خطاب جمعہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔4/ جولائی
حضرات حسنین رضی اللہ عنہما کا کردار اور اسوہ امت کے لئے نمونہ
محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725
اہل بیت سے محبت و عقیدت اور انس و تعلق یہ مسلمانوں کے لئے لازمی ہے ،اس کے بغیر کوئی شخص صحیح معنی میں مسلمان نہیں رہ سکتا اور جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا کوئی درجہ حاصل ہو اور اہل بیت سے محبت ضرور کرے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ صحابئہ کرام رضی اللہ عنہم آپ سے سچی محبت عقیدت اور تعلق رکھتے تھے اور آپ کی نسبت پر وارفتہ تھے ۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اہل بیت سے تعلق خاص تھا ۔ اس کی شہادت کے لئے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا محبت و عقیدت سے لبریز اس جملہ پر کان لگائیے کہ ایک موقع پر بنی امیہ کا حکمران مروان حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہنے لگا کہ جب سے ہمیں آپ کی رفاقت حاصل ہوئی ہے ،مجھے آپ کی کسی بات سے ناگواری نہیں ہوئی ،سوائے اس سے کہ آپ حسن و حسین رضی اللہ عنھما سے محبت و عقیدت رکھتے ہیں ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سمٹ کا بیٹھ گئے اپنے پہلو کو بدلا اور فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر پر تھے ۔ ایک جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات حسنین رضی اللہ عنھما کے رونے کی آواز سنی ،حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا بھی ساتھ تھیں، آپ تیز رفتاری سے چل کر وہاں پہنچے اور فرمایا کہ ہمارے بیٹوں کو کیا ہو گیا ہے ؟ کیوں دونوں بچے رو رہے ہیں؟ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا نے جواب دیا عرض کیا کہ دونوں بچے پیاس کی وجہ سے رو رہے ہیں ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مشکیزے میں دیکھا تو پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا ۔ پھر آپ نے رفقائے سفر یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پانی کے بارے میں دریافت کیا سارے صحابہ پانی کے برتن کی طرف لپکے ۔ لیکن اتفاق کہ کسی کے پاس پانی موجود نہیں تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باری باری حضرات حسنین رضی اللہ عنھما کو اپنی زبان مبارک چسایا ۔ جب انہیں سکون ہوا ۔ تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطمنان اور سکون ہوا ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اسی لئے ان دونوں سے تعلق اور محبت و عقیدت رکھتا ہوں. ( طبرانی بسند صحیح، مجمع الزوائد: ۹/۱۸۰)
اس واقعہ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ صحابئہ کرام رضی اللہ عنہم گلشن محمدی کے ان شگفتہ پھولوں اور غنچہ ہائے سدا بہار و گل ہائےمشک بار کو کس نظر سے دیکھتے تھے اور ان سے کیسی سچی محبت اور عقیدت رکھتے تھے کہ ظالم حکمرانوں کا خوف اور رعب و دبدبہ بھی اس کے اظہار میں رکاوٹ نہیں بنتا ۔
امام ابراہیم نخعی رح نے ایک موقع پر کیا زبردست اور مبنی بر حقیقت بات فرمائی تھی : کہ اگر خدانخواستہ میں قاتلان حسین رضی اللہ عنہ میں سے ہوتا اور میری مغفرت بھی کردی جاتی ،نیز میں جنت میں بھی داخل کیا جاتا تب بھی مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنا کرنے سے شرم محسوس ہوتی. (حوالہ سابق )
حضرات!
حضرات حسنین رضی اللہ عنھما حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کے بطن سے پیدا ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے شوہر تھے، انہیں دونوں نواسوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک نسل کا سلسلہ آگے بڑھا ۔ حضرت فاطمہ اور حضرت علی دونوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاص تعلق اور انسیت تھی ۔ تمام صاحبزادیوں میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا جو کہ چھوٹی تھیں سب سے زیادہ چہیتی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خواتین جنت کی سردار قرار دیا اور جن کے بارے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں میں سب سے زیادہ محبت فاطمہ سے تھی ۔ حضرت فاطمہ کے بارے میں روایت میں آتا ہے کہ وہ اٹھنے بیٹھنے اور چلنے پھرنے میں حضور سے بہت مشابہت رکھتی تھیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے آپ کو جو خاص تعلق اور نسبت تھی وہ بالکل عیاں اور بیاں ہے حضرت علی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبی اعتبار سے بیحد قریب تھے ۔ اسلام لانے میں بچوں میں پہلے نمبر پر تھے اور ان چار لوگوں میں تھے جو سب سے پہلے اسلام لانے والے تھے ۔ ان کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جس کا میں دوست ہوں علی اس کے دوست ہیں ۔ گویا حضرت علی سے تعلق محبت اور انسیت کو آپ نے اپنی محبت کا معیار بنایا ۔ حضرت فاطمہ اور حضرت علی کی اولاد یعنی اپنے نواسے حضرات حسنین رضی اللہ عنھما کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دل و جان سے چاہتے تھے اگر یہ دونوں بچے روتے تو آپ بے قرار ہوجاتے اور حضرت فاطمہ سے کہتے بیٹی ان کے رونے کی وجہ مجھے تکلیف ہوتی ہے یعنی میری بے قراری بڑھ جاتی ہے، اس لئے انہیں رونے نہیں دو، ان کا خیال رکھو ۔ ان دونوں سے شفقت و محبت کا یہ عالم تھا کہ یہ دونوں بھائی بچپن میں حالت نماز میں آپ کی کمر مبارک پر چڑھ جاتے ۔کبھی دونوں پیروں کے بیچ میں سے گزرتے رہتے اور آپ نماز میں بھی ان دونوں کا خیال رکھتے ۔جب تک وہ کمر پر چڑھے رہتے آپ سجدہ سے سر نہیں اٹھاتے ۔ آپ اکثر انہیں گود میں لیتے کبھی کندھے پر سوار کرتے ان کا بوسہ لیتے انہیں سونگھتے اور فرماتے انکم لمن ریحان اللہ تم دونوں اللہ کی عطا کردہ خوشبو ہو ۔ ایسے ہی ایک موقع پر حضرت اقرع ابن حابس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میرے تو دس بیٹے ہیں، لیکن میں نے آج تک کسی کا بوسہ نہیں لیا۔ آپ نے فرمایا انہ من لا یرحم لا یرحم جو رحم نہیں کرتا اس پر بھی من جانب اللہ رحم نہیں کیا جاتا ۔ آیت تطہیر کے نزول کے بعد آپ نے حضرت علی حضرت فاطمہ اور حضرات حسنین کو اپنی ردائے مبارک میں داخل فرما کر عرض کیا : الھم ھؤلاء اھل بیتی فاذھب عنھم الرجس و طھرھم اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے گندگی کو دور فرما دیجئے اور پاک و صاف کردیجئے۔ (معارف الحدیث ہشتم صفحہ ۳۵۴)
امام ترمذی رح نے حضرت یعلی بن مرہ رح کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ حسین میرے ہیں اور میں حسین کا۔ جو حسین سے محبت کرے اللہ اس سے محبت کرے گا حسین میرے ایک نواسے ہیں ۔ ایک موقع پر آپ حضرت حسن کو اپنے کندھے پر سوار کئے ہوئے تھے اور یوں دعا کر رہے تھے ۔ اللھم انی احبہ فاحبہ اے اللہ یہ مجھے محبوب ہے آپ بھی اسے اپنا محبوب بنا لیجئے۔ (بخاری)
حضرت حسن اور حسین کو آپ نے نوجوان جنت کا سر دار قرار دیا یہ روایت بھی علماء اہل سنت کے یہاں مشہور و معروف ہے ۔ ایک موقع آپ نے فرمایا جس کو مجھ سے محبت ہوگی وہ ان دونوں سے محبت کرے گا ۔ (مجمع الزوائد عن ابی ھریرہ :۹/ ۱۸۰)
ایک اورخصوصیت حضرات حسنین کو حاصل تھی وہ یہ کہ حضرت حسن اور حسین کو جسمانی طور پر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑی مماثلت اور مشابہت تھی ۔
لیکن یہاں اس پہلو پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا حضرات حسنین سے امت کی یہ محبت اور آپ کی نگاہ میں ان دونوں کا یہ درجہ اور مقام صرف اس وجہ سے ہے کہ یہ دونوں آپ کے نواسے ہیں؟ یقینا اس میں اس نسبت کا بھی خاص دخل ہے، لیکن اس سے بڑھ کر ان دونوں کا اسوہ کردار اور عمل ہے ،جو پوری امت کے لئے ایک آئڈیل اور نمونہ ہے ۔ علماء نے لکھا ہے کہ حضرت حسن کا اسوہ یہ ہے کہ امت کو اختلاف و انتشار سے بچانے کے لئے اپنے اقتدار کی قربانی گوارا کی جائے اور ایثار سے کام لیا جائے اور حضرت حسین کا اسوہ یہ ہے کہ جب دین میں کوئی طاقت کمی بیشی کرنا چاہے اور اسلام کی صحیح تصویر کو مسخ کرنے کے درپے ہو، تو چاہے اس کے لئے اپنی رگ گلو کٹوانی پڑے اپنی اور پورے خاندان کی جان کی قربانی پیش کرنی پڑے، لیکن بہر قیمت اللہ کے دین اور شریعت کی فکری سرحدوں کی حفاظت کی جائے، آج کے حالات میں حضرات حسنین کے یہ دونوں نمونے امت کے لئے مشعل راہ ہیں ۔
