خطاب جمعہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔23/ مئی
دین میں غلو اور افراط و تفریط
حضرت مولانا محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ
دوستو، بزرگو اور دینی بھائیو!
اس دنیا میں جتنے انبیاء اور رسول آئے، سب کے سب موحد تھے، ان کے جو اصل حواریین تھے وہ سب بھی موحد تھے، ان میں غلو اور افراط و تفریط نہیں تھی، وہ دین میں غلو اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنے کے سخت محالف تھے۔ جتنے بھی باطل عقیدے اور مذھبی رسومات پیدا ہوئے، اس کی شروعات انبیاء کے زمانے کے کافی بعد میں ہوئی۔ اور یہ ان لوگوں نے کیا جو اپنی خواہش کی پیروی کرنے لگے اور دین میں غلو اور افراط و تفریط پیدا کرنے لگے اور مبالغہ آرائی سے کام کرنے لگے۔
اس امت کو اللہ تعالیٰ امت وسط بنایا، اعتدال اور توازن اس کی فطرت میں رکھا، نیز غلو سے بچنے اور پرہیز کرنے کی تعلیم دی۔ کیونکہ غلو اور افراط و تفریط انسان کے لیے باعث زحمت اور دشوار ہوتی ہے۔
اس لیے اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ غلو اور افراط و تفریط نیز مبالغہ آرائی سے کام نہ لو اس سے پرہیز کرو۔ ایسا نہ ہوکہ ایسی باتیں کہنے لگ جاو ، جن سے گمراہی کے راستے کھلتے ہیں۔ شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ لوگ یا تو رسول پر ایمان ہی نہ لائیں اور اگر لائیں بھی تو وہ اپنے رسول اور رسول کی تعلیمات کے بارے میں ایسا غلو اور افراط و تفریط کی راہ اختیار کریں کہ رسول کو خدائی کے درجہ میں پہنچا دینے میں بھی انہیں کوئی جھجک اور تامل نہ ہو اور شریعت مذاق اور کھلونا بنا دیں۔عیسائیوں نے یہی تو کیا کہ خدا کے پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا بلکہ خدا بنا کر چھوڑا اور کفر و ضلالت میں بہت دور ➖ نکل گئے۔ افسوس کہ آج ہمارے اندر افراط و تفریط اور غلو حد درجہ موجود ہے، زندگی کے تمام شعبے میں ہم اعتدال اور توازن سے ہٹ کر افراط و تفریط اور غلو کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ آئیے آج غلو کی حقیقت اور اس کے نقصانات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔
غلو کہتے ہیں دین کے کسی حکم کی اہمیت کو اس کے حقیقی درجہ سے بڑھا دینا، اور اس کے مطابق فیصلہ کرنا، غلا یغلو کے معنی بڑھنے، زیادہ ہونے ،متجاوز ہونے کے ہیں ۔ جب یہ لفظ دین کے تعلق سے آئے تو اس کا مفہوم ہوتا ہے کہ دین میں جس چیز کا جو درجہ ،مرتبہ یا وزن و مقام ہو اس کو بڑھا کر کچھ سے کچھ کر دیا جائے ۔ اس کا ایک مصدر غلاء بھی ہے جیسے غلاء السعر جس کے معنی ہیں چیزوں میں گرانی پیدا کرنا۔ اب غور کیجئے کہ اشیاء(چیزوں) کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں تو ہر شخص پریشان ہوجاتا ہے لیکن افسوس دین و شریعت میں غلو ہوجائے شخصیات کے احترام میں غلو ہو جائے شخصیت کی تعظیم میں لوگ افراط و تفریط میں مبتلا ہو جائیں تو کسی کو کوئی پرواہ نہیں اور اس کی اصلاح کی طرف کسی کو توجہ نہیں ۔ دین میں غلو آج کا بہت بڑا فتنہ ہے اور اس کی وجہ سے پوری دنیا میں انتشار ہے ۔ ادارے جماعتوں جمعیتوں اور دینی مراکز میں انتشار و ہنگامہ ہے ۔
