہے اگر ہم مسلمان عقیدہ و عمل کے اعتبار سے مسلمان ہی نہیں رہے، تو پھر ان کوششوں کا کیا حاصل اور ان دنیاوی نعمتوں اور عیش و عشرت کا کیا فائدہ ؟
اس لئے سب سے اہم اور ضروری کام یہ ہے کہ تعلیم میں کوئی تفریق نہ ہو ، لیکن نئی نسل کے ایمان و اسلام کی حفاظت کا بنیادی کا کام ہم اولین سمجھیں اور اس کو سب پر ترجیح دیں ،کیونکہ اس سے غفلت اور بے توجہی یہ وہ جرم ہے جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی ۔
آج جو سرکاری نصاب ہے اور وہاں کا جو ماحول ہے اور اس میں جو زہر ناکی ہے، اس کا تریاق مہیا کرنا بھی والدین اور مسلم معاشرہ کی ذمے داری ہے ۔ ببول کے سائے میں بیٹھنا ایک مجبوری ہے لیکن اس کے کانٹوں سے بچنا اور بچانا بھی ضروری ہے ۔
ہمارے آباؤ اجداد اور ہمارے پروجوں نے جو دین جو دینی سماج اور جو دینی معاشرہ جو تعلیمی نظام اور جو زبان و ادب کی محنت ہم تک پہنچایا ،اب ہماری باری ہے کہ ان روایات کو ،اس ورثہ کو ہم نئی نسل تک پہنچائیں ،ایمانی کیفیات اور ایمانی ماحول پیدا کرنے کے لئے قرآن فہمی اور آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کا ہر ممکن تدبیر اور کوشش کریں ،دینی کتابوں کے مطالعے کا ماحول فراہم کریں ۔مسجدوں کو بھی عبادت کیساتھ تعلیم و تربیت اور دین کی نشر و اشاعت کا ذریعہ بنائیں، مسجد نبوی اور صفئہ نبوی کو مثال بناییں، علماء اور مشائخ کی دینی حلقے قائم ہوں اس کا بھی انتظام کریں، اور تعلیم کا حلقہ اور ماحول اس قدر بنائیں کہ امت خواندہ کا کوئی فرد ناخواندہ نہ رہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان باتوں پر بھر پور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین
نوٹ / اس خطاب جمعہ کو مختلف مراجع اور تحریروں کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے ۔
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
مَکْتَبُ الصُّفَّهْ : دینی تعلیمی ادارہ
مقصد : نئی نسل کے ایمان کا تحفظ
Maktabus Suffah Ⓡ
👇🔻👇🔻👇🔻👇
www.MSuffah.com
https://telegram.me/MSuffah
https://youtube.com/@msuffah
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
♡ ㅤ ❍ㅤ ⎙ㅤ ⌲
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