خطاب جمعہ 79 قربانی کی روح، حقیقت اور پیغام

یہ رتبئہ بلند ملا جن کو مل گیا

باپ اور بیٹا دونوں انسانی عظمت اور شرف کے اعلیٰ مقام پر پہنچے اور اس کے سب سے بڑے ترجمان اور نمائندے تسلیم کر لئے گئے ۔ ایک نے ذبح عظیم کا خطاب حاصل کیا ،باپ نے بڑے فرماں بردار بندہ کے خطاب سے سرفرازی پائی ، ابراہیم علیہ السلام کی پوری نسل اور اسلام کے ماننے والے تمام لوگوں کو اس بے مثال قربانی کی یاد تازہ کرنے کا حکم ملا تاکہ رضائے خداوندی کے اس عظیم الشان مظاہرے کی اسپرٹ اور روح ہمیشہ زندہ اور تابندہ رہے ۔
لیکن افسوس کہ آج ہم قربانی تو کرتے ہیں ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے شعار کو تو اپناتے ہیں ۔ لیکن ہماری یہ قربانی رسمی ہوتی ہے ۔ حقیقی قربانی نہیں، آج قربانی کا نام صرف جانور خردینا اور ذبح کرکے گوشت کھانا اور تقسیم کرنا رہ گیا ہے ۔ روح نکل گئی ۔ جسم باقی رہ گیا ۔ خدا کی حاکمیت کا تصور دل سے نکل گیا اور صرف رسم و نمائش اور رواج باقی رہ گیا ۔
ایک وہ تاریخ تھی ،ایک وہ واقعہ تھا ایک وہ قربانی تھی ،جسے دو افراد نے مل کر جنم دیا اور ساری دنیا میں اور سارے عالم میں سعادتوں اور برکتوں کی راہ کھول دی تھی اور ایک ہماری قربانی ہے اور ہمارا واقعہ ہے جو حج اور عید قرباں کے نام سے ہر سال پیش آتا ہے، اور پوری دنیا کے کے کروڑوں افراد پر مشتمل ایک عظیم الشان قوم نکبت و زوال اور انحطاط و تنزلی کے خوفناک چکر سے نہیں نکل پاتی ۔ ایک بے عمل قوم کا جو حال اور انجام ہونا چاہیے وہ ہو رہا ہے ۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اصل اور حقیقت سے منھ موڑ لیا ہے اور رسم و رواج اور نمائش کو اپنا وطیرہ بنا لیا ہے ۔
ہماری نگاہیں کب کھلیں گی ؟۔ اور ہم کب قربانی کی روح اور اسپرٹ کو زندہ کرکے ایک زندہ اور قابل تقلید قوم کب بنیں گے؟ قربانی کے ایام اور قربانی کی تاریخ آنے سے پہلے ذرا ہم سب اپنا محاسبہ کرلیں اور قربانی کی روح اور اسپرٹ ہمارے اندر کیسے پیدا ہو ذرا اس کے بارے میں بھی سوچ لیں ۔۔
نوٹ/ اس خطاب جمعہ کو دوسروں کو بھی پوسٹ کریں تاکہ ائمہ و خطباء حضرات اس کی روشنی میں جمعہ میں خطاب کریں ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