اسی غلو اور افراط و تفریط کا نتیجہ ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں مسلمانوں کے درمیان باہم تکفیر و تفسیق کا فتنہ اپنے عروج پر ،ایک گروہ کے لوگ دوسرے گروہ کو ضال و مضل اور کافر قرار دے رہے ہیں جو لوگ محتاط تھے اور جن کے بارے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ اعتدال پر قائم ہیں اب رد عمل میں ان کے پاوں بھی ڈگمگانے لگے ہیں ۔ اور ان میں بھی غلو اور بے اعتدالی جنم لے چکی ہے ۔
اس غلو اور افراط و تفریط نے اس وقت پوری دنیا اور خاص طور پر عالم اسلام کو تباہی و بربادی کے اس مقام پر اور ذلت و رسوائی کے اس چھور اور کگار تک پہنچا دیا ہے کہ غالبا مسلمانوں پر اتنا برا ،مشکل اور پیچیدہ و دشوار وقت تاریخ میں نہیں آیا، مسلمانوں کے ہاتھوں خود اپنے مسلمان بھائیوں کا قتل، مسلم حکومتوں کے خلاف مسلح جدوجہد، دین و شریعت کی حامی منتخب حکومت کے خلاف بغاوت، علماء و مشائخ اور مذھبی پیشواؤں کا بے دردانہ قتل، جمہوری ممالک میں پرتشدد احتجاج اور قانون و آڈر کو اپنے ہاتھ میں لے لینا ،شرائط جہاد کے نہ پائے جانے کے باوجود قتل و غارت گری اور اس فساد کو جہاد کا نام دینا ،یا پر امن جدوجہد اور حکومت وقت پر درست جائز اور تعمیری تنقید کو بھی فساد فی الارض اور محاربہ کہنا ،یہ سب غلو کے مظاہر ہیں ۔ اور جو لوگ اس کا ارتکاب کر رہے ہیں اور اس عمل میں ملوث ہیں وہ دانستہ یا نادانستہ دشمنان اسلام کے آلئہ کار ہیں اور باطل طاقتوں کو مضبوط کرنے اور اسلام کوبدنام کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں ۔ ایسے لوگوں کو اسلام کے راہ اعتدال کی طرف لانا اور ان کو افراط و تفریط کے دلدل سے نکالنا علماء کرام اور اصحاب فضل و کمال کی ذمہ داری ہے ۔ ( مستفاد از کلیدی خطبہ بموقع سمینار فقہ اکیڈمی بمقام کیرلہ )
اہل کتاب کی ایک بڑی گمراہی دین میں غلو اور افراط و تفریط ہے ۔ یعنی حقیقت و اعتدال سے متجاوز ہو کر بہت دور چلے جانا ۔ اگر کسی کی محبت و تعظیم اور کسی سے عقیدت و احترام اور توقیر پر آئے تو اتنی تعظیم و توقیر کہ اسے خدا کے درجہ تک پنہچا دیا نفرت و مخالفت پر آئے تو اتنی مخالفت اور نفرت کی کہ اس کی صداقت ہی سے انکار کر دیا ۔ اگر زہد و عبادت اور ریاضت و تقشف کی راہ اختیار کی تو اتنی دور تک چلے گئے کہ رہبانت تک پہنچ گئے ۔ اگر دنیا کے پیچھے پڑ گئے تو اتنے بے چھوٹ ہو گئے کہ نیک و بد اور حلال و حرام کی تمیز ہی اٹھا دی ۔ قرآن مجید نے بھی ان کے اس غلو اور افراط و تفریط کی تصویر کشی کی ہے اور ان کو اس سے منع کیا ہے ۔ چنانچہ سورہ مائدہ میں ہے قل یا اھل الکتاب الخ کہو اے اہل کتاب اپنے دین میں ناحق غلو مت کرو اور ان لوگوں کے تخیلات کی پیروی مت کرو جو تم سے پہلے گمراہ ہوئے اور بہتوں کو گمراہ کیا ۔ اور سواء السبیل سے بھٹک گئے ۔ دوسری جگہ سورئہ نساء میں فرمایا:
اے اہل کتاب اپنے دین میں غلو نہ کرو اور اللہ پر حق کے سوا کوئی بات نہ ڈالو ۔ مسیح عیسی بن مریم علیہ السلام تو بس اللہ کے ایک رسول اور اس کا ایک کلمہ ہیں ۔ جس کو اس نے مریم کی طرف القا فرمایا اور اس کی جانب سے ایک روح ہیں ۔ پس اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور تثلیث کا دعوی نہ کرو باز آجاو یہی تمہارے حق میں بہتر ہے ۔ معبود تو بس تنہا اللہ ہی ہے ۔ وہ اس سے پاک ہے کہ اس کے اولاد ہو اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ۔اور اللہ کار ساز بس ہے ۔
یہ خطاب تو اہل کتاب یہود و نصارٰی سے کیا گیا ہے اور ان کو غلو اور افراط و تفریط سے باز آنے کو کہا گیا ہے ۔
