حضرت مولانامحمد قمر الزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ
کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجاز سخن
ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے
حضرات !
ظلم عربی کا لفظ ہے اور اردو میں کثرت سے استعمال ہے، لغت میں ظلم کسی بات میں کمی یا زیادتی جو عدل اور انصاف کے خلاف ہو، نا انصافی، قانونی زیادتی ، استحصال بالجبر کسی کی کوئی چیز زبردستی لے لینا، ستم ، جور و تعدی ، جفاء، غیر ضروری سختی کے معنی میں استعمال ہے، کسی چیز کو اس کے محل کے خلاف رکھنا ہی ظلم ہے۔ عربی میں اس کو یوں کہا گیا ہے ، ،،وضع الشئی علی غیر محلہ ھو ظلم ،،
قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے صاف صاف بیان کر دیا ہے کہ اللہ رب العزت ظالموں کو پسند نہیں کرتا اور ہرگز یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ اللہ رب العزت بے خبر ہیں ظالموں کے ان اعمال سے جو وہ کرتے ہیں، اللہ رب العزت نے انہیں ڈھیل دے رکھی ہے، اس دن کے لئے جس دن ظالموں کی آنکھیں پتھرا جائیں گی (ابراہیم (42) تو ظالموں کی طرف مت جھکو (ہود: 113) بایں طور کہ ان کی طرف نرمی اور محبت کے ساتھ التفات ، کرنے لگو، نہ ان کی اطاعت کرو، نہ ان سے محبت کرو اور نہ ہی ان کے ظلم پر راضی رہو، کیوں کہ بقول شاعر
کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجاز سخن
ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے
( مظفر وارثی )
قرآن مجید میں دوسری جگہ ارشاد ہے،،
جو لوگ ظلم کرتے ہیں، جلد ہی ان کو معلوم ہو جائے گا کہ انہیں کسی جگہ لوٹ کر جانا ہے (الشعراء: 227) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تم میں کا ہر آدمی نگراں ہے اور اس سے اس کی زیر نگرانی رہنے والوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا ، ان میں ایک یقیناً یہ ہوگا کہ تم نے ان کے ساتھ انصاف کیا یا نہیں ، ان پر ظلم و ستم کی گرم بازاری تو نہیں کی اور اسے اس کے بقدر عذاب و ثواب ملے گا اور اس کے اوپر جو کم از کم عذاب ہو گا وہ یہ کہ اس کے اوپر تاریکیاں مسلط کر دی جائیں گی اور وہ ایمان والوں کی طرح اس نور سے محروم ہو جائے گا، جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ مؤمنوں کا نور اس دن ان کے آگے اور دائیں طرف دوڑتا ہوگا ( الحدید (12) ابن ماجہ کی ایک روایت میں ہے کہ جو حاکم لوگوں کے درمیان انصاف نہیں کرتا ، غلط فیصلے کرتا ہے، قیامت کے دن قید کر دیا جائے گا ، فرشتے اس کو گردنیاں دیتے ہوئے لائیں گے، پھر وہ اپنے سر کو آسمان کی طرف اٹھاۓ گا ،اللہ کا حکم ہوگا کہ اسے جہنم میں ڈال دو تو اس کو ایسے دوزخ میں ڈالا جائے گا جو چالیس سال کی مسافت کے بقدر گہری ہے-( حدیث: 167) طبرانی نے اوسط میں ظالموں کے لیے ایک اور عذاب کا ذکر کیا ہے جو حاکم اور والی مقرر کیا گیا وہ اپنے ماتحتوں کے ساتھ انصاف نہیں کرتا تو قیامت کے دن اس کے ہاتھ گردن سے باندھ دیے جائیں گے اور جب تک اللہ ، ظالم حاکم اور مظلوم ما تحت کے درمیان فیصلہ صادر نہیں کریں گے، اس وقت تک وہ اسی حال میں رہے گا ( الترغیب : 461/4 ، حدیث : 3196) حضرت معقل بن یسار کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو حاکم اپنے ماتحتوں کی نگرانی بھلائی اور خیر خواہی کے جذبہ سے نہیں کرتا، وہ قیامت میں جنت کی خوشبو سے محروم ہو جائے گا (المسلم : 122/2) ابوداؤ شریف کی روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو مسلمانوں کا امیر بنایا ، پھر وہ ان کی ضرورتوں کا خیال نہیں کرتا تو وہ خود قیامت کے دن فقر وفاقہ کی حالت میں ہوگا ، ترمذی شریف میں حضرت کعب بن عجرہ کی یہ روایت موجود ہے، جس میں آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی کی ہے کہ میرے بعد کچھ ایسے حکام ہوں گے جو لوگوں پر ظلم کریں گے اور کچھ لوگ ان کے پاس جا کر جی حضوری اور خوش نودی کے لیے ان کی تائید کریں گے، ہاں میں ہاں ملائیں گے اور ان کے ظالمانہ معاملات کی حمایت کریں گے، ایسے لوگ مجھ میں سے نہیں ہوں گے، وہ میرے پاس حوض کوثر پر قیامت کے دن نہیں آسکیں گے، اس کے برعکس جو لوگ اس ظالم حاکم کی ہاں میں ہاں نہیں ملائیں گے، وہ مجھ سے حوض کوثر پر ملاقات کریں گے اور وہ ہم میں سے ہوں گے، ظالم و جابر بادشاہ اور دین میں غلو کرنے والوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت بھی نصیب نہیں ہوگی ۔ اس کے برعکس جن لوگوں نے عدل و انصاف کو رواج دیا ظلم وستم سے بچتے رہے، ایسے بادشاہ کو قیامت کے دن جس دن کسی چیز کا سایہ نہیں ہوگا، عرش کے سایے میں جگہ دی جائے گی ( البخاری : 91/1) اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: "وَنُدْخِلُهُمْ ظِلا ظليلاً (النساء: 57) ہم انہیں ایسی گنجان اور سایہ دار جگہ میں رکھیں گے جہاں آفتاب کی دھوپ کا گذر نہیں ہوگا، قیامت کے دن امام عادل کا رتبہ لوگوں میں سب سے افضل ہوگا، اللہ رب العزت کی خاص رحمت اس پر ہوگی ، بخاری شریف کی روایت ہے کہ اللہ تعالی اس شخص پر رحم نہیں کرتا جو لوگوں کے ساتھ شفقت کا معاملہ نہیں کرتا۔ (1097/2) شیطان مردود نے جن دس لوگوں کو اپنا دوست بتایا ہے اس میں ایک نمبر پر ظالم بادشاہ اور ظالم حکمراں کا نام ہے ( تنبیہ الغافلین ص : 480) ظلم کے باب میں ظالم اور مظلوم کے ساتھ ان لوگوں کا بھی احادیث میں ذکر آیا ہے جو ظلم ہوتے دیکھیں اور قدرت کے
با وجود ظالم کو نہ روکیں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے اپنے بھائی کی مدد کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم، ایک صاحب نے دریافت کیا کہ جب وہ مظلوم ہو تو میں اس کی مدد کروں گا لیکن ظالم کے مدد کی کیا شکل ہوگی ، ارشاد فرمایا: اس کی مدد یہ ہے کہ تم اس کو ظلم سے روک دو، ابن حبان کی روایت ہے کہ اللہ کا ارشاد ہے کہ میں ظالموں سے دنیا و آخرت میں ضرور بدلہ لوں گا اور اس شخص سے بھی جو کسی مظلوم کی مدد اور نصرت کی صلاحیت رکھنے کے باوجود مظلوم کی مدد نہ کرے ۔
احادیث میں مظلوم کی بددعا سے ڈرنے کا حکم دیا گیا ہے، کیوں کہ اس کی بد دعا آسمان کی طرف چنگاری کی طرح اڑ کر پہونچ جاتی ہے اور اس کے درمیان کوئی حجاب اور پردہ نہیں ہوتا، مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں، اسے چاہیے کہ اپنے بھائی پر نہ تو ظلم کرے اور نہ ہی اسے رسوا کرے ظلم اس قدر خراب چیز ہے کہ اللہ رب العزت مظلوم کے ساتھ ہوتا ہے، جب تک اس کا حق نہ ادا کر دیا جائے ، اللہ رب العزت نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ کسی کے ساتھ ظلم نہیں کرے گا۔( مستفاد از تحریر مولانا مفتی ثناء الھدیٰ قاسمی صاحب)۔
دوستو بزرگو اور بھائیو!
