خطاب جمعہ 82 حضرات حسنین رضی اللہ عنہما کا کردار اور اسوہ امت کے لئے نمونہ

حضرات حسنین کے یہ دونوں اسوے اور کردار قیامت تک کے لئے ایسے سنہرے نقوش ہیں جو نقش لافانی ہیں ۔

اس سے کوئی حقیقت پسند انکار نہیں کرسکتا کہ اس میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے تدبر سے زیادہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ایثار کا حصہ ہے ۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا یزید بن معاویہ کے مقابلے میں آنا بھی اس لئے نہیں تھا کہ آپ کے دل میں حکومت و خلافت کی حرص لالچ اور طمع تھی ۔ اس لئے کہ آپ کو جو حضور سے نسبت کا شرف حاصل تھا وہ ہزار حکومت اور خلافت پر بھاری تھا اور اس نسبت کے مقابلہ میں حکومت و خلافت کی کوئی حیثیت نہیں تھی ۔ اس پر ہزار حکومتیں قربان اور نچھاور تھیں ۔ آپ کا اقدام اور یہ پیش قدمی صرف اس لئے تھی کہ آپ محسوس کر رہے تھے کہ اب خلافت حکومت اور بادشاہت کا رخ اختیار کر رہی ہے ۔ اور خلافت کے لئے جو معیار ،صفات اور کسوٹی ہے اور جو شرائط اور حدود ہیں ان کو بالائے طاق رکھ کر ایک شخص تخت خلافت پر متمکن ہو رہا ہے ۔ کیوں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے یہ صاف محسوس کرلیا کہ یزید کی حکمرانی سے ایک نئے طریقہ کار کا آغاز ہو رہا ہے، جس میں خلفائے راشدین کے عہد کے اصول و ضوابط اور قدر و روایات کا فقدان ہے اس لئے آپ نے یزید کے خلاف مزاحمت کی ۔ اس وقت جتنے جمہور اور کبار صحابہ تھے ،ان کو بھی اس نئے طرز حکمرانی سے سخت اختلاف تھا ،جتنا حضرت حسین کو لیکن بہت سے صحابہ نے فتنہ کے اندیشہ سے خاموشی اختیار کی اور بعض نے امت کو اختلاف سے بچانے کے لئے بہ کراہت خاطر مجبوری میں اس نئی طرز حکومت کو تسلیم کرلیا ۔لیکن اگر سارے لوگ اس پر راضی ہو جاتے اور وہی رویہ اختیار کرتے اور کسی طرف سے مزاحمت نہ ہوتی تو آئندہ یہ بات سمجھی جاتی اور یہ منفی پیغام سامنے آتا کہ اسلام میں خلافت علی منہاج النبوة کے ساتھ عہد جاہلیت کی مروجہ ملوکیت کی بھی گنجائش ہے، اور یہ کہ اصل اسلام کا تعلق صرف عبادت ریاضت نماز روزہ اور زکوٰۃ و حج و قربانی سے ہے ، باقی حکومت کیسی بھی چلے اس سے دین و شریعت کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔
۔ اس لئے حضرت حسین نے اس کے لئے مزاحمت ضروری سمجھا اور اپنی اور خاندان کی جان اس راہ میں شہادت کے لئے پیش کردی ۔ تاکہ دنیا کو یہ پیغام پہنچے کہ انسان کو حق کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے میں بھی ہچکچانہ نہیں چاہئے ، انسان کو چڑھتے سورج کا پجاری نہیں ہونا چاہیے۔ اور یہ یقین لوگوں میں پیدا ہو جائے کہ

شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن

نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
دوستو!
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی زندگی اور ان کی شہادت سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ مومن کو کبھی بھی مخالف ماحول سے مرعوب و متاثر نہیں ہونا چاہیے اور نا ہی اس سے گھبرانا چاہیے ۔ بیعت یزید کے وقت ایک بڑی تعداد صحابہ کرام کی وہ تھی جنھوں نے رخصت پر عمل کیا اور فتنہ سے بچنے کے لئے سکوت کا راستہ اختیار کیا یا بیعت کے لیے راضی ہوگئے ۔ لیکن حضرت حسین رض نے اور ان کے خاندان کے لوگوں نے عزیمت کی راہ اپنائی جو دل گردے والوں کا کام ہوتا ہے۔
حضرت حسین رض کی زندگی اور طرز زندگی سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ مومن کو حق کے دفاع اور تحفظ کے لیے ظاہری اسباب پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے اور تعداد و اسلحہ سے مرعوب و متاثر نہیں ہونا چاہیے ۔ یہ الگ بات ہے کہ توکل و بھروسہ کے ساتھ ظاہری اسباب کی بھی فکر ایمان کا ہی حصہ ہے ۔
حضرت حسین رض کی زندگی سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ مصیبت ہو یا کہ خوشی، امن کا ماحول ہو یا خوف کا ہر حال میں مومن کو احکام الٰہی کا پابند ہونا چاہیے ۔ عین معرکہ میں بھی حضرت حسین رض اور ان کے رفقاء نے نماز ترک نہیں کیں ۔ دعوت الی اللہ اور حق کی سربلندی کے لئے ہم سب کو بھی اپنی سہولتوں اور آرام و آسائش کو قربان کرنا چاہیے ۔اس لئے کہ اسلام تو اسی قربانی کا نام ہے ۔ مسلمانوں کی زندگی بھی اس طرح کی قربانیوں سے معمور رہنی چاہیے ۔
شہادت حسین رض کے ذریعہ صرف اس عہد کا غرور و ملوکیت ہی چکنا چور نہیں ہوئی، بلکہ پوری تاریخ نے اسلام کے آفاقی پیغام کو ایسے انداز میں پیش کیا کہ حق و باطل کے درمیان ایک حد فاصل کھینچ گیا ۔
حضرت حسین کی زندگی نے ہمیں یہ پیغام دیا کہ مومن کو نامساعد اور ناموافق حالات میں بھی حق پر جمے رہنا چاہیے اور حق سے وابستگی میں کبھی کمزوری نہ آنے دینا چاہیے ۔
اور سب سے بڑا پیغام یہ ملتا ہے کہ آدمی کو حق اور دین حق سے اس درجہ وابستگی ہونی چاہیے کہ وہ حق کے لیے جان قربان کرنے سے بھی گریز نہ کرے اور اگر جان کی قربانی دے کر دین حقہ کی حفاظت کی جاسکتی ہو تو اس میں کسی طرح پس و پیش نہ کرے ۔
نوٹ: اس مضمون کی تیاری میں مختلف کتابوں اور مراجع سے استفادہ کیا گیا ہے، خاص طور پر حضرت مولانا محمد منظور نعمانی رح کی کتاب معارف الحدیث جلد ہشتم اور استاد محترم جناب مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے ایک مضمون سے جو سال گزشتہ یا اس پہلے بھی انہی تاریخوں میں جمعہ ایڈیشن منصف میں شائع ہوا تھا ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