لیکن افسوس کہ آج ہم مسلمانوں نے بھی دین میں بلکہ زندگی کے ہر شعبہ میں غلو کو داخل کر لیا ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں افراط و تفریط کے ہم لوگ شکار ہو گئے ہیں ۔ جبکہ شریعت نے جگہ جگہ ہماری رہنمائی کی ہے اور ہم کو اس سے منع کیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
ایاکم و الغلو فی الدین فانما ھلک من کان قبلکم بالغلو فی الدین ۔ دین کے معاملہ میں غلو سے مت کام لو کیوں کہ تم سے پہلے لوگوں کو دین میں غلو اور مبالغہ آمیزی نے ھلاک کر دیا ۔ (احمد ۔ نسائی)
ایک شخص نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں چھینک ماری اور کہا الحمد للہ و السلام علی رسول اللہ ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اس کا قائل ہوں کہ الحمد للہ کہیں ۔ مگر ہمیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تعلیم نہیں دی کہ الحمد للہ و السلام علی رسول اللہ کہیں ۔ ( ترمذی شریف جلد ۲/ )
یعنی اس نے جو مزید کلمات کہے وہ غلو میں شامل ہیں ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ایک دن عید کی نماز سے قبل ایک آدمی عید گاہ میں نفل پڑھنے لگا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو نفل پڑھنے سے روک دیا ۔ اس آدمی نے کہا نماز میں اتنی دیر تھی لہٰذا میں نماز پڑھنے لگا تھا اور اللہ مجھے نماز پڑھنے پر سزا نہ دے گا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں بالیقین جانتا ہوں کہ اللہ تعالی تمہیں نماز پڑھنے پر سزا نہیں دے گا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی وجہ سے ضرور سزا دے گا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
اوپر اس کا تذکرہ آچکا ہے غلو کے معنی حد سے نکل جانے کے ہیں ۔ دین میں غلو کا مطلب یہ ہے کہ اعتقاد و عمل میں دین نے جو حدود مقرر کی ہیں ان سے آگے بڑھ جائیں مثلا انبیاء کرام کی تعظیم کی حد یہ ہے کہ ان کو خلق خدا میں سب سے افضل جانے ،اس حد سے آگے بڑھ کر انہی کو خدا یا خدا کا بیٹا کہہ دینا اعتقادی غلو ہے ۔
غلو فی الدین وہ تباہ کن چیز جس نے پچھلی امتوں کے دین کو دین ہی کے نام پر برباد کر دیا ہے، اسی لئے ہمارے آقا و مولا حضرت نبی کریم صلی اللہ نے اس امت کو اس وبا سے بچانے کے لئے مکمل تدبیریں فرمائیں ۔
روایت میں ہے کہ حج کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے رمی جمرات کے لئے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ آپ کے واسطے کنکریاں جمع کر لائیں ۔ انہوں نے متوسط قسم کی کنکریاں پیش کر دیں ،آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ان کو بہت پسند فرما کر دو مرتبہ فرمایا : بمثلھن بمثلھن یعنی ایسی ہی متوسط کنکریوں سے جمرات پر رمی کرنا چاہیے پھر فرمایا : ایاکم و الغلو فی الدین فانما ھلک من کان قبلکم بالغلو فی دینھم یعنی غلو فی الدین سے بچتے رہو کیونکہ تم سے پہلی امتیں غلو فی الدین اور افراط و تفریط ہی کی وجہ سے ہلاک و برباد ہوئیں ۔
اس حدیث سے چند اہم مسائل معلوم ہوئے اول یہ کہ حج میں جو کنکریاں جمرات پر پہینکی جاتی ہیں ان کی حد مسنون یہ ہے جو متوسط ہوں ،نہ بہت چھوٹی ہوں ،نہ بہت بڑی ہوں ۔ بڑے بڑے پتھر اٹھا کر پھینکنا غلو فی الدین ہے ۔
دوسرے یہ معلوم ہوا کہ ہر چیز کی حد شرعی وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و عمل سے متعین فرما دی اس سے تجاوز کرنا غلو ہے ۔