اللہ تعالٰی کو ظلم قطعا پسند نہیں ہے۔ وہ ظالموں کو کبھی پسند نہیں کرتے ،قرآن مجید میں اللہ تعالی نے جگہ جگہ ظلم کی شناعت اور ظالموں سے اپنی بے تعلقی و بے زاری کو واضح کردیا ہے ۔ جس طرح ایک ماں کبھی نہیں چاہتی کہ ان کی اولادیں باہم ایک دوسرے کے ساتھ ظالمانہ رویہ اختیار کریں، ان کے درمیان جور و جفا اور ظلم و ستم ہو وہ ایک دوسرے کے ساتھ ترش روی اور سختی سے پیش آئیں ۔ وہ اپنی اولاد کو باہم میل جول اور محبت و شفقت اور احترام و عقیدت کے ساتھ رہنا اور دیکھنا چاہتی ہیں ۔اللہ تعالٰی کو اپنے بندے سے ستر ماؤں سے زیادہ بڑھ کر محبت ہے وہ بھلا یہ کیوں پسند کرے کہ اس کا کوئی بندہ دوسرے بندے پر ظلم و زیادتی اور جبر و تشدد کرے ۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے کفر و شرک کے بعد ظلم کو سب سے زیادہ ناپسند فرمایا ہے، اس نے ظلم کرنے والے کے لئے بدبختی اور محرومی کا اعلان کردیا ہے و قیل بعدا للظالمین اور یہ بھی اعلان کر دیا کہ وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے یعنی ظلم کرنے والے کے لئے کامیابی و کامرانی نہیں ہے ۔ انہ لا یفلح الظالمون
حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ قول منسوب ہے کہ انہوں نے فرمایا تھا کہ شرک و کفر کے ساتھ تو حکومت چل سکتی ہے ،لیکن ظلم تشدد اور نفرت کے ساتھ حکومت نہیں چل سکتی ۔
دنیا میں جو لوگ اور حکومتیں ظلم و جبر اور تشدد و زیاتی کو اپنا وطیرہ بناتی ہیں، نفرت کی دیواریں کھڑی کرتی ہیں، وہاں کے رہنے والے اپنے جیسے انسان کو تختئہ مشق بناتے ہیں، انہیں بھوکا پیاسا رکھ کر تڑپاتے ہیں، اور اس پر پر مستزاد یہ کہ اس قوم کا مذاق بھی اڑاتے ہیں، تو ہم سمجھتے ہیں کہ ظالم لوگ آزاد ہیں اور اس کو کوئی سزا نہیں مل رہی ہے، تو ہم مایوس و ناامید ہوجاتے ہیں خدا پر ہمارا ایمان کمزور ہوجاتا ہے، ہمارے یقین و ایمان اور عقیدہ میں اضمحلال پیدا ہوجاتا ہے ۔ یہاں ہمیں غور کرنا پڑے گا اور خدائی فیصلے کی حکمتوں کو سمجھنا پڑے گا، کہ اللہ تعالی نے بعض حکمت اور مصلحت کے پیش نظر دنیا میں یہ نظام اور اصول و ضابطہ بھی بنایا ہے کہ وہ وقتی طور پر دنیا میں ظالموں اور سرکشوں کو مہلت اور ڈھیل دیتے ہیں ۔اس لئے لوگ ظلم و ستم اور جور و جفا کے راستے اور طریقہ پر چل پڑتے ہیں اور اس روش کو اپنا لیتے ہیں اور اس پر وہ خوش ہوتے ہیں کہ طاقت ہماری ہے اور دنیا میں سیاہ و سفید کے ہم مالک ہیں۔ انہیں شروعات میں یقینا مہلت ملتی ہے، انہیں ڈھیل دی جاتی ہے، لیکن پھر اللہ تعالیٰ ان کی زبردست پکڑ کرتے ہیں، پھر وہ خدا کی گرفت سے بچ نہیں پاتے ہیں ۔ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ظالم کو ڈھیل اور مہلت دئے جاتے ہیں پھر جب پکڑ کرتے ہیں تو اس کو نجات اور چھٹکارہ نہیں دیتے ۔
دوستو !