حضرات حسنین کے یہ دونوں اسوے اور کردار قیامت تک کے لئے ایسے سنہرے نقوش ہیں جو نقش لافانی ہیں ۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر اقدس پر تھے اور آپ کے پہلو میں حضرت حسن تھے آپ کبھی لوگوں کی طرف دیکھتے اور کبھی حضرت حسن کی طرف اور ارشاد فرماتے : میرا یہ بیٹا سید یعنی سردار امت ہے امید ہے کہ اللہ تعالی اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کرائیں گے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشن گوئی اس وقت ظہور پذیر ہوئی جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد اہل شام حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی کمان میں آگئے اور ادھر اہل حجاز اور اہل عراق اور اہل حجاز حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ۔ عام طور پر بڑے صحابہ اور تابعین حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ۔ اور بقول عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اس وقت حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی طرف سے جو لشکر جرار ان کے ساتھ تھا قوی اور غالب امکان تھا کہ جیت ان کی ہی ہو، لیکن جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے صلح کی پیشکش ہوئی تو حضرت حسن نے اپنے بہت سے ساتھیوں کی مخالفت بلکہ ایک گونہ تشنیع کے باوجود اس پر لبیک کہا اور اپنا ہاتھ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دے دیا تاکہ مسلمانوں کی خونریزی نہ ہو ۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا یہ وہ کارنامہ ایثار اور قربانی ہے ،جس کی دوسری کوئی مثال مشکل ہے ۔ اس قربانی نے حضرت حسن کو وہ شہرت دوام اور عظمت عطا کی کہ اگر پورے عالم اسلام کے متفق علیہ تاج ور بھی بن جاتے تب بھی شاید ان کو یہ عظمت اور مقام حاصل نہ ہوا ہوتا ۔ اور لوگوں کے دلوں پر ایسی حکمرانی نہ ہوتی ۔ اس صلح کے بعد پورا عالم اسلام ایک پرچم اور ایک جھنڈے تلے آگیا ۔
اس سے کوئی حقیقت پسند انکار نہیں کرسکتا کہ اس میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے تدبر سے زیادہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ایثار کا حصہ ہے ۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا یزید بن معاویہ کے مقابلے میں آنا بھی اس لئے نہیں تھا کہ آپ کے دل میں حکومت و خلافت کی حرص لالچ اور طمع تھی ۔ اس لئے کہ آپ کو جو حضور سے نسبت کا شرف حاصل تھا وہ ہزار حکومت اور خلافت پر بھاری تھا اور اس نسبت کے مقابلہ میں حکومت و خلافت کی کوئی حیثیت نہیں تھی ۔ اس پر ہزار حکومتیں قربان اور نچھاور تھیں ۔ آپ کا اقدام اور یہ پیش قدمی صرف اس لئے تھی کہ آپ محسوس کر رہے تھے کہ اب خلافت حکومت اور بادشاہت کا رخ اختیار کر رہی ہے ۔ اور خلافت کے لئے جو معیار ،صفات اور کسوٹی ہے اور جو شرائط اور حدود ہیں ان کو بالائے طاق رکھ کر ایک شخص تخت خلافت پر متمکن ہو رہا ہے ۔ کیوں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے یہ صاف محسوس کرلیا کہ یزید کی حکمرانی سے ایک نئے طریقہ کار کا آغاز ہو رہا ہے، جس میں خلفائے راشدین کے عہد کے اصول و ضوابط اور قدر و روایات کا فقدان ہے اس لئے آپ نے یزید کے خلاف مزاحمت کی ۔ اس وقت جتنے جمہور اور کبار صحابہ تھے ،ان کو بھی اس نئے طرز حکمرانی سے سخت اختلاف تھا ،جتنا حضرت حسین کو لیکن بہت سے صحابہ نے فتنہ کے اندیشہ سے خاموشی اختیار کی اور بعض نے امت کو اختلاف سے بچانے کے لئے بہ کراہت خاطر مجبوری میں اس نئی طرز حکومت کو تسلیم کرلیا ۔لیکن اگر سارے لوگ اس پر راضی ہو جاتے اور وہی رویہ اختیار کرتے اور کسی طرف سے مزاحمت نہ ہوتی تو آئندہ یہ بات سمجھی جاتی اور یہ منفی پیغام سامنے آتا کہ اسلام میں خلافت علی منہاج النبوة کے ساتھ عہد جاہلیت کی مروجہ ملوکیت کی بھی گنجائش ہے، اور یہ کہ اصل اسلام کا تعلق صرف عبادت ریاضت نماز روزہ اور زکوٰۃ و حج و قربانی سے ہے ، باقی حکومت کیسی بھی چلے اس سے دین و شریعت کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔
۔ اس لئے حضرت حسین نے اس کے لئے مزاحمت ضروری سمجھا اور اپنی اور خاندان کی جان اس راہ میں شہادت کے لئے پیش کردی ۔ تاکہ دنیا کو یہ پیغام پہنچے کہ انسان کو حق کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے میں بھی ہچکچانہ نہیں چاہئے ، انسان کو چڑھتے سورج کا پجاری نہیں ہونا چاہیے۔ اور یہ یقین لوگوں میں پیدا ہو جائے کہ
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
دوستو!