تیسرے یہ واضح ہو گیا کہ غلو فی الدین کی تعریف یہ ہے کہ کسی کام میں اس کی حد مسنون سے تجاوز کیا جائے ۔ ( مستفاد از معارف القرآن ۲/۶۱۹/ ۶۲۰)
آج کل رمی جمرات میں حاجی لوگ جوش و جذبے سے ہاتھ میں جو چیز مل جاتی ہے مثلا جوتے چپل پٹھر اینٹ کے ٹکڑے لاٹھی وغیرہ پھینک کر شیطان کو مارتے ہیں اور اس بات کا خیال نہیں کرتے کہ اگر سامنے کسی آدمی کو لگ جائے تو وہ زخمی اور چوٹل ہوجائے گا اور ارکان کی تکمیل پر کامیابی کے بجائے کسی کے زخمی ہونے پر گنہگار بن جائے گا ۔ یہ شکل بھی دین میں غلو ہے ۔
حج کے دنوں میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ایک عورت وہ خاموش حج کر رہی ہے یعنی کسی سے بولتی نہیں ہے ۔ وجہ پوچھی تو معلوم ہوا اس نے حج کا ارادہ کیا ہے ۔ اس عورت کو فورا منع کیا گیا اور فرمایا گیا کہ ایسا جائز نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں فرمایا ۔ یہ جاہلیت کا کام ہے ۔ (بخاری باب الجاہلیہ )
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک مسجد میں نماز پڑھنے کی غرض سے داخل ہوا ۔ اذان ہوچکی تھی ۔ موذن نے الصلوۃ الصلوۃ کی ندا لگائ تو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تو پاگل ہے ۔ تیری اذان میں جو دعوت تھی کیا لوگوں کو بلانے کے لئے کافی نہ تھی ؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے مجاہد سے فرمایا ،مجھے یہاں سے لے چل کیونہ کہ یہ بدعت ہے ۔ ( ابو داؤد ج۱/ص ۷۹)
آج بر صغیر میں مسجدوں میں اذان سے پہلے اور بعد اپنی طرف سے کیا کیا اضافہ کیا جاتا ہے وہ کسی سے پوشیدہ اور مخفی نہیں اگر منع کیا جاتا ہے تو ان کو وہابی اور دیوبندی کہہ کر حق ماننے سے انکار کردیا جاتا ہے ۔ یہ وہ غلو ہے جس نے دین کی صحیح اور حقیقی تصویر کو بدل کر رکھ دیا ہے ۔ کیا ایسے لوگوں کی نگاہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث اور فرمان موجود نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے دین میں کوئی ایسا کام کیا جس کی بنیاد شریعت میں نہیں وہ کام مردود ہے ۔ (بخاری و مسلم )
حضرت امام مالک رح فرماتے ہیں کہ جو رسم و رواج صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عہد میں دین میں داخل نہ تھا وہ آج بھی دین نہیں بن سکتا ۔ وہ دین اس لئے نہیں ہوسکتا کہ وہ اگر کوئ نیکی یا کار ثواب ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس پر عمل کرتے ۔ جو نیکی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول نہیں ہے وہ در اصل نیکی نہیں بدعت ہے ۔
دین میں غلو کی ایک مثال عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم وہ واقعہ بھی ہے جس کی روایت حضرت انس رضی اللہ عنہ کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے پاس تین آدمی آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے متعلق پوچھا ۔ ان کو خبر دی گئی ۔ انہوں نے اس کو کم جانا اور کہنے لگے : ہماری نبی کے ساتھ کیا نسبت ہے ؟ اللہ تعالٰی نے آپ کے پہلے اور پچھلے گناہ بخش دئے ہیں ۔ ایک آدمی کہنے لگا کہ میں ساری رات نماز پڑھا کروں گا ۔ دوسرے نے کہا میں ہمیشہ دن میں روزہ رکھوں گا اور افطار نہ کروں گا ۔ اور تیسرے نے کہا میں عورتوں سے الگ رہوں گا اور شادی نہ کروں گا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ ان کے پاس آئے اور فرمایا : تم نے ایسی باتیں کہیں ہیں ۔ خبر دار! اللہ کی قسم میں تمہاری بنسبت اللہ سے بہت ڈرتا ہوں اور تقوی کرتا ہوں ۔ لیکن میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں ۔ نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کیا ہے ۔ جس نے میرے طریقے سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں ہے ۔ (متفق علیہ )