فلسطین و غزہ اور شام و لبنان اور برما و بھوٹان میں جو کچھ ہو رہا ہے اور ظلم و زیادتی اور نفرت و عداوت کی جو حد ظالم پار کر رہے ہیں؟ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے غافل ہیں اور ان ظالموں کو یوں ہی چھوڑ دیں گے؟ ہرگز نہیں ہرگز نہیں، وہ ظالم اور ان ظالموں کا ساتھ دینے والے یہ منافق اور بزدل سربراہان مملکت اور مدخلی فکر کے منافق علماء سب کے سب کیفر کردار تک پہنچیں گے اور اپنے کئے کا انجام ضرور چکھیں گے ۔
غزہ کے ان بھوک و پیاس سے تڑپتے ہوئے بچوں جوانوں،عورتوں اور بزرگوں کی آہیں ضرور ان ظالموں کو لگیں گی اور دنیا میں بھی یہ اپنے کئے کا مزہ چکھیں گے اور آخرت میں تو ان ظالموں کے لئے درد ناک عذاب ہے ہی ۔
دوستو !
ہمارے اس ملک عزیز ہندوستان میں بھی پچھلے چند دہائیوں میں اور خاص طور پر گزشتہ چند سالوں میں پورے ملک میں اور خاص طور پر بعض صوبوں اور ریاستوں میں مسلمانوں پر اور دیگر اقلیتوں پر جو ظلم و ستم اور جبر و تشدد اور ناروا سلوک ہوا ہے اور ہو رہا ہے،نفرت کا جو ماحول پیدا کیا جارہا ہے ،انسانیت کا جس طرح قتل و خون ہو رہا ہے ، مسلمانوں کے ساتھ ہجومی تشدد کے جو واقعات پیش آرہے ہیں، ان کے ساتھ جو نا انصافیاں ہو رہی ہیں، اس نے مسلمانوں کو مایوس ،کم ہمت ،پست حوصلہ اور شکست خوردہ کردیا ہے، وہ ایک طرح سے احساس کمتری اور احساس کہتری کے شکار ہوگئے ہیں ۔ وہ اپنے آپ کو لٹا پٹا محسوس کررہے ہیں ۔
ان کو مایوسی ، کم ہمتی اور پست حوصلگی سے نکالنے والے قائدین اور رہنما نہیں مل رہے ہیں ۔ یقینا قیادت کا فقدان ہے ، جو قیادت کر رہے ہیں، وہ خود اپنوں کی نگاہ میں غیر دانشمندانہ فیصلوں ، قراردادوں اور بیانوں کی وجہ سے مشکوک و متہم ہو رہے ہیں اور بعض لوگ ایسے ہیں ، دانستہ یا غیر دانستہ طور ظالم حکومت کے لئے آلئہ کار بن جارہے ہیں، اور وہ ان فرقہ پرست طاقتوں کے لئے معاون اور مدد گار بن رہے ہیں۔
دوسری طرف وہ طاقتیں اور حکومتیں جو اپنے ظلم و ستم اور جور و جفا کی وجہ سے دنیا میں سر اٹھانے کے قابل نہیں تھیں، دنیا میں جنہیں انسانیت اور مانوتا کا قاتل سمجھا جاتا تھا، آج وہ طاقتیں دنیا میں اپنی ذلت و رسوائی اور بدنامی کو چھپانے کے لئے بعض نام نہاد مسلم جماعتوں اور تنظیموں اور ان کے رہبروں و کارندوں کو لبھانے اور پھسلانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ کس طرح ان کو دام فریب میں لے کر عالمی طاقتوں کے سامنے رسوائی اور جگ ہنسائی سے بچ جائیں ۔
اس کے لئے وہ بڑی حکمت منصوبہ بندی اور چالاکی و عیاری سے بعض لوگوں اور فرقوں و مسلکوں کے لوگوں کو اپنے سے قریب کررہے ہیں ۔
اس لئے مسلمانوں کو ان سازشوں اور عیاریوں سے ہوشیار اور چوکنا رہنے کی بھی ضرورت ہے اور ان کے ارادوں اور منصوبوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔
بحیثیت مسلمان ہماری ذمہ داری ہے، ہمارا فرض ہے کہ ہم ظالموں کے ظلم کو فراموش نہ کریں ۔جس نے کبھی اپنے جرم اور ظلم پر معذرت نہیں کی اور نہ مظلوموں کے زخم پر مرحم رکھے اور نہ ان کے آنسو پوچھنے کی کبھی کوشش کی ، ہم انہیں اور ان کے ظلم و ستم کو کیسے بھول جائیں، ہم انہیں کیسے معاف کردیں؟ ۔ میرے قتل کے بعد بھی تو انہوں نے جفا سے توبہ نہ کیا ۔
دوستو بزرگو اور بھائیو!