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی زندگی اور ان کی شہادت سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ مومن کو کبھی بھی مخالف ماحول سے مرعوب و متاثر نہیں ہونا چاہیے اور نا ہی اس سے گھبرانا چاہیے ۔ بیعت یزید کے وقت ایک بڑی تعداد صحابہ کرام کی وہ تھی جنھوں نے رخصت پر عمل کیا اور فتنہ سے بچنے کے لئے سکوت کا راستہ اختیار کیا یا بیعت کے لیے راضی ہوگئے ۔ لیکن حضرت حسین رض نے اور ان کے خاندان کے لوگوں نے عزیمت کی راہ اپنائی جو دل گردے والوں کا کام ہوتا ہے۔
حضرت حسین رض کی زندگی اور طرز زندگی سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ مومن کو حق کے دفاع اور تحفظ کے لیے ظاہری اسباب پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے اور تعداد و اسلحہ سے مرعوب و متاثر نہیں ہونا چاہیے ۔ یہ الگ بات ہے کہ توکل و بھروسہ کے ساتھ ظاہری اسباب کی بھی فکر ایمان کا ہی حصہ ہے ۔
حضرت حسین رض کی زندگی سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ مصیبت ہو یا کہ خوشی، امن کا ماحول ہو یا خوف کا ہر حال میں مومن کو احکام الٰہی کا پابند ہونا چاہیے ۔ عین معرکہ میں بھی حضرت حسین رض اور ان کے رفقاء نے نماز ترک نہیں کیں ۔ دعوت الی اللہ اور حق کی سربلندی کے لئے ہم سب کو بھی اپنی سہولتوں اور آرام و آسائش کو قربان کرنا چاہیے ۔اس لئے کہ اسلام تو اسی قربانی کا نام ہے ۔ مسلمانوں کی زندگی بھی اس طرح کی قربانیوں سے معمور رہنی چاہیے ۔
شہادت حسین رض کے ذریعہ صرف اس عہد کا غرور و ملوکیت ہی چکنا چور نہیں ہوئی، بلکہ پوری تاریخ نے اسلام کے آفاقی پیغام کو ایسے انداز میں پیش کیا کہ حق و باطل کے درمیان ایک حد فاصل کھینچ گیا ۔
حضرت حسین کی زندگی نے ہمیں یہ پیغام دیا کہ مومن کو نامساعد اور ناموافق حالات میں بھی حق پر جمے رہنا چاہیے اور حق سے وابستگی میں کبھی کمزوری نہ آنے دینا چاہیے ۔
اور سب سے بڑا پیغام یہ ملتا ہے کہ آدمی کو حق اور دین حق سے اس درجہ وابستگی ہونی چاہیے کہ وہ حق کے لیے جان قربان کرنے سے بھی گریز نہ کرے اور اگر جان کی قربانی دے کر دین حقہ کی حفاظت کی جاسکتی ہو تو اس میں کسی طرح پس و پیش نہ کرے ۔
نوٹ: اس مضمون کی تیاری میں مختلف کتابوں اور مراجع سے استفادہ کیا گیا ہے، خاص طور پر حضرت مولانا محمد منظور نعمانی رح کی کتاب معارف الحدیث جلد ہشتم اور استاد محترم جناب مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے ایک مضمون سے جو سال گزشتہ یا اس پہلے بھی انہی تاریخوں میں جمعہ ایڈیشن منصف میں شائع ہوا تھا ۔