دین ایک قیمتی اثاثہ اور سرمایہ ہے اس عظیم اور قیمتی سرمایہ اور اثاثہ کی حفاظت کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔ دین میں بگاڑ کا بہت بڑا سبب دین میں اپنی مرضی سے کمی بیشی کرنا ہے ۔ جسے غلو کہتے ہیں ۔ دین میں غلو کرنے والے تباہ ہوتے ہیں ۔ صحیح رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں غلو کے کئ اسباب ہیں سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ دین میں ناواقفیت ۔ جب تک انسان کو دین کا صحیح علم نہیں ہوتا وہ نہیں جان سکتا کہ دین میں فرض کیا ہے سنت کیا ہے واجب کیا ہے اور مستحب کیا ہے؟ وغیرہ وغیرہ
غلو عبادات میں ہو یا شخصیات میں بگاڑ سے خالی نہیں ۔ اسی لئے ہماری شریعت تمام شعبوں میں غلو کو ناپسند کرتی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ساختہ نیکیوں کو ناپسند کرتے ہوئے صحابہ کرام کو روک دیا ۔ انسانی زندگی کے لحاظ سے غلو کی دو قسمیں ہیں ایک تقوی اور دوسرا تدین دینداری میں غلو ۔
دینی شخصیات میں غلو جنہوں اپنے دور میں دین کی نمایاں خدمت کی ہو ان کو حد سے بڑھا دینا یہ غلو فی الشخصیات ہے یعنی اشخاص میں غلو ۔ جس کو آج کی اصطلاح میں شخصیت پرستی کہا جاتا ہے ۔ آج اس غلو میں لوگ آخری حد تک پہنچ گئے ہیں اور میری نظر میں جتنے بھی اداروں اور جماعتوں و جمعیتوں میں انتشار و خلفشار ہے اس کی وجہ وہاں غلو اور افراط و تفریط ہے خاص طور پر شخصیت پرستی کا فتنہ ۔ اس فتنہ میں عوام کو تو جانے دیجئے ان سے زیادہ خواص آج مبتلا نظر آرہے ہیں ۔ شخصیت پرستی کا فتنہ انسان کو حق کہنے حق بولنے حق سمجھنے اور حق کی اشاعت سے روک دیتا ہے ۔ شخصیت پرستی کے فتنہ میں مبتلا انسان اپنے ممدوح کو گویا معصوم اور بے گناہ سمجھنے لگتا ہے اس کی تحریف و تصحیف کو اس کے غلط فکر و نظرئے کو بھی صحیح ٹہرانے کی کوشش کرتا ہے ۔ آج اس فتنہ کی سرکوبی کی سخت ضرورت ہے ۔ اگر اس پر توجہ نہ دی گئی تو حالات قابو میں نہیں آسکتے مسائل اور بڑھیں گے ۔
ایک بدترین غلو یہ بھی ہے کہ قرآن مجید کے صریح احکام کو ماننے کے بجائے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مطہرہ پر چلنے کی بجائے ائمہ اور فقہائے کرام کے اقوال کو ترجیح دی جائے ۔حالانکہ تمام ائمہ اور فقہائے کرام نے قرآن و سنت کے دامن سے وابستگی کی تاکید فرمائی اور یہ کہا کہ اگر کوئ صریح حدیث کسی مسئلہ میں مل جائے تو میرے اجتہاد کو دیوار سے دے مارو ۔
غلو کی ایک قسم اپنی مرضی اور منشا سے قرآن و سنت کی تفسیر و تشریح ہے کہ پہلے سے تصورات و نظریات قائم کر لئے جائیں اور پھر قرآن آیات اور احادیث کو اپنی تائید میں پیش کرے ۔ قرآن مجید کی تلاوت اور انداز قرآت میں بھی تکلف اور مبالغہ آرائی سے کام لینا اور خوش الحانی کے مظاہرے میں قوائد و ضوابط کو بالائے طاق رکھ دینا یہ بھی غلو ہے ۔