اللہ تعالٰی نے ہم کو صرف ظلم سے بچنے کا ہی حکم نہیں دیا بلکہ اس سے بھی منع فرمایا ہے کہ ہم ظالموں کا ساتھ دیں ان کا تعاون کریں ان کی مساعدت کریں، ان کا آلئہ کار بنیں ۔
مسلمانوں کا یہ شیوہ نہیں ہے،ایک مسلمان کے لیے یہ رویہ اور طریقہ درست نہیں کہ وہ حالات سے اور ظالم اور ظالم حکومت سے اتنا خوفزدہ ہو جائے کہ ظالم کو ظالم کہنے کی بھی ہمت نہ کر پائے ۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب تم اس امت کو دیکھو کہ وہ ظالم کی ہیبت اور خوف میں یہ کہنے کی بھی ہمت نہیں کرتی کہ تو ظالم ہو تو پھر ایسے لوگوں سے دوری اختیار کر لو ۔ ( مسند احمد :۲/۱۶۳)
موجودہ حالات یہ ہیں کہ عالم اسلام میں بھی اور برصغیر میں بھی خود مسلمانوں کو ان ہی کے بعض قائدین اور رہنما مایوسی، احساس کمتری بے یقینی کم حوصلگی کا شکار بنا رہے ہیں ، ایسے حالات میں مسلمانوں کا فریضہ اور ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم اور جبر و تشدد کو فراموش نہ کریں، اپنے سرمائہ غم کو تازہ رکھیں ،ظلم کو ظلم کہیں اور ظالموں کو ظلم سے روکنے کے لئے جمہوری حدود اور آئین کے تحت پوری کوشش کریں ،عالمی برادری کے سامنے صحیح انداز سے آواز اٹھائیں اور ایسی طاقتوں کم کمزور کرنے کی جمہوری نظام میں جو طاقت ہمارے پاس ہے اس کا صحیح استعمال کریں ، اور کبھی اس پر راضی نہ ہوں کہ ہم خود مسلمان بھائی پر ظلم کرنے کی وجہ اور سبب بن جائیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ اپنے بھائی پر نہ ظلم کرتا ہے اور نہ اسے ظالموں کے حوالے کرتا ہے ۔ (بخاری )
ضرورت ہے کہ ہم مسلمان غزہ اور فلسطین کے معصوم اور بلکتے بچوں کے لیے آواز اٹھائیں جو اب بھوک و پیاس کو برداشت نہیں کر پارہے ہیں اور ہزاروں بچے، اور بوڑھے مرد و عورت روزانہ موت کا شکار ہورہے ہیں ۔
ہم اخلاقی ، جمہوری اور قانونی طور پر ان کے لیے لڑائی لڑیں، عالم اسلام کو اور برادران وطن کو بھی اس کی جانب اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعے متوجہ کریں اور یہ باور کرائیں کہ ظلم سے قوم و ملک کا نقصان ہوتا ہے ۔خدا کا غصہ بھڑکتا ہے اور پھر اس کی جانب سے قہر نازل ہوتا ہے اور زلزلے اور طوفان آتے ہیں ۔ مظلوم کی مدد نہ کرنا ، ظالم کے خلاف نہ بولنا ،خاموش رہنا اور آواز نہ اٹھانا یہ سراسر ظلم ہے ۔
نوٹ/ اس خطاب جمعہ کو زیادہ سے زیادہ ائمہ و خطباء حضرات تک پہنچائیں
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
مَکْتَبُ الصُّفَّهْ : دینی تعلیمی ادارہ
مقصد : نئی نسل کے ایمان کا تحفظ
Maktabus Suffah Ⓡ
👇🔻👇🔻👇🔻👇
www.MSuffah.com
https://telegram.me/MSuffah
https://youtube.com/@msuffah
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
♡ ㅤ ❍ㅤ ⎙ㅤ ⌲
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