نفلی عبادات اور نمازوں میں اس قدر اہتمام کرنا کہ تہجد گزاری تو ہو لیکن فجر کی نماز جماعت سے نہ ملے اور اکثر ایسا ہو یہ بھی نماز میں غلو ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالی کبھی بیزار نہیں ہوتا ۔ اس وقت تک بیزار نہیں ہوتا جب تک کہ تم خود بیزار نہ ہو ۔ مداومت اختیار کرو ۔ اللہ کے پاس سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ عمل وہ ہے جس میں مداومت ہو ۔ (بخاری و مسلم )
غلو اسے بھی کہتے ہیں کہ جمعہ یا عیدین میں خطبہ یا نماز کو بہت طویل کرنا کہ جس بیمار ضعیف اور عورتوں کو تکلیف ہو ۔ایک مرتبہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے اور ایک کسان آپ کے مقتدی میں تھے حضرت معاذ نے پہلی رکعت میں سورہ بقرہ پڑھآیا اور پھر اگلی سورہ پڑھنے لگے یہ کسان تھک گئے اور انہوں نماز توڑ کر خود سے نماز پڑھی اور سوگئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے سبب پوچھا ۔ انہوں نے عرض کیا : یارسول اللہ! میں محنت کرکے آتا ہوں اور تھک جاتا ہوں ۔اتنی لمبی نماز مجھ سے نہیں پڑھی جاتی ۔ آپ نے حضرت معاذ سے فرمایا : کہ تم کیا فتنہ برپا کرنا چاہتے ہو؟
لمبا خطبہ دینا اور لمبی نماز پڑھانا سنت نہیں یہ بھی غلو ہے ۔
غرض اسلام نے ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں افراط و تفریط اور غلو سے منع کیا ہے اور غلو کے خطرناک نتائج سے امت کو آگاہ کیا ہے ۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور تین بار فرمایا ھلک المتنطعون غلو کرنے والے ہلاک ہوگئے ۔ (صحیح مسلم) متنطعون ان لوگوں کو کہتے ہیں جو حد اعتدال سے تجاوز کر جاتے ہیں اپنے اقوال و افعال اور افراد و شخصیات اور ممدوح سے محبت و عقیدت میں غلو مبالغہ اور افراط و تفریط سے کام لیتے ہیں ۔
علماء اور اہل علم نے غلو اور افراط و تفریط کے جو نقصانات بیان کئے ہیں ان میں سے چند یہ ہیں ۔ غلو انسان کو شرک اور بدعت میں مبتلا کر دیتا ہے اللہ تعالی سے دور کر دیتا ہے اور جہنم میں پہنچا دیتا ہے ۔ غلو اور افراط و تفریط کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ اپنے عمل کو ہمیشہ جاری نہیں رکھ پاتا بلکہ تنگ آکر بسا اوقات ترک بھی کر دیتا ہے ۔ غلو اس بات کی علامت ہے کہ انسان کا ایمان اور اس کی عقل کمزور ہے اور اس پر شیطان نے تسلط جما لیا ہے ۔
غلو انسان کی جہالت اور فہم دین میں قلت کی دلیل ہے ۔ غلو انسان کو شیطانی وساوس میں ڈالتا ہے ۔ غلو کرنے والے کا دل تنگ ہوکر حزن و ملال میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔
اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ ہم سب کو اعتدال کی راہ نصیب فرمائے اور پوری امت کو غلو افراط و تفریط اور تمام گناہوں سے محفوظ رکھے آمین
خطاب جمعہ : سلسلہ وار
✍ منجانب: مکتب الصفه اچلپور کے مختلف شعبوں میں سے ایک شعبہ (خطیب حضرات کا معاون: خطاب جمعہ ) اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سےتشکیل دیا گیا تھا۔ الحمداللہ ادارہ اب تک مکمل 74 خطاب ارسال کر چکا ہے. ہر ہفتے سلسلہ وار خطاب جمعہ حاصل کرنے کے لیے مذکورہ گروپ سے جڑیں اور علماء کرام و خطیب حضرات کو بھی اس گروپ سے جڑنے کی دعوت دیں ۔
📌 نوٹ : (اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ ائمہ حضرات تک پہنچانے کی کوشش کریں، یہ نیکی اور خیر کے کاموں میں تعاون ہوگا۔ )
ٹیلی گرام چینل میں شامل ہونے کے لئے اس لنک کا استعمال کریں
https://t.me/MSuffah